18.1 C
Delhi
February 29, 2024
Hamari Duniya
Breaking News مضامین

ترکی کا زلزلہ اور ہمارا رویہ؟!

Turkiya Earthquake

Dr asif Laique Nadwi

ڈاکٹر آصف لئیق ندوی
8801589585


ترکی اور شام کے علاقوں میں ابھی پے درپے زلزلوں کیوجہ سے جو اندوہناک مناظر مختلف خبروں، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے سے ہم وطنوں  کو دیکھنے کو مل رہے ہیں،وہ نہایت دہشت ناک ہیں، اسکی ہولناکی کا صحیح اندازہ آنکھوں دیکھے حال کے مساوی نہیں ہوسکتا! اطلاع کے مطابق صرف ۶۰ سکنڈ کا یہ بھیانک زلزلہ تھا، جس نے چشم زدن میں طوفان بلا خیزبرپاکردیا، کتنی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا! پلکوں میں روزمرہ کی زندگی کے لمحات کو دہشتناک بنا دیا۔گذشتہ پیر کی صبح  ہزاروں محفوظ مکانوں اور انکے صحتمند مکینوں کو اسطرح جھنجھوڑا اورتباہ وبرباد کیا کہ کبھی انہوں نے اسکا گمان  بھی نہیں کیا تھا، جسکا بعینہ تذکرناقابل بیان ہے،جہاں ہرطرف ملبوں کا ڈھیر ہے، لاشوں کا انبار ہے،صرف ایک منٹ کے اس المناک حادثہ نے انسانی تباہی اورمالی بربادی کا جودردناک  واقعہ پیش آیاکہ قیامت کا منظر سامنے آگیا،جسکو بنا دیکھے اسکی حقیقی تصویر کشی کرنا راقم کے بس سے باہربات ہے۔ناقابل بیان دکھ ہے،جس نے کتنے افراد واشخاص کو گہری نیندسے بیدار ہوکر محفوظ مقام تک منتقل ہونے کا موقع  بھی فراہم نہیں کیا!کتنے ایسے ہیں جو بچ کر محفوظ مقام تک پہونچ پانے میں کامیاب تو ہوگئے مگر اپنے لواحقین کوہمیشہ ہمیش کیلئے کھو دئے اور بہت سے لوگ اب تک ملبے میں دبے ہیں، جنہیں زندہ  نکالنے کی انتھک کوششیں ہورہی ہیں ،اللہ سب پر رحم و کرم کا معاملہ کرے، مگر افسوس! کہ ورثاء کو تلاش بسیار کے باوجودخالی ہاتھ لوٹناپڑرہا ہےیا ہلاک شدہ لاشیں سپرد کی جا رہی ہیں، ہرطرف ماتم کا سماں ہے، خوف وہراس کا دھواں ہے، بدن میں کپکپی ہے، کوئی خون سے لت پت ہے تو کوئی زخم سے چور ہے، کتنے مہلوکین ہیں جن کا کوئی پرسان حال نہیں اورنہ انکا کوئی وارث زندہ بچ سکا ہے، تباہ شدہ علاقوں کا بہت برا حال ہے، کسی کسی کا پورا خانواداس قدرتی آفت کا شکار ہوگیاہے۔اللہ انکو شہیدوں کا مرتبہ عطافرمائے اور انکے پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ہمیں نصیحت وعبرت حاصل کرکے درست روش کا حامل بنائے۔آمین

مصیبت پر مصیبت یہ کہ وہاں زلزلوں کےزبردست جھٹکوں سے متاثر ہونے کے باوجوموسم سرماں کاقہربھی پریشا ن  کن ہے، کتنے ایسے جن کے جسم پر سوائے  ملبوس کپڑوں کے اور کوئی دوسرا کپڑا بھی میسر نہیں ہے جس سے وہ اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو شدید سردی سے محفوظ رکھ سکیں اور بنا چھت کے زیرآسمان کہیں حفاظت سے سکون حاصل کرسکیں،یقیناً متاثرہ علاقوں میں ہزاروں پناہ گاہوں کی اشد ضرورت ہے، لاکھوں لوگوں کو شدیدسردی، گرم کپڑے ،بھوک وپیاس اور بناگھر کے رہنے کے مسائل ومشکلات کا سامناہے،انہیں مختصر مدتی طور پر کہیں نہ کہیں سونے، گرم کپڑے، اشیاءخوردنی،دوا،علاج اور حرارت کی ضرورت ہے۔ یہ لوگ صدمے کا شکار ہیں اور ان کے ذہنوں پر اس المیے کے شدید اثرات بھی مرتب ہیں۔کتنوں کے رشتہ دار تباہ وہلاک ہو چکے ہیں، مکانوں کے ساتھ ساتھ سکولوں اور ہسپتالوں کو شدیدنقصان پہنچا ہے، پناہ کی جگہیں مخدوش عالم میں ہیں، کام کی جگہیں ختم ہو گئی ہیں۔ امدادی انتظامات دشوار کن مرحلے میں ہیں، سڑکوں اور ہوائی اڈوں کو فوری طور پر مرمت کی فوری ضرورت ہے۔ بہت بڑے پیمانے پر بچاؤ، حفاظتی اقدامات اور بحالی ٔ زندگی کی کارروائی کی بھی ضرورت ہے، اکیلے اردوغان کنکا کنکا دکھ درد سنے اور فورا انکا مداوا کرے، جب کہ انہوں نے بھی ہرممکن مدد کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور وہ بہت کچھ کربھی رہے ہیں،شام کی جنگ سے جان بچا کر آنے والے دس لاکھ سے زیادہ لوگ ترکی کے اسی علاقے میں عارضی پناہ لیے ہوئے ہیں جہاں زلزلہ نے خاصی تباہی مچارکھی ہےاور وہ لوگ وہاں بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

