44.1 C
Delhi
June 18, 2024
Hamari Duniya
Breaking News قومی خبریں

جگہ جگہ تعلیمی ادارے قائم کرنا سرسید کو بہترین خراج عقیدت ہے:سرسید فاؤنڈیشن سعداللہ نگر نے منایا سرسید ڈے

Sir Sayed Foundation

بلرام پور(ایچ ڈی نیوز)۔
بلرام پور کے قصبہ سعد اللہ نگر میں 17اکتوبر کو سرسید احمد خاں کے یوم پیدائش پر علیگ برادری کے ذریعہ قائم سرسید فاو¿نڈیشن کی جانب سے ایک باوقار سرسید ڈے منایا گیا ۔ جس کی صدارت سماجوادی لیڈر پرویز عمر نے کی۔ گونڈہ کے سینئر سماجوادی لیڈر صغیر عثمانی پروگرام کے مہمان خصوصی تھے۔ جبکہ پروگرام کی نظامت کے فرائض نوجوان صحافی شاہد حسین صدیقی نے بحسن وخوبی انجام دیئے۔ پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ بعدازاں ڈاکٹر ارشاد احمد نے پروگرام کی غرض وغائت پر نہ صرف بھرپور روشنی ڈالی بلکہ سرسید کے نظریات اور ان کی تعلیمی خدمات پر سیر حاصل گفتگو بھی کی۔ ممتاز شاعر وسینئر صحافی جاوید قمر نے سرسید کو شعری خراج پیش کیا۔ پروگرام آرگنائزر صحافی قمر صدیقی نے اس عہد میں سرسید کی تعلیمی خدمات کی اہمیت کے تناظر میں اس بات پر زور دیا کہ سرسید کو بہترین خراج یہ ہے کہ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جگہ جگہ ایسے تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں جو سرسید کے مشن کو آگے بڑھائیں۔
رمیش تیواری نے اپنی تقریر میں کہاکہ یہ سرسید ہی تھے جنہوں نے 1857کی بغاوت کے بعد زخم خوردہ مسلمانوں کا رخ تعلیم کی طرف موڑ کرکے ایک نیا انقلاب برپا کردیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرسید کے تعلیمی ادارے سے نکلے ہوئے سپوتوں نے ملک کی جنگ آزادی میں نمایاں کردار ادا کیا۔شیو کمار سکسینہ نے سر سید کے تعلیمی انقلاب کو خراج پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنے بزرگوں کو یاد ہی نہیں کرنا چاہئے بلکہ ان کی جو تعلیمات ہیںان پر عمل بھی کرنا چاہئے۔ پروگرام کے مہمان خصوصی صغیر عثمانی نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب 1857کے بعد مسلمان انگریزوں کے نشانے پر آگئے تھے۔ کیونکہ انہیں یقین ہوگیا تھا کہ اس بغاوت کے پیچھے صرف اور صرف مسلمانوں کا ہاتھ ہے۔ تو سرسید نے اس بات کو محسوس کرلیا کہ حکمراں انگریزوں کے خلاف تلوار چلا کر کامیابی نہیں حاصل کی جاسکتی بلکہ اس کے لئے قلم کی ضرورت ہے۔

چنانچہ سرسید نے مسلمانوں کے ہاتھوں میں تلوار کی جگہ قلم تھمادیا۔مسٹر عثمانی نے مزید کہا کہ سرسید اس نقطہ سے بخوبی واقف تھے کہ تلوار کے وار سے لگا ہوا زخم بہت جلد بھر جاتا ہے لیکن قلم سے جو زخم لگتا ہے وہ کبھی نہیں بھرتا اور بہت دور تک اس کی ٹیس محسوس کی جاتی ہے۔ پرویز عمر نے آخر میں تمام شرکاءکا شکریہ ادا کیا۔ اور پروگرام آرگنائزس کی اس بات کے لئے ستائش کی کہ انہوں نے ایک عظیم شخصیت کی یاد کو تازہ کرنے کے لئے ایسے اہم پروگرام کا انعقاد کیا۔دیگر مقررین میں ڈاکٹر درگیش گپتا،عثمان خان اور ڈاکٹر عبدالرحمن نے بھی جلسہ سے خطاب کیا۔ اہم شرکاءمیں طفیل احمد صدیقی، قطب الدین ، محمد احمد، ماسٹر بشیر،انجینئر انوار احمد، حاجی اسماعیل ڈگری کالج کے پرنسپل قمر الدین سمیت قصبے کی دیگر ممتاز شخصیتیں شامل تھیں۔ممتاز سماجی کارکن مجیب اللہ صدیقی نے پروگرام کے اختتام پر ایک شاندار سرسید ڈنر کا اہتمام کیا۔

Related posts

فلسطینیوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات پر امارات اسرائیل پر برہم

Hamari Duniya

چرچ آف نارتھ انڈیا دہلی ڈائیسیز کے بشپ منتخب ہوئے پادری ڈاکٹر پال سوروپ 

Hamari Duniya

ایودھیا میں بھارت رتن لتا منگیشکر میموریل چوک کا افتتاح

Hamari Duniya