ریاض،27جنوری: پولینڈ کے ہم منصب رادوسلاف سیکورسکی کے ہمراہ پیر کے روز منعقدہ پریس کانفرنس میںسعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے واضح کیا کہ یمن کے معاملے پر امارات کے ساتھ نقطہ نظر میں اختلافات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امارات نے یمن سے مکمل طور پر نکلنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان کے نزدیک یہ قدم امارات کے ساتھ مضبوط تعلقات کے تسلسل کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات علاقائی استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں اور امارات کے ساتھ مضبوط اور مثبت تعلقات کا ہونا ضروری ہے۔
اس سے قبل ریاض اس بات پر زور دے چکا تھا کہ متحدہ عرب امارات یمن کی درخواست پر اس کی سرزمین سے اپنی فوجی موجودگی ختم کرے اور یمن کے اندر کسی بھی فریق کو کسی قسم کی عسکری یا مالی مدد بند کرے۔ سعودی بیان کے بعد امارات نے اعلان کیا کہ حالیہ پیش رفت اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کی سلامتی اور مو¿ثریت پر ممکنہ اثرات کے پیش نظر وزارت دفاع نے یمن میں موجود انسداد دہشت گردی کی باقی ٹیموں کے خاتمے کا فیصلہ اپنی مرضی سے کیا ہے تاکہ ان کے اہلکاروں کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے اور یہ اقدام متعلقہ شراکت داروں کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے کیا گیا ہے۔اسی دوران سعودی عرب نے افسوس کا اظہار کیا کہ متحدہ عرب امارات نے یمن کی جنوبی عبوری کونسل کی فورسز پر دباو¿ ڈال کر انہیں مملکت کی جنوبی سرحدوں کے ساتھ حضرموت اور المہرہ کے علاقوں میں عسکری کارروائیوں پر آمادہ کیا جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں اور یمن کی جمہوریہ اور پورے خطے کے امن اور استحکام کو متاثر کرتے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ امارات کے یہ اقدامات نہایت خطرناک ہیں اور یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کے لیے قائم اتحاد کی بنیادوں سے مطابقت نہیں رکھتے اور نہ ہی یمن کے امن اور استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو تقویت دیتے ہیں۔مملکت نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ امارات دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے تحفظ کے لیے مطلوبہ اقدامات کرے گا جنہیں سعودی عرب مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے اور خطے کے ممالک کی خوشحالی ترقی اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھایا جائے گا۔
previous post
