کیرانہ، 7 فروری (عظمت اللہ خان)۔
تحصیل کیرانہ میں منعقدہ سمپُورن سمادھان دیوس(مکمل یوم ازالہ) کے موقع پر عوامی مسائل ایک مرتبہ پھر پوری شدت کے ساتھ سامنے آئے۔ اس موقع پر نائب تحصیلدار کیرانہ ستیش کمار یادو نے فریادیوں کی شکایات کی سماعت کی، جبکہ پروگرام کی صدارت تحصیلدار کیرانہ نے انجام دی۔ سمادھان دیوس کے دوران مجموعی طور پر 21 شکایتی درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے محض 2 درخواستوں کا ہی موقع پر حل ہو سکا۔ طے شدہ پروگرام کے باوجود چیف ڈیولپمنٹ آفیسر (سی ڈی او) شاملی کی عدم موجودگی بھی لوگوں کے درمیان گفتگو کا موضوع بنی رہی۔
سمادھان دیوس میں مختلف دیہات سے آئے مرد و خواتین نے زمینوں پر ناجائز قبضہ، چک روڈ کی کٹائی، راستوں کی بندش، نالیوں کی عدم صفائی، سرکاری زمین پر تجاوزات اور نکاسیٔ آب کی بدحالی سے متعلق متعدد تحریری شکایات پیش کیں۔ کئی درخواست گزاروں نے بتایا کہ ان کے زرعی چکوں اور دیہی راستوں کو پڑوسیوں کی جانب سے کاٹ دیا گیا ہے، جس کے باعث آمد و رفت کے ساتھ ساتھ کھیتی باڑی اور آبپاشی کا نظام بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔
کچھ معاملات میں خواتین فریادیوں نے الزام عائد کیا کہ بااثر افراد نے زبردستی دیواریں اور دروازے گرا دیے، جس سے جان و مال کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ متعدد دیہات سے نالیوں اور برساتی نالوں کی برسوں سے صفائی نہ ہونے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ فریادیوں کا کہنا تھا کہ نالے بند ہونے کے سبب بارش کا پانی کھیتوں میں بھر جاتا ہے، جس سے فصلیں تباہ ہو رہی ہیں اور کسانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، مگر متعلقہ محکمے محض کاغذی کارروائی تک محدود ہیں۔
سمپُورن سمادھان دیوس میں پیش کی گئی درخواستوں میں یہ مطالبہ بھی شامل رہا کہ چک روڈ اور سرکاری راستوں کی فوری پیمائش کرا کر ناجائز قبضے ہٹوائے جائیں، نالیوں کی مستقل صفائی کرائی جائے اور متاثرین کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔ بعض درخواستوں پر افسران نے موقع پر ہی متعلقہ اہلکاروں کو جانچ اور ضروری کارروائی کے احکامات صادر کیے، تاہم فریادیوں نے اس بات پر زور دیا کہ محض احکامات نہیں بلکہ عملی، بروقت اور مؤثر کارروائی یقینی بنائی جائے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر شکایات کا منصفانہ اور بروقت حل نہ نکالا گیا تو دیہی علاقوں میں حالات مزید ابتری کا شکار ہو سکتے ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ سمپُورن سمادھان دیوس کو رسمی کارروائی کے بجائے حقیقی انصاف کا مؤثر ذریعہ بنایا جائے۔
