44.1 C
Delhi
June 18, 2024
Hamari Duniya
Breaking News مضامین

مدتوں رویا کریں گے جام وپیمانہ تجھے

Aamir Saleem Khan
وصی اللہ مدنی
مولانا وصی اللہ عبدالحکیم مدنی
موت ایک اٹل اور ناقابل تردیدحقیقت ہے، اس سے کسی کو مفر اور مجال انکار نہیں اور نہ ہی وقت موعود آنے کے بعد اس میں تقدیم وتاخیر ممکن ہے بلکہ ہرذی روح اور متنفس کو موت کاجام پینا ہے، اس حقیقت کو قبول کرنے کے باوجود ہمیں اپنے عزیزوں کی وفات بہت شاق گزرتی ہے اور برسوں ان کی یاد ہمیں تڑپاتی رہتی ہے، انہی چند لوگوں میں سے ہردل عزیزوپرکشش شخصیت جوان رعنا برادرعزیزمولانا عامر سلیم خاں رحمہ اللہ کی تھی، جن کی خبر وفات نے آنکھوں کو اشکبار کردیا،دلوں کو جھنجھوڑ کررکھ دیا، درد وکرب سے چیخیں نکل آئیں ،وہ عارضہ قلب کے پہلے سے مریض تھے، ان کادل 35فیصد ہی کام کررہا تھا،10دسمبر 2022بروزسنیچر کی رات دیر گئے ان کو دل کاشدید دورہ پڑااور آپ بیہوش ہوگئے فوری طور پر آپ کو جی،بی پنت اسپتال، دہلی میں ایڈمٹ کیاگیا اور بیک وقت دوا ودعادونوں شروع ہو گیا،اللہ کے فضل و کرم سے افاقہ ہونے لگا، شفایابی کی امیدیں نظر آنے لگیں،یکایک ایک بار پہر طبعیت بگڑ گئی اور بتاریخ:12دسمبر2022ءبروزسوم بوقت دوپہرایک بج کر چار منٹ پربقضائے الہی حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے اس دارفانی سے دارباقی کی طرف روانہ ہوگئے، 
انا لله وانا اليه راجعون، تغمده الله بواسع رحمته ورضوانه
اس وحشت اثر خبرکی اطلاع مجھے برادر عزیزعبدالحسیب سلمہ نامہ نگار ہماراسماج، دہلی کے میسیج سے ملی، مزید تحقیق اور اطمینان قلب کے لیے فوری رابطہ کیا، بھرائی ہوئی آواز میں انھوں نے اس جانکاہ خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے،آج ہی بوقت8بجےشب بعد نمازِ عشاء مولانا محمد رحمانی، مدنی صدر ابوالکلام آزاد اسلامک اویکنک سینٹر، دہلی کی امامت میں مہدیان دہلی گیٹ قبرستان میں ان کی نمازجنازہ ادا کی جائے گی اور وہیں انھیں سپرد خاک بھی کیا جائے گا-
 ان شاء الله تعالى
ان کی رحلت اور فراق دائمی پر مجھے شدید صدمہ لاحق ہے، لیکن یہ نظام الہی ہے، دعائے مغفرت کے سواکوئی بندہ کرہی کیاسکتا ہے، غم واندوہ کا حال یہ ہے کہ ابھی تک میں نے ان کی یادوں اوران کے قومی وملی کاموں کو خراج تحسین پیش نہیں کرسکا،آج اپنے بعض احساسات وتاثرات اور آنکھوں دیکھا حال سپردقلم کرنے کی کوشش کررہا ہوں
برادرعزیز! 
