40.6 C
Delhi
May 20, 2024
Hamari Duniya
Breaking News بین الاقوامی خبریں

پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کے سیاسی کیریئر کیلئے کیوں خطرہ ہیں یہ چار قانونی کیسز؟

Imran Khan

اسلام آباد: پاکستان کے سابق وزیراعظم اورپی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اس وقت پاکستان کے سب سے مقبول رہنما ہیں لیکن ان کے سیاسی کیریئر کو خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔آیئے ہم بتاتے ہیں کہ وہ کون سے چار مختلف قانونی کارروائیوں کا سامنا ہے جس سے ان کے سیاسی کیریئر کو خطرہ لاحق ہے۔ عمران خان اگر خود کو ان مقدمات سے بچانے میں ناکام ہوئے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ سیاست سے نااہل قرار دے دیئے جائیں گے۔
اس وقت عمران خان اپنی مقبولیت کے عروج پر ہیں،اسی وقت ان پر قانونی نوعیت کے یہ چارخطرات لاحق ہیں، توہین عدالت کی دو کارروائیوں، توشہ خانہ کیس میں اسپیکر قومی اسمبلی کے دو ریفرنسز اور فارن فنڈنگ کیس میں اثاثہ جات کے غلط گوشوارے جمع کرانے کے کیسزہیں۔
پاکستا ن کے مشہور اخبار ’جنگ ‘ کی رپورٹ کے مطابق توہین عدالت کے دو کیسز میں سے ایک اسلام آباد ہائی کورٹ کا توہین عدالت کا کیس ہے جس میں عدالت نے عمران خان کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرتے ہوئے انہیں 31 اگست کو طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے عمران خان کیخلاف از خود نوٹس لیا ہے کیونکہ گزشتہ ہفتے ریلی میں عمران خان نے شہباز گِل کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے شہباز گل کو پولیس کی درخواست پر ریمانڈ پر بھیجنے پر ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کو خبردار کیا تھا کہ خاتون جج نتائج کیلئے تیار ہو جائیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس جج کیخلاف ایکشن لیں گے۔ ماہرینِ قانون کے مطابق، یہ عمران خان کیخلاف توہین عدالت کا سنگین کیس ہے۔ خاتون جج کو دھمکی کوئی معمولی معاملہ نہیں لیکن یہ پوری عدلیہ کی توہین اور قانون کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کا معاملہ ہے۔ اس کیس میں سزا پانچ سال تک سیاست سے نااہلی ہے۔ الیکشن کمیشن (ای سی پی) کا توہین کا کیس بھی عمران خان کیخلاف ہے۔ ای سی پی نے ملک کے انتخابی ادارے پر مختلف تقاریر کے دوران غیر پارلیمانی اور ناشائستہ زبان کے استعمال اور چیف الیکشن کمشنر پر الزامات عائد کرنے پر گزشتہ ہفتے عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو توہین کا نوٹس بھیجا تھا۔ ای سی پی نے ان رہنماو¿ں کو نجی حیثیت میں یا پھر وکیل کے توسط سے 31 اگست تک جواب دینے کا حکم دیا ہے۔ ای سی پی کا کہنا تھا کہ ادارے نے پی ٹی آئی رہنماو¿ں کی مختلف تقاریر کا جائزہ لینے کے بعد نوٹس جاری کیے ہیں۔ یہ تقاریر پیمرا نے ای سی پی کو فراہم کی تھیں۔ اگر ای سی پی نے ان رہنماﺅں میں سے کسی کو بھی قصور وار قرار دیا تو اس کی سزا پانچ سال تک سیاست سے نااہلی ہے۔ عمران خان کیخلاف توشہ خانہ ریفرنس قومی اسمبلی کے اسپیکر نے الیکشن کمیشن کو بھیجا تھا جس میں الزام یہ ہے کہ عمران خان نے ای سی پی میں جمع کرائی گئی اثاثہ جات کی تفصیلات میں کچھ چیزیں چھپائی تھیں۔
سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو عہدے سے ہٹا کر انہیں تاحیات نا اہل قرار دیا تھا کیونکہ انہوں نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی میں ”غیر حاصل شدہ قابل وصول“ اثاثہ جات کو چھپایا تھا۔ عمران خان کے معاملے میں انہوں نے مبینہ طور پر توشہ خان کے تحائف کو گوشواروں میں چھپایا۔ عمران خان نے یہ تحائف ایک یا دو سال بعد ا±س وقت گوشواروں میں ان تحائف کا ذکر کیا جب میڈیا نے توشہ خانہ اسکینڈل پر توجہ مبذول کرائی تھی اور بتایا تھا کہ عمران خان نے ان میں سے کچھ تحائف فروخت کردیے ہیں۔

Related posts

کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی کا جلوہ، ملک کے مقبول ترین مسلم لیڈر بنے

Hamari Duniya

کیاشعیب ملک سے الگ ہوں گی ثانیہ؟ افواہوں کا بازار گرم

Hamari Duniya

اپوزیشن اتحاد کا اجتماعی قرارداد، اقلیتوں کےخلاف نفرت کو دیں گے شکست

Hamari Duniya