وزارت خارجہ نے ایپسٹین کی ای میلز کوبتایا بکواس، وزیر اعظم کے نام کا تھا ذکر
نئی دہلی، 31 جنوری۔
جنسی جرائم کا مجرم ایپسٹین سے منسوب فائلیں منظر عام پر آنے کے بعد ہندوستان میں بھی ہنگامہ برپا ہے۔ اس فائل میں وزیراعظم نریندر مودی کا بھی نام شامل ہے۔ دستاویزات میں ذکر ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے اس خطرناک جنسی جرائم کے مجرم ایپسٹین سے مشورہ لیا تھا۔ سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے اس معاملے کوزور شور سے اٹھایا اور کہا کہ یہ قومی شرم کی بات ہے۔ مودی سے جڑے یہ دستاویزمنظرعام پر ہے۔کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے جمعہ کوسوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پردعویٰ کیا کہ ایپسٹین کے ایک دستاویزمیں وزیراعظم نریندر مودی کا ذکر ہے۔کھیڑا کے مطابق ایپسٹین نے لکھا ہے کہ وزیراعظم نے ان کی صلاح لی اور اسرائیل میں ’ناچے اور گائے‘ کیا جو امریکی صدر کے فائدے کے لئے تھے، ساتھ ہی اس نے’اٹ ورکڈ‘ الفاظ بھی لکھا۔
کھیڑا نے اسے ’قومی شرم‘ کی بات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ ججمنٹ شفافیت اور ڈپلومیسی حساسیت پر سنگین سوال کھڑے کرتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ وزیراعظم اور ایپسٹین کے درمیان براہ راست غیرواضح تعلقات کو ظاہر کرتا ہے۔جو ایک مجرم انسانی اسمگلر، بچوں کے ساتھ جنسی مجرم اور سیریل جنسی افینڈر تھا۔ اس سے ملک کے وقار اور بین الاقوامی رشتوں پر اثر پڑتا ہے۔
دوسری جانب وزارت خارجہ نے ہفتہ کو بدنام امریکی شہری جیفری ایپسٹین کے ای میل کو’بالکل بکواس‘قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کا ذکر کیا گیا تھا۔ وزارت نے کہا کہ ای میل میں اسرائیل کے دورے کے علاوہ کچھ بھی حقیقت پر مبنی نہیں تھا۔ یہ خفیہ ای میل فائلیں امریکی محکمہ انصاف نے جاری کی ہیں۔
وزارت خارجہ کے سرکاری ترجمان رندھیر جیسوال نے میڈیا کے سوالات کے جواب میں مذکورہ بالا ریمارکس دیئے۔ انہوں نے کہا کہ وزارت نے ایپسٹین سے منسوب ایک ای میل پیغام کی رپورٹس دیکھی ہیں جس میں وزیر اعظم اور ان کے دورہ اسرائیل کا ذکر ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جولائی 2017 میں وزیر اعظم کے اسرائیل کے سرکاری دورے کے علاوہ، ای میل کے مندرجات ایک سزا یافتہ مجرم کی طرف سے بکواس اور من گھڑت ہیں اور اسے مکمل طور پر نظر انداز کیا جانا چاہیے۔
یہ قابل ذکر ہے کہ جیفری ایڈورڈ ایپسٹین ایک امریکی انسانی اسمگلر، بچوں کا جنسی مجرم، سیریل ریپسٹ، اور مالیاتی مشیر تھا۔ اس کی موت 2019 میں جیل میں ہوئی۔ اس کے بااثر لوگوں سے رابطے اب سرخیوں میں ہیں۔ ایپسٹین سے منسلک ایک مبینہ ای میل کا حوالہ دیتے ہوئے، وزیر اعظم نریندر مودی کے 2017 کے امریکہ اور اسرائیل کے دوروں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ تاہم ان دعووں کی صداقت، سیاق و سباق، یا آزاد تصدیق کے حوالے سے کوئی واضح معلومات عوامی طور پر دستیاب نہیں ہے۔دریں اثنا اپوزیشن کانگریس پارٹی نے ان الزامات کو قومی وقار اور بین الاقوامی وقار سے جوڑا ہے اور حکومت سے سرکاری وضاحت اور حقائق کو عام کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