مولاناعامرسلیم خاں رحمہ اللہ
کی پیدائش 1974ء میں صوبہ اترپردیش کےضلع بستی کی ایک غیر معروف گاؤں کونڑھا(کوہنڑا)میں ہوئی تھی، ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ 1987ءمیں  دارالحکومت دہلی آگئے، جامعہ اسلامیہ سنابل،دہلی(معهد التعليم الإسلامى)جامعہ ریاض العلوم میں داخل ہوئے اور پھر جامعہ رحیمیہ مہدیان سے فراغت حاصل کی اور فراغت کے بعد جامعہ رحیمیہ دہلی میں استاد مقرر ہو گئے۔وہ صحافتی مصرفیات کے باوجود جامعہ رحیمیہ مہدیان میں بچوں کو پڑھاتے تھے۔فارسی زبان پر ان کی گرفت  اور معلومات اچھی تھی۔
 ان کا خاندان متمول اور خوش حال تھا، وہ خوبصورت، چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ، قددرازاورایک شریف انسان تھے، سلفی عقیدہ ومنہج کے داعی اورمناد تھے، اہل حدیث کے نامور وقابل ذکر اداروں اوراساطین علم وفن سے اکتساب فیض کیا تھا، جس کوانھوں نے تاحیات باقی رکھا اور حتی المقدورزبان وقلم کے ذریعہ اس کی ترویج اور نشرواشاعت بھی کی، شخصی طور پر میں انھیں نہیں جانتا تھا، میری شناسائی اور ملاقات کا دورانیہ کم وبیش دوسال کا ہے،میرے محسن وغم گسار دوست اور جماعت کی علمی و عبقری شخصیت شیخ محترم مولانا عبدالمنان سلفی کے سانحہ ارتحال کے بعد جب ماہ نومبر2020ء میں ضلعی جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر کے عہدہ نظامت کا انتخاب نو عمل میں آیااورذمہ داران جمعیت نےکثرت رائے سے مجھے یہ عظیم ذمہ داری سونپی تو ہمارے ملک کا معروف روزنامہ “ہمارا سماج”، دہلی، میں ہمارےعزیز برادران عامر سلیم خاں رحمہ اللہ اور عبدالحسیب سلمہ اللہ نے ضلعی جمعیت کی اس خبر کو بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کیا، اس وقت سے لے کر آج تک ضلعی ومقامی جمعیات کی دعوتی و رفاہی سرگرمیوں کو ترجیحی طور شائع کیا جارہا ہے-
 15/ مارچ2021ء بروزسوم ملک نیپال کی پہلی ادبی تنظیم “انجمن ارتقائے اردوادب” نیپال کے بانی،جامعہ خدیجہ الکبری کے مشرف اداری اور جماعت کے معروف شاعرزاھدآزادجھنڈانگری نےایک مشاعرہ منعقد کیا تھا،جس میں وطن عزیزکے مشہور شعراء وادباء پروفیسر شہپررسول دھلی، 
ایم آر قاسم دھلوی،جمیل احمد جمیل، علیگڈھ ،مزاحیہ شاعر احمد علوی دھلوی، طارق منظورِ، عرفان لکھنوی،ندیم عباسی گورکھپوری ،نظام بنارسی،اختر آلہ آبادی کےعلاوہ میرے عزیز بھائی عامرسلیم خاں بحیثیت شاعر  وصحافی مدعو تھے، عامر سلیم اپنا تخلص عامر سہیل عامر دھلوی لکھتے تھے،عزیزم عبدالحسیب سلمہ عزیز موصوف کی تشریف آوری اور محفل مشاعرہ میں شرکت کی پیشگی اطلاع مجھےدے چکے تھے، کہ میرے روزنامہ اخبار”ہمارا سماج”دہلی کےسب ایڈیٹرملک نیپال کی زیارت اور مشاعرہ میں شرکت کی غرض سے جارہے ہیں، آپ وقت نکال کر لازمی طور