ریاض،28جنوری:امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے اور حالات یہ ہوگئے ہیں کہ کب امریکہ ایران پر حملہ کردے۔ اسی سلسلے میں ایران نے بھی اپنی سرگرمیاں بڑھا دی ہیں اور خلیجی ممالک سے ملک کرایران پر مجوزہ حملہ کو روکنے کی کوششیں کررہا ہے۔اس کو اس سلسلے میں بڑی کامیابی اس وقت ملی جب سعودی عرب نے ایران کو یقین دلایا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود ایران کے خلاف کسی بھی طور استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے فون پر رابطہ کیا اور محمد بن سلمان نے انھیں یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ ’اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی یا کسی بھی فریق کی طرف سے کسی بھی حملے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی، چاہے ان کی منزل کچھ بھی ہو۔‘
ایرانی صدر نے اسرائیل اور امریکہ پر حالیہ مظاہروں میں ’مشتعل افراد کو اکسانے‘ کا الزام لگایا۔انھوں نے کہا کہ ان دونوں ممالک نے ’تصور کیا تھا کہ ان کارروائیوں سے وہ ایران کو شام یا لیبیا میں تبدیل کر سکتے ہیں‘ اور یہ کہ ’منظرعام پر ایرانی قوم کی وسیع اور شعوری موجودگی نے ان کے مقاصد اور سازشوں کو شکست دی۔‘ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق محمد بن سلمان نے یہ بھی کہا کہ ’سعودی عرب ایران کے خلاف کسی بھی خطرے یا کشیدگی کو ناقابل قبول سمجھتا ہے‘ اور ’خطے میں دیرپا امن اور سلامتی کے قیام کے لیے تعاون کے لیے تیار ہے۔‘