 ہمیں بلا امتیاز مذہب وملت اس اندوہناک واقعے پر اپنے شدید رنج وملال اور گہرے صدمے کا اظہار کرنا چاھئے اور ہر ممکن مصیبت زدہ لوگوں، علاقوں کی ضرورتوں اور تمام انسانوں کی مالی واخلاقی مدد کرنے کیلئے تیارہونا چاھئے۔ یہ ترکی اورشامی بھائیوں کیلئے جسطرح مصیبت کاوقت ہے اور مصیبت کے وقت اپنے بھائیوں کی مدد واعانت دوسرے دوست ممالک اور احباب ورفقا کے لئے بہت بڑا امتحان ہے اور بڑی آزمائش کا وقت بھی، کیونکہ اصلی دوست مصیبت کے وقت ہی آزمایا جاتا ہے، خدا دوسروں پرمصیبت ڈال کر ہماری انسانیت اور اسکی بھلائی کا بہت بڑا امتحان لے رہا ہے، اسی طرح یہ زلزلہ ہمارے لئے عبرت ونصیحت کا موقع بھی ہے کہ ہم متاثرین کے دکھ درد کے وقت کیسارویہ اور برتاؤ کرتے ہیں اور انکی مدد واعانت میں اپنا کتنا بڑا  حصہ پیش کرتے ہیں تاکہ خدا اسکے بدلے ہماری مصیبتوں اور آنے والی آفتوں کو اپنے فضل وکرم سے دور فرمادے، حقیقت میں ہر مصیبت وآفت خدا کی مرضی سے پیش آتے ہیں، کسی کی مصیبت اوراس کی تکلیف پر ہمارابے چین وبے قرار ہونے کے بجائے  اس پر بلاوجہ ہنسنا، انکی مدد و اعانت سے منہ چرانا، توبہ واستغفار اور خیر کی دعاؤں کا خاص اہتمام نہ کرنا ۔۔۔ہمارے لئے بہت بڑی محرومی، بزدلی، خودغرضی اور اخلاقی پستی کی دلیل ہوگی!! خدا کو مزید ناراض و ناخوش کرنے اور انکو غضبناک بنانے اور اپنے لئے بھی اسی جیسی بلا یا اس سے سخت مصیبت وآفت کو دعوت دینے کی مترادف ہوگی۔ اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے اور ہمیں عقل سلیم اور صحیح سمجھ عطا کرے، توبہ واستغفار کی خاص توفیق نصیب فرمائے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر عالی وقار اوردارالعلوم ندوۃ العلماعـ لکھنؤ کے ناظم اعلی حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتھم نے ترکی اورشام کے متاثرین کی بھرپور مدد کرنے اور توبہ واستغفار کا خاص اہتمام کرنے کی جوہم ہندوستانیوں سے اپیل کی ہے، جسکو بورڈ کے آفس سکریٹری جناب ڈاکٹر محمد وقار الدین لطیفی ندوی مدظلہ العالی نے 8؍فروری2023 کو جاری کیا ہے، جس دردمندانہ اپیل میں بورڈ کے صدرمحترم نے واضح کیا ہے کہ ہمیں بڑھ چڑھ کر متاثرین کی مدد کرنی چاہئے !بطور خاص وطن عزیز ملک ہندوستان کاذکر کیا ہے اورمدد کے اس اقدام کی بڑی تعریف وستائش کی ہے، جس میں ہندوستان کے وزیر اعظم مسٹرمودی جی زلزلے سے متاثرین  کی مدد فراہم کرنے کی پیشکش کرررہے ہیں۔حقیقتا یہ ہندوستان  اور اسکی حکومت کی طرف سے انسانی ہمدردی اور اسکی خیرخواہی کی خوش کن پیشکش ہے۔ ایسی حکومت وقیادت کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے ہمارے پاس  بھی ایک دھڑکتا دل ہے،  جوہزاروں مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرنے کے لیے  پوری دنیا سے ہرممکن کوشش کر رہی ہے۔