پر ان سے ملاقات کر لیں گے،ملاقات اور دیدار کاشوق پہلے سے ہی میرے دل میں موجزن تھا،لیکن چہرے سے متعارف نہیں تھا تو عزیزم عبدالحسیب سلمہ نے ان کی تازہ ترین تصویر مجھے واٹس ایپ کردیا،تاکہ پہچاننے میں مجھے کوئی دقت نہ آئے، وقت کو میں نےغنیمت سمجھا، شیخ عبدالمنان سلفی رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادےعزیزی مولانا سعود اختر سلفی کو ہمراہ لے کران کے قیام گاہ کرشنا ہوٹل پہنچ کر ان سے ملاقات کی، باہمی تعارف کے بعد بے حد خوش ہوئے،میری بلاتکلف ضیافت کی پیش کش کوشرف قبول عطا کی اور میں نے کرشنانگر میں واقع ایک معیاری ریسٹورنٹ “ذائقہ ” میں مہمان نوازی کی،چائے نوشی کے ساتھ مختلف موضوعات پر تبادلہ خیالات بھی ہوتے رہے، مجلس بڑی قہقہہ زاررہی،دوران گفتگو انھوں نے اپنے تجربات سے آگاہ کیا، زبان وبیان، مزاج، مسلک ومذھب میں ہم آھنگی دیکھ کر کھل کر گفتگو کی اور دل کی بہت ساری باتیں زبان پرآہی گئیں، زرد صحافت اور غیر ذمہ دار صحافیوں کو بھی آڑے ہاتھ لیتے ہوئے اپنی  نامہ نگاری ورپوٹنگ اور صحافت کے بارے میں دوٹوک کہا کہ میرا اپنا جو معیار ہے،میں اس سے سمجھوتا نہیں کرتا ہوں، مثبت وسنجیدہ تحریر کے ذریعہ حق اور سچ باتوں کی نمائندگی کرتا ہوں، میرااپنا جوعقیدہ ومنہج ہے اس کی پاسداری اور نگہبانی کی کوشش کرتا ہوں اور اگر کوئی مجھے چھیڑتا ہے تو میں اپنے مخصوص وبے ضرر انداز میں اسے چھوڑتا بھی نہیں ہوں، میں جن احباب کے درمیان اپنی زندگی گزار رہا ہوں ان میں بعض کان کے کچے اور عقیدہ کے اعتبار سے انتہائی کمزور ہیں، انہیں بھی جھیلتا ہوں اور حکمت عملی کے ساتھ کتاب وسنت کی باتوں کو ان کے گوش گزار کردیتا ہوں، جماعت وجمعیت اور قابل احترام علماء کی تحریروں اور خبروں کو شائع کرتے ہوئے اپنے لیے باعث شرف محسوس کرتا ہوں، ملی وسماجی خبروں کواولیت واہمیت دیتا ہوں،اپنے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر خالد انورتیمی کے بارے میں تعریفی کلمات کہتے ہوئے کہا کہ وہ بعض پیشہ ور اخبار کے ایڈیٹر ان کی طرح نہیں ہیں، وہ کتاب وسنت کی آفاقی تعلیمات کو فروغ دینے کے قائل اور عامل بھی ہیں،چون کہ برادرم عامر سلیم خاں رحمہ اللہ خاندانی اہل حدیث تھے، اہل حدیث مدارس کے فیض یافتہ اورمتحمس ومعتبر علمائے اہل حدیث کے زیرسایہ پروان چڑہے تھے،اس لیے ان کی زبان وبیان میں سلفیت کی جھلک نمایاں تھی، نثر لکھنے کے علاوہ آپ عمدہ منظوم کلام بھی لکھتے تھے، آپ اپنےدورکے اچھے شعراء میں شمار کئے جاتے تھے،پیشگی معذرت کے ساتھ اس حقیقت کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ قدیم وجدید شاعروں کی عام سی عادت ہے کہ وہ اپنی لکھی ہوئی نظموں اور غزلوں کو بغیر سنائے ہوئے دم نہیں لے سکتے ہیں،اگر آپ سننا