یواے ای کا تہران کے خلاف کسی بھی طرح کی فوجی کارروائی کےلئے فضائی، زمینی یا بحری حدود کے استعمال کی اجازت دینے سے انکار
دبئی،27جنوری:خلیجی کے دو اہم ملک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جاری شدید اختلاف کے درمیان متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ وہ اپنی فضائی، زمینی اور بحری حدود کو ایران پر حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔پیر کو متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ان کا ملک اس عزم کا اظہار کرتا ہے کہ ’ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کے لیے ملک کی فضائی، زمینی اور حدود کا استعمال نہیں کرنے دیا جائے گا اور نہ ہی اس حوالے سے کسی بھی قسم کی لوجسٹیکل سپورٹ فراہم کی جائے گی۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات بات چیت، کشیدگی میں کمی، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور خودمختاری کے تحفظ کا حامی ہے۔متحدہ عرب امارات کا کا کہنا ہے کہ وہ تمام مسائل کو سفارتی طریقے سے حل ہوتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔واضح رہے متحدہ عرب امارات کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہوئی نظر آرہی ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حالیہ دنوں میں تہران کے خلاف فوجی کارروائی کا عندیہ بھی متعدد مرتبہ دے چکے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے خطے میں امریکہ کی بڑھتی فوجی موجودگی کے ردِعمل میں کہا کہ ’ایران کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد ہے۔ ایران کسی بھی جارحیت کا پہلے سے زیادہ طاقتور جواب دے گا۔‘ اپنی ہفتہ وار پریس کانفرنس کے دوران انھوں نے ایران اور اسرائیل کے درمیان 12 روزہ جنگ کا حوالہ دیا۔
انھوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کو ’نئے خطرے‘ کا سامنا ہے اور ’خطے کے ممالک بخوبی جانتے ہیں کہ علاقے میں کسی بھی قسم کی بدامنی کا ہدف صرف ایران نہیں ہوتا۔۔۔ خطے کے ممالک میں ایک مشترکہ تشویش پائی جاتی ہے۔‘ ان کے مطابق خطے میں ’جنگی بحری جہاز بھیجنے سے ایران کے اپنے ملک کے دفاع کے حوالے سے عزم یا سنجیدگی میں رتی بھر بھی خلل نہیں آئے گا۔‘
اپنی پریس کانفرنس جاری رکھتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے میڈیا کے اس دعوے کی تردید کی کہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کے درمیان کوئی پیغام رسانی ہوئی ہے۔
