12.1 C
Delhi
February 23, 2024
Hamari Duniya
دہلی قومی خبریں

بلقیس بانو کےس کے سزا یافتہ مجرموں کی رہائی قابل مذمت:شاہد علی ایڈوکیٹ

Shahid Ali Advocate

نئی دہلی( ایچ ڈی بیورو)۔
آزادی کے امرت مہوتسو کے موقع پر گجرات کے بلقیس بانو کی عصمت دری اور خاندان کے سات افراد کے قتل میں ملوث اور عمر قید کی سزا یافتہ مجرموں کی رہائی قابل مذمت ہے اور ایسے مجرموں کی رہائی جس نے عصمت ریزی اور قتل جیسے سنگین جرم کئے ہوئے ہوں سن کر کافی افسوس ہوا، ہم پر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ رہائی کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے ان مجرموں کو جیل میں ڈالا جائے نہیں تو ایسی گھنونی اور سنگین وارداتوں کو انجام دینے والے افراد کے حوصلے بلند ہو جائیں گے ان خیالات کا اظہار شاہد علی ایڈوکیٹ سابق لوک سبھا امیدوار چاندنی چوک نے کیا ۔
انھوں نے کہا کہ گجرات سرکار کا ےہ فےصلہ مجرمانہ ذہنیت کو فروغ دینے والا ہے مجھے تعجب اس بات پر ہے کہ ملک آزادی کا امرت مہوتسو منا رہاہے اور جشن آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے ایک طرف وزیراعظم خواتین کے تئیں سماج میں احترام کی ترغیب کے ساتھ ساتھ بھارتیہ سماج میں خواتین کے خلاف تشدد دانہ ذہنیت کے پنپنے پر تشویش کا اظہار کر رہے تھے وہیں دوسری جانب گجرات کی سرکار بلقیس بانو کی عصمت دری و سات افراد کے قتل مےں ملوث سزا یافتہ مجرمین کو رہا کر کے ان مجرموں کو آزادی کاتحفہ دے رہی تھی۔اور ہائی کے بعد جس طرح جشن منایا گیا مٹھائیاں تقسیم کی گئیں اور استقبال کیا گےا اس سے لوگو ں کی ذہنےت کا پتہ چلتا ہے جو ملک کے لئے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
انھوں نے مزیدکہا کہ گیارہ مجرموں میں سے صرف ایک مجرم نے سزا کی معافی کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس کے بعد سپریم کورٹ نے گجرات کی ریاستی حکومت کو قبل از وقت رہائی کے لئے کی گئی اس اپیل پر غور کرنے کی ہدایت کی تھی۔لیکن ریاستی حکومت نے ایک پینل تشکیل دی اور تمام گیارہ مجرموں کورہا کردیاجو گجرات کے بلقیس بانو کی عصمت دری اور اس کے خاندان کے سات افراد کے قتل میں ملوث تھے اور عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ ‘

Related posts

پس دیوار نئی طرز زندگی میں پرانی روایت کو زندہ کرنے کی شاندار کوشش

Hamari Duniya

طاقت اور پاور کے درمیان تواز ن کے بغیر دنیا میں امن کا قیام نہیں ہوسکتا: دانشوران کا اظہار خیال

Hamari Duniya

غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام غالب توسیعی خطبے کا انعقاد

غالب کی شخصیت اپنے دور کی بہترین بصیرت کی نمائندگی کرتی ہے۔ انھوں نے زندگی کے ہر پہلو کو ان آنکھوں سے دیکھا جو ہر کس و ناکس کو میسر نہیں ہوتی: پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی:

Hamari Duniya