نہیں چاہتے ہیں تب بھی وہ آپ کو سناکر اور لفظی دادودہش لے کرہی پیچھا چھوڑیں گے،میرے عزیز موصوف نے بھی اس حسین موقع کو ضائع نہیں کیا بلکہ بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی لکھی ہوئی ایک پاکیزہ نعت سنادی اور کہا کہ ہمارے اکثراسلامی شعراء نعت گوئی میں غلو کے شکار ہوجاتے ہیں، ذرا تنقیدی نگاہ سے سنیں کہ میں بھی تو ان لوگوں میں سے نہیں ہوں،عقیدہ کے لحاظ سے اگر میرے کلام میں کہیں لچک ہو تو رہنمائی کریں، مدعوئین شعراء کے ساتھ آپ مشاعرہ میں شریک ہوئے اور نصف شب گزرنے کے بعد آپ نے اپنا کلام  باذوق سامعین کی خدمت میں پیش کر کے خراج تحسین حاصل کیا، آپ کے کلام کی خوب پذیرائی ہوئی، سینئر شعراء کی موجودگی میں زاہد آزاد جھنڈا نگری کے ہاتھوں “ابوالکلام آزاد ایوارڈ برائےصحافت دے کر آپ کی تکریم کی گئی، صبح ملک نیپال کو الوداع کہنے سے پہلے ایک بار پھر میں نے ملاقات کی، مادرعلمی جامعہ سراج العلوم السلفیہ، جھنڈا نگر،نیپال اور اس کی مثالی نسواں شاخ کلیہ عائشہ صدیقہ للبنات کی زیارت کراتے ہوئے دونوں اداروں کی علمی ودعوتی اوررفاہی سرگرمیوں سے آگاہ کیا، بانیان جامعہ اور موجودہ ذمہ داروں کی بے لوث قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے دعائیں دیں، یہی میری پہلی اور آخری ملاقات تھی، “شنیدہ کے بودمانند دیدہ “کے بمصداق ان کی سادگی وسنجیدگی، نرم خوئی اورپروقا شخصیت سے میں بہت زیادہ متاثر ہوا،ان کی علمی قابلیت اور پاکیزہ واعلیٰ صحافت کا تذکرہ احباب کی زبانی سنا تھا لیکن دیکھنے کے بعد انہیں اس سے کہیں زیادہ پایا، یہاں سے واپس جانے کے بعد وہ مجھ سے برابر رابطے میں رہے، جب بھی میں نے انہیں کال کیا فوراریسیوکیااور موبائل سے چپک گئے، نرم لب ولہجہ میں اپنائیت ومحبت کی باتیں کرتے، دیر دیر تک محوگفتگورہتے، ان کی کثرتِ مصروفیت کا مجھے ہمیشہ احساس رہتا لیکن وہ ازخود فون نہیں رکھتے جب تک میں انہیں رکھنے کے لیے نہیں کہتا تھا، ضلعی جمعیت سدھارتھ نگر کی ہرخبر کومن وعن شائع کرتے تھے،بتوفیق الہی میری جماعتی کاموں کی تحسین کرتے ہوئے حوصلہ افزاء کلمات کہتے تھے-
 *حق مغفرت کرے عجب آزاد مردتھا*
آپ جزوی تدریس کے ساتھ دارالحکومت دہلی سے شائع ہونے والا اخبارروزنامہ راشٹریہ سہارا، روزنامہ ہندوستان ایکسپریس وغیرہ سے منسلک ہوکر صحافتی امور پوری ذمہ داری کے ساتھ انجام دیتے تھے، ایک طویل عرصہ تقریباً2008ءسے تاحال معروف اخبارروزنامہ ہماراسماج، دہلی کے مختلف میقات وادوار میں اہم عہدوں پر فائز رہے، سب سے پہلے آپ ایک رپوٹر کی حیثیت سے کام شروع کئے، پہر آپ کو یکے بعد دیگے چیف رپوٹر، نیوز ایڈیٹر اور ایڈیٹر کاباوقار عہدہ تفویض کیا گیا جس کو آپ نے انتہائی عمدگی کے ساتھ نبھایااورتاحیات اس اخبار