36.1 C
Delhi
May 21, 2024
Hamari Duniya
دہلی

پشت پرسوئیگی کا بیگ ٹانگے گھومتی کون ہے یہ برقع پوش خاتون؟

نئی دہلی،18جنوری(ایچ ڈی نیوز)۔

لکھنؤ کی پرانی آبادی کے ایک علاقے میں ایک مسلم خاتون کی تصویر سوشل میڈیا پر تیزی سے وائل ہو رہی ہے۔ہر شخص کو اس بات کا تجسس ہے کہ یہ برقع پوش خاتون کون ہے؟اور سوئیگی کا بیگ ٹانگ کر کیوں گھوم رہی ہے ،کیا وہ سوئیگی میں جاب کرتی ہے اور پیدل لوگوں کو کھانا سپلائی کرتی ہے؟لیکن جب اس کی جانچ کی گئی تو کہانی کچھ اور ہی سامنے آئی۔ایک جدوجہد اور ذمہ داری سے بھری کہانی،اپنے بچوں کے لئے تگ و دو اور محنت و مشقت کرنے والی ایک ماں کی کہانی،یہ کہانی کسی بھی شخص کو جذباتی  طور پر متاثر کرنے والی ہے۔

تصویر کے وائرل ہونے کے بعد ہر حساس شخص نے اپنی کمر پر بھاری سوئگی بیگ اٹھائے اس خاتون سے ہمدردی کا اظہار کرنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی یہ جاننے کا تجسس بھی بڑھ گیا کہ آخر وہ کون ہے۔  انڈیا ٹو مارو کی جانچ میں اس برقع پوش خاتون کی مکمل کہانی سامنے آئی ہے۔ میں ایک خاندان کی جدوجہد کی کہانی سامنے آئی۔اس کہانی میں دکھ، درد اور ایک خاتون کی خود اعتمادی کی کہانی ہے۔

خاتون کا نام رضوانہ ہے، اس کے 4 بچے ہیں، شوہر 3 سال سے لاپتہ ہے اور رضوانہ خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے اپنی پیٹھ پر بیگ اٹھائے ڈسپوزایبل شیشے وغیرہ فروخت کرتی ہے۔رضوانہ لکھنؤ کی ایک تنگ گلی میں رہتی ہیں  ، رضوانہ کے 10×10 کے کمرے میں ساری زندگی کا گھرانہ موجود  ہے،خستہ حال اور خستہ حال کمرہ ان کی بے بسی اور غربت کی داستان بیان کر رہی ہے۔

  • رضوانہ کی بیٹی بشریٰ نے

کہا کہ ان کی والدہ نے ان کی پرورش بہت محنت سے کی ہے اور انہیں اپنی والدہ پر فخر ہے۔ وہ ہمیشہ اپنی ماں کا ساتھ دینا چاہتی ہے۔

  • رضوانہ کو سکون ہے کہ وہ اپنی محنت کی کمائی سے اپنے بچوں کی پرورش کر رہی ہے، وہ فخر سے کہتی ہے کہ وہ کم از کم کسی سے  مانگ کرزندہ نہیں رہ سکتی

انڈیا ٹومارو  کی رپورٹ کے مطابق رضوانہ نے  بتایا کہ ان کا شوہر 3 سال سے گھر واپس نہیں آیا۔ پہلے وہ رکشہ چلاتا تھا، رکشہ چوری ہو گیا، پھر اس نے بھیک مانگنا شروع کر دی اور پھر یوں ہوا کہ وہ کبھی گھر نہیں لوٹا۔شوہر کے لاپتہ ہونے کے بعد گھر کی ذمہ داری رضوانہ پر آ گئی۔ چار بچوں کی پرورش کرنی تھی، ایک بیٹی کی شادی ہو گئی اور دوسری بیٹی چوک میں ایک دکان پر کام کرتی ہے۔ تیسری بیٹی اور ایک بیٹا چھوٹا ہے جو پڑھ رہے ہیں۔

رضوانہ ڈسپوزایبل گلاس اور کپ بیچتی ہے۔ مجموعی طور پر وہ ایک ماہ میں 5 سے 6 ہزار کما لیتی ہیں جس سے ان کے خاندان کے اخراجات پورے ہوتے ہیں۔ برقع پوش خاتون کی پیٹھ پر سوئیگی کا بیگ دیکھ کر ذہن میں یہ سوال ضرور اٹھتا ہے کہ جب وہ سوئیگی میں کام نہیں کرتی تو اس کے پاس سوئیگی کا بیگ کہاں سے آیا؟ اس سلسلے میں رضوانہ نے بتایا کہ دراصل ایک دن وہ ڈالی گنج پل کے قریب سے گزر رہی تھی، جہاں ایک آدمی سوئگی بیگ بیچ رہا تھا، چونکہ رضوانہ ڈسپوزایبل کپ اور شیشے بیچنے کا کاروبار کرتی ہے، اس لیے اسے ایک مضبوط بیگ کی ضرورت تھی۔ اس نے یہ بیگ خریدا اور اس میں اپنا سامان لاد کر گھومنے لگی۔ رضوانہ کی بیٹی بشریٰ نے کہا کہ ان کی والدہ نے ان کی پرورش بہت محنت سے کی ہے اور انہیں اپنی والدہ پر فخر ہے۔ وہ ہمیشہ اپنی ماں کا ساتھ دینا چاہتی ہے۔رضوانہ کو سکون ہے کہ وہ اپنی محنت کی کمائی سے اپنے بچوں کی پرورش کر رہی ہے، وہ فخر سے کہتی ہے کہ وہ کم از کم کسی سے  مانگ کرزندہ نہیں رہ سکتی۔

Related posts

حج رضا کارحاجی ریاض الدین نے حج کمیٹی آف انڈیا  سے  متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم  کیا

Hamari Duniya

نیپال میں خوفناک زلزلہ سے تباہی پرجمعیت اہل حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کا اظہا ر رنج وغم

Hamari Duniya

ملکی ورثے اور وجود کو محفوظ رکھیں: سید ظفر محمود

Hamari Duniya