33.1 C
Delhi
June 22, 2024
Hamari Duniya
Breaking News قومی خبریں

اگلا نشانہ،این آئی اے کی جمعیة علماءہند اور تبلیغی جماعت پر بھی گہری نظر

NIA-PFI

ممبئی (ایچ ڈی بیورو)۔
ملک بھر میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی)کے خلاف قومی تفتیشی ایجنسی کی کارروائی جاری ہے۔اس درمیان خبر ہے کہ این آئی اے کا اگلا ٹارگٹ جمعیة علماءہند اور تبلیغی جماعت بھی ہوسکتا ہے۔واضح رہے کہ مہاراشٹر کے امراوتی ضلع کے امیش کولہے قتل کیس کی تحقیقات کر رہی قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) کو پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے تقریباً تین لاکھ خاندان کے کھاتوں کا پتہ چلا ہے۔این آئی اے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کھاتوں میں خاندان کی دیکھ بھال کے نام پر قطر ، کویت ، بحرین اور سعودی عرب سے 500 کروڑ روپے آئے تھے۔ یہ رقم منی ٹرانسفر کے ذریعے مختلف کھاتوں میں بھیجی گئی ہے۔ ان اکاو¿نٹس میں سے ایک لاکھ اکاو¿نٹس پی ایف آئی سرگرمیوں میں سرگرم لوگوں کے ہیں اور باقی دو لاکھ اکاو¿نٹس ان کے رشتہ داروں کے ہیں۔ این آئی اے اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ ان کھاتوں میں آنے والی رقم کا استعمال کہاں کیا جا رہا ہے۔
این آئی اے کو اس معاملے میں ملزمین سے پوچھ گچھ کے دوران تبلیغی جماعت اور جمعیة علمائے ہند (جے یو ایچ) کے رول کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔ این آئی اے ان دونوں تنظیموں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس کے علاوہ مہاراشٹر کے پونے ، جالنا اور اورنگ آباد اضلاع میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں اضافے کی وجہ سے انٹیلی جنس ایجنسیاں الرٹ موڈ پر ہیں۔ذرائع کے مطابق، پی ایف آئی کا ہیڈکوارٹر پونے میں ہے ، جبکہ سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) جالنا اور اورنگ آباد میں ممبران کا اندراج کر رہی ہے۔ یہ الرٹ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے دیا ہے۔ پی ایف آئی اور ایس ڈی پی آئی کی منصوبہ بندی انتہائی خفیہ طریقے سے کی جا رہی ہے۔دراصل این آئی اے کیمسٹ امیش کولہے قتل کیس کی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس معاملے میں این آئی اے نے پیر کو خصوصی عدالت میں چارج شیٹ پیش کرنے کے لیے اضافی وقت مانگا تھا۔ خصوصی عدالت نے منگل کو این آئی اے کو کیس میں چارج شیٹ پیش کرنے کے لیے اضافی 90 دن کا وقت دیا ہے۔

Related posts

وراثت کی تقسیم میں خواتین کے حصہ کو یقینی بنانے کیلئے تحریک چلائے گا مسلم پرسنل لائ بورڈ

Hamari Duniya

گنگا ایکسپریس وے ملک کی خوشحالی اور سلامتی کا ضامن

Hamari Duniya

تیل کی پیداوار میں کمی کرنے کے فیصلہ پر سعودی وزارت خارجہ کی وضاحت

Hamari Duniya