کے کامیاب ایڈیٹر رہے،اردو صحافیوں میں انتہائی مقبول اور عزیز ترین صحافی تھے، عمرعزیز کا بیشتر حصہ قومی وملی مسائل کی گتھیوں کو سلجھانے اور خبروں کی رپوٹنگ میں گزاری ہے،سال رواں  چند ماہ قبل ہماراسماج کا یوٹیوب چینل بناکر ویڈیو پروگرام کا سلسلہ شروع کیا تھا جس میں حکومت ہند سے مظلوم لوگوں کےساتھ عدل وانصاف کرنے کی باتیں کرتے تھے، تاحیات زرد صحافت اور منفی خبرنگاری سے ہمیشہ گریزکیا اور صاف ستہری وسنجیدہ صحافت کی، زبان وقلم اور حروف کی عظمت وتقدس کی پاس داری کے باعث وہ ہرمسلک ومشرب، سماجی وسیاسی اور بااثر شخصیات کی نظر میں محبوب تھے،قابل رشک صحافت وذریں خدمات کے اعتراف میں مختلف تقریبات میں دینی وسیاسی شخصیات کے ہاتھوں ایوارڈ واعزازسے بھی سرفرازکئے گئے،  ان کی مقبولیت اور ہر دل عزیزی کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ سوشل میڈیا پران کی وفات کی خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، ہر کوئی اس اندوہناک خبر سے دم بخود ہوگیا، ان کے ہزاروں عقیدت مندوں نے اپنے دلی رنج و غم کااظہار کیا، ہرچہار جانب سے حسرت ویاس اور آہ وبکاکی آوازیں بلند ہونے لگی، اللہ کے فیصلے کے سامنے سرتسلیم خم کرنے اور مغفرت کی دعا کے لیے قرابت داروں اور غم گساروں نےاپنےدونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھالیے، چند ساعتوں میں جی بی پنت اسپتال اورعارضی رہائش پراخباری نمائندوں، مدارس ومعاھد کے اہم ذمہ داروں،قومی وملی تنظیموں اور جمعیتوں کے کار پردازوں اورمخلص عقیدت مندوں  کاسیلاب امنڈآیا، خلق خدا کا یہ بڑااجتماع اور جم غفیر اس حقیقت کی عکاسی اور ترجمانی کررہا ہے کہ ہم سے جداہونے والا یہ عظیم صحافی ایک شریف اور اچھا انسان تھا، اس کی خوش اخلاقی، تواضع وفروتنی، خودداری وقناعت پسندی،خوش مزاجی،بے باکی، حق گوئی، علماء کی قدردانی، انسانیت نوازی، خور دوں پر شفقت ومہربانی،زندہ دلی وخندہ پیشانی،نوخیزقلم کاروں ونامہ نگاروں کی حوصلہ افزائی اورملی وسماجی مسائل سے دردمندی کا عینی شاہد میں بذات خود ہوں، میرے علاوہ بہت سارے انصاف پرورارباب قلم رفقاء واحباب نے ان کی موجودخوبیوں کا کھلے الفاظ میں اعتراف کیا ہےاوراپنے گہرے رنج وغم کوحوالہ قرطاس کیا ہے،
*”زبان خلق کونقارہ خدا کہیے”*
 کےبمصداق اختصار کے پیش نظر جماعت کے بعض افاضل علماء، مخلص احباب اور دانشوران قوم وملت کے توصیفی وتاثراتی اور تعزیتی کلمات ھدیہ قارئین کیا جارہا ہے:
* ڈاکٹر خالد انور*
چیف ایڈیٹر ہمارا سماج،دہلی، ایم ایل سی (بہار) 
 “عامر سلیم خا ن زندہ دل،جرا ٔتمند،بے باک ،نڈر اور بہادر صحافی تھے۔ان کا قلم ہمیشہ سچائی کا طرف دار رہتا تھا۔انہوں نے روزنامہ راشٹریہ سہارا سے اپنے صحافتی کیریر کا آغاز کیا تھا،وہ ہمیشہ دوسروں کے لئے ہی سوچتے اور کام کرتے تھے انہیں اپنی فکر نہیں رہتی تھی۔وہ میرے اچھے دوست تھے اور عمر کے آخر تک انہوں نے دوستی نبھائی-“
