36.1 C
Delhi
May 21, 2024
Hamari Duniya
Breaking News قومی خبریں

امن ہی دنیا کے تمام مسائل کا حل، امن کا پیغام لیکر اپنے گھروں کو واپس لوٹیں: شیخ ڈاکٹر اسماعیل بن قاسم

دہلی میں امن عالم کانفرنس کا پہلا دن، کئی عالمی شخصیات کی شرکت ،سلام کو عام کرنے کی تلقین

نئی دہلی (ایچ ڈی نیوز)۔

آج دنیا کو امن کی ضرورت ہے،امن پر عملی کام کرنے کی ضرورت ہے، امن ہی دنیا میں پیدا ہونے والے تمام مسائل کا حل ہے۔ امن عالم کے پلیٹ فارم پر ہم دنیا کو لانا چاہتے ہیں اس لئے ہم نے شہداء کے مشن پر پوری دنیا میں کام کررہے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار آج یہا ں دارالحکومت دہلی میں منعقدہ امن عالم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وولڈ شہداء کونسل کے چیئرمین و بانی ڈاکٹر شیخ اسماعیل قاسم نے کیا۔

انہوں نے کہا امن پر کام کرنے کے لئے اس وقت کسی کے پاس وقت نہیں ہے ۔لیکن اب امن دنیا کی ضرورت بن گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا آج کل دنیا میں امن وامان کا بہت بڑا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔اس دنیا میں کون ایسا ہو گاجو امن و آشتی اور سکون و سلامتی نہیں چاہتا ہو۔اپنے جسم و جان ،خاندان اور عزت و آبرو کی سلامتی سب کو عزیزہے۔امن کاآرزو مند ہونا انسان کی فطرت میں داخل ہے ،اس لئے ہر وجود امن اور سلامتی چاہتا ہے کیونکہ امن و سلامتی معاشرہ، افراد، اقوام اور ملکوں کی ترقی و کمال کیلئے انتہائی ضروری ہے۔

عالمی امن کانفرنس

اسی طرح اگر تمام اسلامی عبادات اور معاملات سے لے کر آئین اور قوانین سیاست و حکومت تک کا بغور جا ئزہ لیاجائے تو ان تمام چیزوں سے امن و سلامتی اور صلح و آشتی کا عکس جھلکتا ہے جو اسلام کا مقصود و مْدعا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نہ صرف امن کا حامی اور دعویدار ہے بلکہ قیام امن کو ہر حال یقینی بنانے کی تاکید بھی کرتاہے انسان اکثر اوقات اپنی زبان اور ہاتھ دوسروں کو نقصان پہنچاتا ہے اس لئے اسے اپنے ہا تھ اور زبان پر قابو رکھنے کی ہدایت ہوئی تاکہ انسان دوسرے لو گوں کو امن و سکو ن کی نعمت سے محروم نہ کر سکے۔اسلام وہ ہے جس میں اپنے اور دوسروں کے لئے امن و سلامتی کی خو اہش اور آرزو شامل ہے۔ چونکہ اسلام اس نظام حیات کا نام ہے جس میںانسان ہر قسم کی تباہی،آفت اور بر بادی سے محفوظ رہے اور دنیا میں بھی امن و سلامتی اور صلح و آشتی قا ئم کرنے کا موجب ہو۔وہ سفر زند گی میں دوسرے افراد معاشرہ کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ چلے اور کوئی کام ایس نہ کرے جس سے معاشرے کے امن میں کوئی خلل واقع ہو۔انہوںنے کہا اسلام کے معنی اطاعت و فرمانبرداری اور سر تسلیم خم کرنے کے بھی ہو تے ہیں۔ انہوں نے کہا کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے منشا اور خوا ہش کے مطابق زندگی گزارے اور اس کی خواہش اور مرضی پر اپنی خواہش کو ترجیح نہ دے تو وہی شخص اسلام اور سلامتی کے محفوظ پنا ہ گاہ میں ہوگا۔ جہاں ہر قسم کے خطرات سے انسان سلامت رہیگا۔دین اسلام کی اساس ہی امن و سلامتی پر ہے اسلام امن کی ضمانت ہے۔ لیکن موجودہ دور میں دنیا امن وسکون کی تلاش میں سرگرداں و پریشان ہے ہر با شعور قلب و ذہن امن ہی کا متلاشی ہے جیسے یہ کوئی ایسا کھویا ہوا خزانہ ہو جو ڈھونڈنے سے مل جائیگا اس کھوئے ہوئے امن کی تلاش میں اب تک دنیا بھر میں بڑی سے بڑی تنظیمیں وجود میں آچکی ہیں اور امن کے بین الاقوامی ایوارڈز تک متعارف کروائے جا چکے ہیں اتنی تلاش کے باوجود بھی حالات ہیں کہ دن بدن بگڑتے جا رہے ہیں اور بدامنی و بے اطمینانی ایک وبا کی شکل اختیار کر گئی ہے انسانی جان تباہی و بربادی سے دو چار ہے ظلم و عدوان شباب پر ہے فرد فرد اور جماعت جماعت میں اویزش و تصادم کا سلسلہ جاری ہے ظلم و بربریت ، قتل و غارت گری اور خوں ریزی کا دور دورہ ہے پوری انسانیت سسکتی اور بلکتی نظر ارہی ہے اس بد امنی نے لاکھوں خواتین کو بیوہ کر دیا نہ جانے کتنی ہی بہنوں سے ان کے بھائی چھین لئے اور دنیا کے لاکھوں انسانوں سے ان کی مسکراہٹ چھین لی ہے۔ اس بد امنی کے دور کو امن و سلامتی کے دور میں کیسے بدلا جا سکتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ دین کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوا جائے جن کا درس انبیاء نے دیا ہے۔ اس موقعہ پردنیا کے مختلف ملکوں سے وولڈ شہداء کونسل کے جڑے لیڈروں نے شرکت کی جبکہ کانفرنس دربار اہلسنت ، آل انڈیا تنظیم علمائے اسلام کے اشتراک سے منعقد کی گئی ۔وہیں کانفرنس کو گولڈن پیرائف انٹرنیشنل نے سپونسر کیا تھا جوکہ طبی معاملات دیکھنے والی ایک چائنیز کمپنی ہے۔ اس موقعہ پر وولڈ شہداء کونسل کی جانب سے دہلی میں پیس اکیڈمی قائم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا واضح رہے یہ کانفرنس ابھی جاری ہے جس میں آج کے روز کئی انٹرنیشنل لیڈران شرکت کریں گے۔

Related posts

زمبابوے کو شکست دیکر ٹاپ پر پہنچا بھارت، سیمی فائنل میں انگلینڈ سے ہوگا مقابلہ

Hamari Duniya

کرکٹ مداحوں کو مایوس، اس خوبصورت اسٹیڈیم میں نہیں ہوگا انڈیا۔ آسٹریلیا کا میچ، یہ ہے وجہ

Hamari Duniya

وژن 2026 نے اس سال رمضان میں 30 ہزار سے زائد خاندانوں کو رمضان کٹ تقسیم کیا

Hamari Duniya