نئی دہلی: نیشنل جنرل سیکریٹری این۔سی۔پی (اجیت پوار) نیشنل چیئرمین مائنارٹیز ڈ پارٹمنٹ سید جلال الدین نے آج میڈیا کو جاری بیان میں کہا کہ مہاراشٹر کی سیاست اس وقت ایک گہرے صدمے سے دوچار ہے۔ یہ صدمہ محض ایک بااثر سیاسی شخصیت کے اچانک دنیا سے رخصت ہو جانے کا نہیں، بلکہ ایک ایسی آواز کے خاموش ہو جانے کا ہے جو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر بھی انصاف، توازن اور انسانی قدروں کی بات کرتی تھی۔ نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کی ہوائی حادثے میں ناگہانی موت نے پورے ملک کو گہرے دکھ میں ڈال دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیاست میں اختلافات کوئی نئی بات نہیں۔ نظریات بدلتے ہیں، اتحاد بنتے اور بکھرتے رہے ہیں، لیکن کچھ رہنما ایسے ہوتے ہیں جو اختلاف کے باوجود قابلِ احترام رہتے ہیں۔ اجیت پوار انہی چند شخصیات میں شمار ہوتے تھے جن کی موجودگی سیاسی تلخیوں کے درمیان بھی اعتماد کا احساس پیدا کرتی تھی۔
جلال الدین کا کہنا تھا کہ اجیت پوار کو اکثر ایک سخت فیصلے کرنے والے، دوٹوک اور انتظامی صلاحیتوں کے حامل لیڈر کے طور پر دیکھا گیا۔ وہ مصلحتوں میں الجھنے کے بجائے فیصلے کرنے پر یقین رکھتے تھے اور کبھی بھی انہوں نے مظلوموں کی آواز سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کی ظاہری سختی کے پیچھے ایک حساس دل بھی تھا، جو سماج کے کمزور اور حاشیے پر کھڑے طبقات کی تکلیف کو محسوس کرتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں جب سیکولرازم ایک نعرہ بن کر رہ گیا ہے، اجیت پوار نے اسے عملی سیاست کا حصہ بنایا۔ ان کے نزدیک مذہبی ہم آہنگی محض تقریروں کا موضوع نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر کے مسلم سماج میں ان کی شناخت ایک ایسے رہنما کے طور پر بنی جس نے محض وعدے نہیں کیے بلکہ سرکاری اسکیموں کو عملی شکل دی۔
ان کے دورِ اقتدار میں اقلیتی فلاح و بہبود سے متعلق کئی اہم منصوبوں کو مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا۔ مدارس کی جدید کاری اور مدرسہ اساتذہ کے اعزازیے میں اضافہ اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ وہ دینی تعلیم سے وابستہ افراد کو بھی عزت اور تحفظ کے مستحق سمجھتے تھے۔ اسی طرح پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالرشپ اسکیموں کے ذریعے ہزاروں طلبہ کو تعلیم جاری رکھنے کا سہارا ملا، جس سے ڈراپ آؤٹ کی شرح کم کرنے میں مدد ملی۔
حج کمیٹی کے انتظامی امور ہوں یا وقف جائیدادوں کے نظم و نسق کا مسئلہ، اجیت پوار نے ہمیشہ ایک متوازن اور شفاف رویہ اپنایا۔ قابلِ ذکر بات یہ رہی کہ انہوں نے کبھی ان اقدامات کو سیاسی تشہیر کا ذریعہ نہیں بنایا، بلکہ انہیں اپنی انتظامی ذمہ داری سمجھ کر انجام دیا۔ یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اجیت پوار بی جے پی کی حمایت سے نائب وزیر اعلیٰ بنے، اور اس فیصلے پر انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ لیکن یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ اقلیتوں کے معاملات میں انہوں نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا تھا کہ مہاراشٹر میں قانون سب کے لیے یکساں ہے اور کسی بھی طبقے کے ساتھ ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی۔
بارامتی، جو ان کا انتخابی حلقہ تھا، محض ایک سیاسی علاقہ نہیں بلکہ ان کی شناخت کا حصہ تھا۔ کسان، مزدور، نوجوان—سب کے ساتھ ان کا رشتہ رسمی نہیں بلکہ ذاتی نوعیت کا تھا۔ آج بارامتی کی فضا میں جو سناٹا ہے، وہ صرف ایک لیڈر کی عدم موجودگی کا نہیں بلکہ ایک اپنے کے بچھڑ جانے کا ہے۔ جس فضائی سفر کو ایک معمول کا سرکاری دورہ سمجھا جا رہا تھا، وہ ان کا آخری سفر ثابت ہوگا، کسی نے سوچا بھی نہ تھا۔ یہ سانحہ جہاں ان کے اہلِ خانہ کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے، وہیں مہاراشٹر اور ملک کے لیے ایک سیاسی و اخلاقی خسارہ بھی ہے۔ سیاست میں کم ہی ایسے رہنما ہوتے ہیں جن کے انتقال پر مخالفین بھی احترام کے ساتھ خراجِ عقیدت پیش کریں۔ اجیت پوار انہی میں سے تھے۔ اختلافات کے باوجود ان کی انتظامی صلاحیت، جرأت اور فیصلہ سازی کی صلاحیت کو سب نے تسلیم کیا۔
آج اصل سوال یہ نہیں کہ ان کی جگہ کون لے گا، بلکہ سوال یہ ہے کہ
کیا اقتدار میں رہ کر بھی کوئی انصاف کی آواز بن پائے گا؟
کیا اتحاد کی سیاست میں انسانی حساسیت باقی رہ سکے گی؟
اور کیا اقلیتی سماج کو دوبارہ ویسا ہی اعتماد نصیب ہوگا؟
اجیت پوار اب ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن وہ ایک مثال چھوڑ گئے ہیں—یہ مثال کہ اقتدار اور انصاف ایک دوسرے کی ضد نہیں، اور سیکولرازم محض نعرہ نہیں بلکہ عملی دیانت داری کا نام ہے۔ ان کی سب سے بڑی وراثت یہی ہے کہ انہوں نے سیاست کو انسانیت سے جوڑ کر رکھا۔ آج ملک کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ ان کے دکھائے راستے پر ہی ہم آگے بڑھیں گے۔