*مولانا محمد مستقیم خان*
چیف ایڈیٹر، سیاسی تقدیر، دہلی
“عامر سلیم خان میرے دیرنہ دوست تھے۔روز ان کا مسکراتا چہرا دیکھ کر فرحت و مسرت کا احساس ہوتا تھا۔وہ میرے گھر کے قریب رہتے تھے اس لئے بھی محبت کے رشتے میں کافی مضبوطی تھی۔”
*مولانا محمد رحمانی، مدنی* دہلی
“عامر سلیم رحمہ اللہ
 میرے اور والد گرامی رحمہ اللہ کے بڑے قدردان تھے ،صحافت کے اونچے مقام پر فائز ہونے اور صاف ستھری صحافت کا اچھا تجربہ رکھنے کے باوجود ان کے انکساری اور تواضع کا ہونا انہیں بہت سے صحافیوں سے ممتاز اور جدا کرتا ہے -یقیناً ان کی وفات سے صاف ستھری اردو صحافت کو عظیم خسارہ ہوا ہے-“
*مولانا سعوداختر سلفی، نیپال*
“عامر سلیم خاں صاحب ایک سنجیدہ فکر اور حاضر دماغ صحافی اور اپنے پیشے کے تئیں امین تھے، مجھ سے سال گزشتہ جھنڈا نگر میں اتفاقی ملاقات ہوگئی، مختصر سی ملاقات میں دل جیت لیا،  جماعت و جمعیت کے کاز سے گہری دل چسپی اور وابستگی کے باعث عقیدت میں اضافہ ہوا۔ پیشہ صحافت سے وابستگی کے باوجود سلفیت کے تئیں انتہائی متحمس اور غیرت مند تھے، آج کے طلبہ کے اندر جو فکری کج روی اور منہج سے دوری پائی جاتی ہے اس پر شکوہ کیا۔ اور کہا کہ مدارس اپنے طلبہ کی فکری تربیت نہیں کر پاتے انہیں اس جانب توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے۔”
*مولانا جمشید عالم سلفی، سدھارتھ نگر*
“بھائی عامر سلیم! 
انتہائی خلیق و ملنسار اور ہر دل عزیز تھے، بہت ہی خوش مزاج، محنتی، سرگرم اور معروف صحافی تھے،موجودہ حالات پر خاص کر ملی مسائل پر بڑے بیباک انداز میں لکھتے اور بولتے تھے-“
*مولانا عبدالمبین ندوی، ریاض العلوم، دہلی*
“بھائی عامر سلیم صاحب بہت خوش مزاج ، محنتی اور معروف صحافی تھے،  ،ہماراسماج کے کامیاب ایڈیٹر تھے ،ریاض العلوم دہلی کے پروڈیکٹ تھے ،سالانہ انجمنوں میں پابندی سے شریک ہوتے ،اسی صحافت کی راہ سے امریکہ وغیرہ کا دورہ کرچکے تھے،موجودہ حالات پر  خاص کر ملی مسائل پر کھل کر لکھتے اور بولتے تھے،دل دردمند رکھتے ،اب ہمیشہ کے لئے یہ آواز بند ہوگئی،اللہ ان کی کروٹ کروٹ مغفرت فرمائے آمین-“
*برادرم عبدالحسیب، نامہ نگار ہماراسماج،دہلی* 
“۔۔۔آپ کے اندر ملی درد و تڑپ کوٹ کوٹ کر بھری تھی، انتہائی خلیق و ملنسار تھے، چھوٹے بڑے ہر ایک کے ساتھ بڑی خندہ پیشانی سے پیش آتے، کسی پر اپنی ایڈیٹری کا رعب نہیں جھاڑتے تھے، میں نے ان کی ماتحتی میں تقریباً دس سالوں تک کام کیا ہے، مگر وہ ہمیشہ ایک دوست اور رفیق کی طرح ملتے رہے، کبھی کسی پریشانی کا شکار ہوا تو فوراً اسے دور کرنے کی کوشش کرتے، غم و تکلیف کو چہرے ہی سے بھانپ لیا کرتے تھے۔ وہ ہمارے سینئر تھے، لیکن اپنے عمل و کردار سے کبھی اس بات کا احساس ہونے ہی نہیں دیا کہ ہم ان کے ماتحت کام کرنے والے ہیں۔۔۔”
