نئی دہلی، 28 جنوری: سپریم کورٹ نے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے متعلق یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے نئے قوانین کے خلاف دائر عرضیوں کی سماعت کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
آج، دو درخواست گزاروں کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کرتے ہوئے جلد سماعت کی درخواست کی۔ عدالت نے انہیں جلد سماعت کی یقین دہانی کرائی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمیں اس کا علم ہے۔ آپ درخواست میں تکنیکی خامیوں کو دور کیجئے۔ ہم جلد سماعت کے لیے لسٹ کریں گے۔
سپریم کورٹ میں راہل دیوان اور وکیل ونیت جندل کے علاوہ بھی کئی دیگر درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔ جندل کی درخواست میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ قواعد جنرل کٹیگری کے لئے امتیازی ہیں اور ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ درخواست میں سپریم کورٹ سےمطالبہ کیا گیا ہے کہ یو جی سی ریگولیشنز 2026 کے رول 3(سی ) کے نفاذ پر روک لگائی جائے ۔ 2026 ریگولیشنز کے تحت قائم کردہ دفعات کا اطلاق تمام ذاتوں کے افراد پر ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ یو جی سی نے حال ہی میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کے فروغ کے ضوابط 2026 جاری کیے ہیں، جن کا مقصد کیمپس میں ذات پات کی بنیاد پر ہونے والے امتیاز کو روکنا ہے۔ طلبہ اب کیمپس میں ہونے والے امتیازی سلوک کی آن لائن یا آف لائن شکایت درج کرا سکیں گے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے کالجوں پر بھاری جرمانے، گرانٹس کی بندش، اور ڈگریوں کی منسوخی جیسی کارروائیاں ہو سکتی ہیں۔ ان قوانین پر ملک بھر میں احتجاج بھی ہو رہا ہے، جہاں کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کے غلط استعمال کا خدشہ ہے، جبکہ حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کا مقصد صرف سماجی انصاف ہے۔
