22.8 C
Delhi
February 24, 2024
Hamari Duniya
Breaking News قومی خبریں

وزرات آیوش کا تاریخی قدم:روایتی جڑی بوٹیوں کی مصنوعات کے کوالٹی کنٹرول کےلئے لیبارٹری کو بہتر بنانے کا فیصلہ

Ministry of Ayush

نئی دہلی(ایچ ڈی نیوز)۔
انڈین میڈیسن اینڈ ہومیوپیتھی فارماکولوجی (پی سی آئی ایم اینڈ ایچ) وزارت آیوش نے جنوب مشرقی ایشیا میں روایتی/ جڑی بوٹیوں کی مصنوعات کے معیار کو کنٹرول کرنے کے مقصد سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن ساو¿تھ ایسٹ ایشیا ریجن (ایس ای اے آر او- ڈبلیو ایچ او) کے تعاون سے سے لیبارٹری کی صلاحیت کی تربیت کو اپ گریڈ کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا گیا ہے۔ ڈاکٹر کم سنگچول، ریجنل کنسلٹنٹ-ٹریڈیشنل میڈیسن، ڈبلیو ایچ او ساو¿تھ ایسٹ ایشیا ریجنل آفس، ڈاکٹر رمن موہن سنگھ، ڈائریکٹر پی سی آئی ایم اینڈ ایچ اور دیگر معززین کی موجودگی میں 3 روزہ تربیتی پروگرام کا افتتاح پرمود کمار پاٹھک، خصوصی سکریٹری، وزارت آیوش نے کیا۔واضح رہے کہ ملک میں پہلی بار اس قسم کی تربیت شروع کی گئی ہے۔
اس تربیتی پروگرام میں 9 ممالک (بھوٹان، انڈونیشیا، بھارت، سری لنکا، تھائی لینڈ، نیپال، مالدیپ، تیمور لیسٹے اور بنگلہ دیش) کے کل 23 شرکاءحصہ لے رہے ہیں۔ تربیت کا مقصد روایتی/ جڑی بوٹیوں کی مصنوعات کے معیار کو برقرار رکھنے کے لیے لیبارٹری پر مبنی تکنیکوں اور طریقوں کی مہارت فراہم کرنا ہے۔پرمود کمار پاٹھک، خصوصی سکریٹری، وزارت آیوش نے کہا، “ترقی پذیر ممالک کے مرکز برائے تحقیق اور معلوماتی نظام کی رپورٹ کے مطابق، 2022 میں صنعت کے 23,3 بلین امریکی ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔ لیبارٹری پر مبنی کوالٹی کنٹرول میں یکسانیت اکثر مختلف جسمانی، کیمیائی اور جغرافیائی پہلوو¿ں سے بدلی ہوئی جڑی بوٹیوں کی دوائیوں کے معیار کی جانچ کو قابل بنائے گی۔
ڈاکٹر کم سنگچول، ریجنل کنسلٹنٹ-ٹریڈیشنل میڈیسن، ڈبلیو ایچ او کے جنوب مشرقی ایشیا کے علاقائی دفتر نے کہا، ’ایس ای اے آر او -ڈبلیو ایچ او‘ نے دوسرے ممالک کے لیے علاقائی ورکشاپس اور تربیتی پروگراموں کا کامیابی سے انعقاد کیا ہے۔ ان علاقائی ورکشاپس کے دوران رکن ممالک کی طرف سے کی گئی اہم سفارشات میں سے ایک ریگولیٹری صلاحیت کو مضبوط بنانے کو یقینی بنانا تھا اور اسی لیے ہم پی سی آئی ایم اینڈ ایچ، وزارت آیوش کے ساتھ مل کر اس پہلے تربیتی سیشن کا اہتمام کر رہے ہیں۔کوالٹی کنٹرول کے اقدامات میں جڑی بوٹیوں کے اجزاءکے معیار، اچھے طریقے (زراعت، کاشت، جمع، ذخیرہ، مینوفیکچرنگ، لیبارٹری اور طبی وغیرہ) شامل ہیں۔ مینوفیکچرنگ، امپورٹنگ، ایکسپورٹ اور مارکیٹنگ کے لیے مخصوص اور یکساں لائسنسنگ اسکیموں کو نافذ کیا جانا چاہیے، جو کہ حفاظت اور افادیت کو یقینی بنانے کے لیے اہم ہیں۔

Related posts

ایشیا کپ میں بھارتی خواتین ٹیم نے بنگلہ دیش کو دی شکست

Hamari Duniya

کے ایم اصغرحسین کی طالبات نے ضلعی سطح کے مقابلہ میں کیا نام روشن

Hamari Duniya

شیرازہندہندومسلم ایکتاکاگہوارہ ہے

Hamari Duniya