*زاھد آزاد جھنڈانگری* نیپال
“نامورصحافی عامرسلیم خاں رحمہ اللہ جیسے حلیم وبرد بار،عمدہ اخلاق واقداراورسنجیدہ فکرونظرکےحامل افراد  برسوں میں پیدا ھوا کرتے ھیں”
 *شکیل شمسی*
  عامر سلیم صاحب سادہ لباس ،خوش مزاج اردو صحافی تھے، وہ ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے کبھ غصہ نہیں دیکھا ،ان کی سرخی کو لوگ پسند کرتے تھے-
*علم اللہ، نئی دہلی*
“حالیہ دنوں میں اردو کے وہ واحد صحافی تھے جو ملت اسلامیہ ہند کے مسائل پر بیباکی کے ساتھ لکھ رہے تھے۔ ملی تنظیموں اور مسلم لیڈروں کے تعلق سے وہ ہمیشہ مثبت رخ اختیار کرتے۔ وہ کئی اخبارات کے عروج کا حصہ بنے لیکن انہیں عروج کبھی نصیب نہ ہوا۔ معمولی تنخواہ اور سادہ زندگی ان کا مقدر ٹھہری لیکن عزت خوب ملی۔ ایسی عزت ہر باعزت کو نہیں ملتی۔ 
آپ قلم کے مجاہد تھے۔ صحافت اور انشاء کے آدمی، آپ کی کہانیاں متاثر کن تھیں، آپ کے الفاظ حوصلہ افزا اور آپ کی ہمت بے مثال تھی۔ آپ نے غریبوں کو اٹھانے، اور بے آوازوں کو آواز دینے کے لیے لکھا۔آپ ایک دیانت دار صحافی تھے-“
*مولانا عبیداللہ قاسمی*
“وہ انتہائی ملنساراوردوست نوازانسان تھے ، انہیں رشتوں کو نبھانے کا ہنرآتاتھا،ان کی شخصیت میں بلاکی اپنائیت تھی، یہی وجہ ہے کہ ان سے جو ایک بارملتاتھا، انہیں کاہوکررہ جاتاتھا، موصوف کی رحلت سے اردوکی پوری صحافتی برادری سوگوارہے، وہ ایک جہاں دیدہ صحافی تھے، لوگ ان کی تحریروں کو پوری توجہ سے پڑھتے تھے، غیرجانبدارانہ طرزعمل ان کی تحریر کی خاصیت تھی اوروہ اس بات کا پوراپورا لحاظ رکھتے تھے کہ ان کی تحریر سے کسی کی دل شکنی نہ ہو-“
*شمس تبریز قاسمی*
چیف ایڈیٹر ملت ٹائمز
” حالیہ دنوں میں اردو کے وہ واحد صحافی تھے جو ملت اسلامیہ ہند کے مسائل پر بیباکی کے ساتھ اسٹوریز کررہے تھے -ملی تنظیموں اور مسلم لیڈروں کے تعلق سے ہمیشہ مثبت رخ اختیار کرتے تھے ۔ ہمارا سماج میں اداریہ بھی اہم مسائل پر تحریر کرتے تھے -“
*مولانا ندیم الواجدی*
 “وہ ملت کے مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور ملی تنظیموں و مسلم لیڈروں کے تعلق سے ہمیشہ مثبت رخ اختیار کرتے تھے-“
*سیف الاسلام مدنی*
 “وہ اپنی انفرادی معیار کی صحافت اور رپورٹنگ کے ذریعہ خاص وعام میں مقبول تھے، ملت کے مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور بڑی بےباکی کے ساتھ ہر مسئلے پر اپنی رائے رکھتے تھے، ایک بڑے عہدے پر ہوتے ہوئےایک دوسرے کا احترام کرنا اور سبھی سے محبت سے پیش آنا ان کا امتیازتھا”
*ڈاکٹر شاہد زبیری* 