الحمد للّٰہ اسوقت پوری دنیا میں انسانیت کے اس درد کو محسوس کیا جارہا ہے،انکے دعاؤں اور دواؤں کا اہتمام کیا جارہا ہے، مختلف ملکوں سے امداد کی شکلیں بن رہی ہیں۔ فردا فردا تعاون پیش کرنے کی بھی کوششیں ہورہی ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے تمام ذمہ داران بشمول صدر وسکریٹری کے ہم تمامی نہایت ممنون و مشکور ہیں کہ  انہوں نے قوم وملک کی اس طرف توجہ مبذول کرائی ،یہ ہمارا فریضہ بھی ہے کہ ہم  پوری انسانیت کی ہر طرح سے رہنمائی کرنے کیلئے ہمہ وقت کھڑے رہیں  اور بطور خاص ملک ہندوستان میں قوم وملک، ارباب اقتدار، عدلیہ اور منتظمہ کی بھی ہر حالات ومصائب سے نمٹنے میں خصوصی توجہ دلاتے رہیں اور انکی رہنمائی کرتے رہیں،الحمد للہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اس معاملے میں اپنی پوری ذمہ داری ادا کررہا ہے، دارالعلوم ندوۃ العلماءـ لکھنؤ میں چند دنوں قبل بورڈ کی میٹنگ اور اس میں طے شدہ تجاویز و مشورے قوم وملک کے مفاد میں قابل ذکر و تقلید کوشش ہے۔جس میں بورڈ نے ارباب اقتدار اور عدلیہ کو جوبہترین مشورہ دیاہے، کہ ملک میں یکجہتی ویگانگت، اخوت ومودت اور عدل وانصاف کااسوقت جو فقدان ہوتا ہوا نظر آرہاہے ،اسکی تلافی ہندوراشٹریہ  کی تشکیل سے نہیں بلکہ جمہوری نظام  واقدار کی بقاوتحفظ سے ہی ممکن ہے۔

ترکی جسطرح ایک جمہوری ملک ہے، جن سے ہمارے ملک کی قدیم دوستی کی روایت بھی رہی ہے، وہاں سب لوگ امن وامان اور اخوت ومودت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، طیب اردوغان اس جمہوری ملک کی بہترین قیادت وسیادت کررہے ہیں، جنہوں نے شامی مہاجرین کی بھی مصیبت کے وقت بے پناہ مدد کی ہے، وہ ایک اچھے لیڈر اور عدل وانصاف پسند قائدکے طور پر جانے اور پہچانے جاتے ہیں، مگر مصیبت کسی ملک اور فرد پرخواہ وہ کتنے ہی بھلے کیوں نہ ہوں، کبھی بھی آسکتی ہے، اللہ انکواور مصیبت زدہ لوگوں کو مصیبت کی اس گھڑی میں صبر وثبات کا پیکر اور جرأ ت وحوصلہ  کا جامع بنائے۔مصیبت کی اس گھڑی میں ہمارا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہے اور یہ بہت ہی اچھی روایت ہے،مگر افسوس! ترکی بھائیوں کیطرح اس ملک میں بھی اقلیت خوف کے سائے میں زندگی گزار رہےہیں،حکومت اور عدلیہ  کو چاہئے کہ وہ انکے حقوق کا بھی  پاس ولحاظ کرے، تمام شہریوں کی مذہبی آزادی کا احترام کرے، آئین سے متصادم قانون کو اس جمہوری ملک میں رواج وفروغ نہ دے، یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا اراد ہ ترک کردےاور بنیادی مسائل پر توجہ مرکوز کرے۔تعلیمی پالیسی پر کسی خاص مذہب کا رنگ نہ چڑھائے،لڑکیوں کیلئے خاص ادارہ قائم کرے۔ملک کی اقلیت کے تمام حقوق کی نگہبانی کرےاور نفرت وعداوت کے بڑھتے ماحول کا بالکلیہ خاتمہ کرے۔اسی میں ہمارے ملک کی بھلائی ہے اور اسکا اتحاد بھی۔حالیہ عرصے میں شرپسند عناصر نے ملک کی یکجہتی ویگانگت، اخوت ومودت اور اسکی سالمیت کو جو نقصان پہونچایا ہے وہ بہت تشویشناک امرہے، جسکی طرف عدلیہ کی بھی خاص توجہ بہت ضروری ہے۔ تاکہ ہمارا ملک ہرطرح کے مکروہ واقعات وحادثات سے مکمل محفوظ وسالم رہ سکے۔

Related posts

دفعہ 370 کی بحالی،غلام نبی آزاد نے کھڑے کئے ہاتھ

Hamari Duniya

بھارتی کریٹر عرفان پٹھان کے ساتھ ایئرپورٹ پر بدتمیزی

Hamari Duniya

جلد ملنے والا ہے جماعت اسلامی کو نیا امیر، جانئے کیسا ہے جماعت اسلامی میں امیر کے انتخاب کا طریقہ

Hamari Duniya