31.7 C
Delhi
May 24, 2024
Hamari Duniya
Breaking News دہلی

الیکشن کمیشن کا کانگریس کے ساتھ بھدا مذاق، ریاستی صدر کا نام غائب، شکایت کرنے پر ٹہلانے کی کوشش

Delhi Congress
نئی دہلی(ایچ ڈی نیوز)۔
دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری انیل کمار آج دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں بی جے پی اور عام  آدمی  پارٹی کی سازش کے  تحت الیکشن کمیشن  کے ذریعہ ووٹرلسٹ سے ان کا  نام  نکالنے  کی  وجہ سے آج ووٹ نہیں دے سکے۔
پارٹی  نے یہ شکایت آج ریاستی کانگریس کے میڈیا ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین اور سابق ایم ایل اے مسٹر انل بھاردواج کی قیادت میں کانگریس کے وفد نے الیکشن دفتر میں دہلی اسٹیٹ الیکشن کمیشن کے سکریٹری مسٹر بنش راج سے ملاقات کرکے درج کرائی۔ 
مسٹر بنش راج نے کانگریس کے وفد کو یقین دلایا کہ ہم آپ کی شکایت چیف الیکشن کمیشن کو بھیجیں گے اور نام حذف کرنے جیسی غلطیاں کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
کانگریس کے وفد میں میڈیا ڈپارٹمنٹ کے چیئرمین اور سابق ایم ایل اے مسٹر انئل بھاردواج، بوتھ کمیٹی کے چیئرمین مسٹر راجیش گرگ، قانونی اور انسانی حقوق کے محکمے کے چیئرمین ایڈوکیٹ سنیل کمار، ایڈوکیٹ اے وی۔ شکلا، ساجد چودھری، ایڈوکیٹ ناگیشور کمہار اور ایڈوکیٹ پنکج مہتہ شامل  تھے۔
مسٹر انیل بھاردواج نے کہا کہ آج صبح جب ریاستی صدر چودھری انیل کمار اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے ڈلو مارکیٹ، ٹمبر مارکیٹ کے سرکاری سرودیا کنیا ودیالیہ پہنچے تو ووٹر لسٹ میں ان کا نام نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ چودھری انیل کمار سابق ایم ایل اے اور کارپوریٹر ہیں، ان کا نام کونڈلی اسمبلی  حلقہ کے کونڈلی وارڈ نمبر 193 کی ووٹر لسٹ سے حذف نہیں دکھایا گیا ہے، بلکہ خصوصی طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ریاستی کانگریس صدر چودھری انیل کمار کا نام دہلی کی ووٹر لسٹ سے ہٹایا جا سکتا ہے تو پھر دہلی کے دیگر شہریوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ  چودھری انیل  کمار  کی  اہلیہ محترمہ ششی بالا کا نام ہے۔
مسٹر انیل بھاردواج نے کہا کہ دہلی کانگریس نے دہلی میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں حصہ لینے والے انڈین نیشنل کانگریس کے امیدواروں کے نام ووٹر لسٹ میں نہ ہونے کے بارے میں پہلے ہی کئی شکایتیں کی ہیں، لیکن الیکشن کمیشن نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے کہا کہ وارڈ نمبر 193 کنڈلی کے دائرہ اختیار میں آنے والے ای آر او، ریٹرننگ آفیسر اور ای آر او کے خلاف انکوائری کی جائے اور کوتاہی کرنے والے افسران کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔ 
انہوں نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی کہ افسران کے خلاف جانچ  اور اہلکاروں کے خلاف کی گئی کارروائی کی رپورٹ کی نقل ریاستی کانگریس کے دفتر کو بھیجی جائے۔

Related posts

سعودی عرب کے اس فیصلہ سے سعودی عرب میں کام کرنے کی خواہش رکھنے والوں کو لگے گا شدید دھچکا

Hamari Duniya

مایوس نہ ہوں

Hamari Duniya

مہاراشٹر میں لینڈ سلائیڈنگ، سینکڑوں افراد کے دبنے کا خدشہ

Hamari Duniya