“عامر سلیم خان صحافت کے اونچے مقام پر ہونے اور صاف ستھری صحافت کا اچھا تجربہ رکھنے کے باوجود انکے اندر انکساری اور تواضع کا ہونا انہیں بہت سے صحافیوں سے ممتاز اور جدا کرتا ہے-“
ان کے ایک قدردان اس طرح رقم طراز ہیں:”انہیں ہر مکتب فکر کی محبت اور شفقت حاصل تھی۔ ان کے چاہنے والوں میں کوئی ہوگا جو ان کی تدفین میں نہ آیا ہو۔ انہوں نے اپنی عمر کی نصف صدی بھی مکمل نہیں کی تھی۔ معلوم ہوا ہے کہ ان کے بچے ابھی چھوٹے ہیں- انہوں نے جس صبر و قناعت سے زندگی گزاری اس کی روشنی میں نہیں لگتا کہ کچھ پس انداز بھی کیا ہوگا۔”
آپ نے اپنی زندگی کی ابھی کل 48بہاریں ہی دیکھیں تھیں کہ آپ اس دنیا سے رخصت ہوگئے، پسماندگان میں غمزدہ بیوہ رفیقہ حیات کے علاوہ تین لڑکے “ابان “سب سے بڑاتقریبا پندرہ سال “امان” بارہ سال “ایان ” سب سے چھوٹا جن کی عمر ابھی کل چھ سال ہے-
اللہ ان سب کی حفاظت فرمائے اور انہیں صبرجمیل عطاکرے، آمین 
قابل مبارک باد اور شکریہ کے مستحق ہیں روزنامہ ہماراسماج، دہلی کے ذمہ داران و مالکان خصوصاً اس کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر خالد انور صاحب جنہوں نے انشراح صدر کے ساتھ اپنے سرگرم ومحنتی ایڈیٹرعامر سلیم خاں رحمہ اللہ کی  پوری فیملی کی مکمل کفالت قبول کرکے دوسرے صاحب ثروت اور دیگر ملی تنظیموں کے سربراہان کو یہ خاموش پیغام دیا ہے کہ آپ اپنے دل ودماغ کو کشادہ کریں، اپنے ماتحتوں کے ساتھ حسن سلوک کریں اور مجبور ومقہورافراد بے سہارا خاندانوں کو ہرممکن سہارا وسہولت فراہم کرنے کی سعی مشکور کریں، یہی دین محمدی کاپیغام ہے، یہی  انسانیت نوازی کاتقاضا اور کارثواب ہے
ھم ضلعی جمعیت اھل حدیت ،سدھارتھ نگر کے تمام عہدے داران، ذمہ داران مع ارکان عاملہ وشوری عامر سلیم خاں رحمہ اللہ کےغمزدہ اھل وعیال اور رفقاء واحباب کی خدمت میں تعزیت پیش کرتے ہیں اور لاحقہ غم میں برابر کے شریک ہیں، 
آپ تمام افراد جماعت وجمعیت سے گزارش ہے کہ عزیز موصوف رحمہ اللہ کی مغفرت اور رفع درجات کے لیے خلوص وللہیت سے دعا کریں، اللہ ان کے جملہ حسنات، علمی، دینی ،سماجی  اور صحافتی خدمات  اور مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے، بشری لغزشوں کو درگذر کرتے ہوئے جنت الفردوس کا مکین بنائے اور تمام لواحقین وپسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین.
*طالب دعا وشریک غم*
ناظم ضلعی جمعیت اور دیگر ارکان عاملہ وشوری
Mob:9453117451
Wasimadni50@gmail.Com

Related posts

شادی کے چھ ماہ بعدہی ماں بن گئیں عالیہ بھٹ

Hamari Duniya

کنگنارناوت نے کی تعریف تو کیا بولے جاوید اختر ؟

Hamari Duniya

اب ایل جی نے دیا جل بورڈ گھوٹالے پر ایف آئی آر درج کرنے کا حکم،بی جے پی نے کیا خیر مقدم

Hamari Duniya