فروری 14, 2026
Delhi دہلیRegional News علاقائی خبریںTop News

سوسائٹی فار برائٹ فیوچر کا ’’خوشیو ں کے  لباس‘‘ پروجیکٹ لانچ

خوشیوں کے لباس
عید پر پانچ ہزار ضرورت مند خاندانوں میں نئے کپڑوں کی تقسیم کا اعلان
نئی دہلی، 14 فروری: سماجی خدمت کے میدان میں سرگرم تنظیم سوسائٹی فار برائٹ فیوچر نے  ’’خوشیوں کے لباس‘‘ کے عنوان سے ایک فلاحی پروجیکٹ کا باضابطہ آغاز کیا ہے ۔ اس منصوبے کا مقصد عید کے موقع پر ضرورت مند اور محروم خاندانوں میں نئے کپڑے تقسیم کرنا ہے تاکہ وہ بھی خوشی اور وقار کے ساتھ عید منا سکیں۔
پروجیکٹ لانچ کی تقریب میں بتایا گیا کہ اس مہم کے تحت پانچ ہزار ضرورت مند خاندانوں تک نئے کپڑے پہنچائے جائیں گے۔ منتظمین کے مطابق یہ اقدام محض امداد نہیں بلکہ محروم طبقات کے ساتھ سماجی یکجہتی اور انسانی ہمدردی کے اظہار کی ایک کوشش ہے۔
 مہمان خصوصی امیر حلقہ دہلی سلیم اللہ خان نے کہا کہ عید خوشیوں کا تہوار ہے اور ان خوشیوں میں سب کو شریک کرنا ہی اصل خدمت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے سماجی منصوبے معاشرے میں امید، اعتماد اور بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں۔
اس موقع پر سوسائٹی فار برائٹ فیوچر کے نیشنل کوآرڈینیٹر عرفان احمد نے کہا کہ تنظیم کی کوشش ہے کہ عید کی خوشیاں صرف چند گھروں تک محدود نہ رہیں بلکہ وہ ہر اس خاندان تک پہنچیں جو معاشی تنگی کے باعث عید کی تیاری نہیں کر پاتا۔ انہوں نے کہا کہ ’’خوشیوں کے لباس‘‘ دراصل وقار کے ساتھ جینے کا پیغام ہے، اور یہی اس پروجیکٹ کی اصل روح ہے۔
منتظمین کے مطابق عید سے قبل مختلف علاقوں میں رضاکاروں کے ذریعے کپڑوں کی تقسیم کا عمل مکمل کیا جائے گا۔  جو افراد اس مہم می شریک ہونا چاہتے ہیں، ایس بی ایف کی ویب سائٹ پر موجود  بینک اکاؤنٹ پر اپنی رقم ارسال کر سکتے ہیں۔ سماجی حلقوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس طرح کی فلاحی سرگرمیاں معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنیں گی۔ اس موقع پر ایس بی ایف کے جنرل سیکرٹری محمد شفیع مدنی،، ایس بی ایف کے خازن عتیق الرحمن نے بھی اپنے خیالات پیش کیے۔

Related posts

پسماندہ وکاس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام فیروزپور جھڑکا میں 77ویں یومِ جمہوریہ پر تاریخی ترنگا یاترا

Hamari Duniya News

تعلیم کے شعبے میں نمایاں خدمات کیلئے ڈاکٹر ذیشان ایوارڈ سے سرفراز

Hamari Duniya News

آئی یو ایم ایل :گورنر کو ہندوستانی آئین کے ذریعہ فراہم کردہ اصولوں کے مطابق کام کرنا چاہئے 

Hamari Duniya News