33.1 C
Delhi
May 20, 2024
Hamari Duniya
Breaking News قومی خبریں

مولانا ارشدمدنی کی دوٹوک، ہم ایسے مدارس کی قطعی حمایت نہیں کریں گے

Maulana Syed Arshad Madni Press Conference

دینی مدارس کوحکومت کی کسی امداد کی ضرورت نہیں ہے
مدارس سروے کی مخالفت نہیں بلکہ اس میں تعاون کریں : مفتی ابوالقاسم نعمانی
مدارس دینی تعلیم کے ساتھ عصری تعلیم کا بھی بندوبست کریں : مولانا سید ارشد مدنی
یوپی مدارس کے نمائندہ اجلاس میں دارالعلوم دیوبند نے اپنا موقف واضح کیا

مولانا سید ارشدمدنی
مولانا سید ارشدمدنی

دیوبند(رضوان سلمانی ؍ ایچ ڈی نیوز)۔
یوگی حکومت کے ذریعہ غیر سرکاری مدارس کا سروے کرانے کے متعلق ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم دیوبند میں منعقد یوپی کے نمائندہ مدارس کے اجلاس میں دارالعلوم دیوبند نے سروے کے حوالہ سے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے صاف لفظوں میں کہاکہ اہل مدارس کو سروے کی مخالفت نہیں بلکہ اس میں تعاون کرنا چاہئے کیونکہ مدارس کے اندر کوئی بھی چھپی ہوئی چیز نہیں ہے، اہل مدارس کو چاہئے کہ وہ اپنا حساب کتاب اور دستاویزات میں شفافیت رکھیں اور مدارس کی تاریخ سے اہل وطن کو واقف کرائیں، اجلاس میں شامل ہوئے سینکڑوں مدارس کے ذمہ داران نے بیک آواز مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی اور صدرالمدرسین مولانا سید ارشد مدنی کے ذریعہ پیش کردہ اس اعلامیہ کی حمایت کی،اجلاس دوران مدارس کے طلبہ کے لئے عصری تعلیم کا نظم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جمعیة علماءہند کے صدر مولانا سید ارشد دنی نے واضح الفاظ میں کہاکہ متنازعہ زمین پر بنائے گئے مدارس کی وہ قطعی حمایت نہیں کرتے ہیں اسلئے ایسے مدارس کے ذمہ داران کو از خود ایسے مدارس کو مناسب اور ادارہ کے نام خریدی گئی اراضی پر منتقل کرلینا چاہئے۔ مولانا مدنی نے صاف کیا ہے کہ انہیں سروے سے کوئی دقت نہیں ہے ،کیونکہ مدارس میں چھپانے کے لئے کچھ نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ مدارس کے دروازے سب کے لئے ہمیشہ سے کھلے ہیں اسلئے سروے سے ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے،انہوںنے کہاکہ مدارس کا جو نظام ہے وہ مکمل ہے اسلئے ہمیں مدارس کے لئے حکومت کی کسی امداد کی ضرورت نہیں ہے۔ مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے مدراس کے ڈیڑھ سو سالہ تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالی اور سروے کے متعلق دارالعلوم دیوبند کا موقف واضح کرتے ہوئے کہاکہ مدارس اسلامیہ کو ذرہ برابر حکومت کے سروے سے ڈرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ مدارس اسلامیہ کا ملک کی آزادی اور اس کی تعمیر و ترقی میں بنیادی کردار ہے اسلئے سروے ٹیم کوادارہ سے متعلق مکمل معلومات دیں۔
دارالعلوم دیوبند کے زیر اہتمام منعقد مدارس اسلامیہ اترپردیش کے نمائندہ اجلاس کے بعد جاری کردہ اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ اس رنگا رنگ تہذیبوں والے ملک میں بسنے والے تمام برادارانِ وطن کے سامنے اس حقیقت کا اظہار ضروری کہ ہندوستان کے طول وعرض میں چلنے والے دینی مدارس، اپنی تعلیمی وتربیتی اور ملکی وسماجی خدمات کی ایک روشن تاریخ رکھتے ہیں، یہ مدارس جن کا آغاز ملک پرانگریزوں کے تسلط کے بعد دارالعلوم دیوبند کے قیام سے ہوا تھا، ان کا مقصد مسلمانوں کے دینی ورثہ کی حفاظت کے ساتھ ساتھ وطن عزیز سے غیر ملکی تسلط کو ختم کرنا بھی تھا، اور انہوں نے ان دونوں مقاصد کو اعلیٰ معیارپر پوراکیا۔ ایک طرف ملک کی سب سے بڑی اقلیت کی تمام مذہبی ضروریات کا تکفل کیااور اُن کو اچھا مسلمان اور اچھا انسان بنانے میں اعلیٰ کردار اداکیا اور اس طرح ملک کو نہایت ذمہ دار مزاج کے حامل شہری عطاءکیے، دوسری طرف ملک کی آزادی کے لیے ہر قسم کی قربانی دی اور علماءکی قیادت میں مسلمانوں کو تحریک آزادی میں برادرانِ وطن کے دوش بدوش بلکہ اُن سے آگے بڑھ کر قربانیاں دینے کے لیے تیار کیا، جس کی گواہی اس ملک کا چپہ چپہ دیتا ہے اور جس کو تمام انصاف پسند تاریخ داں تسلیم کرتے ہیں۔پھر آزادی کے بعد بھی ان مدارس نے اپنا شاندار کردار جاری رکھا، ان سے ہمیشہ امن کی آواز بلند ہوئی، ملک کو اچھے شہری ملے اور مفت تعلیم کے ذریعہ ملک کی آبادی کے ایک نادار اور غریب حصہ کو اپنی بساط بھرزندگی بہتر بنانے کا موقع ملا۔مدارس کی تاریخ کا ایک روشن باب یہ بھی ہے کہ سب سے پہلے ا ن مدارس سے ہی دہشت گردی کے خلاف آواز بلند ہوئی اور انہیں کے فرزندوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود حالات کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مدارس کی محنت اور رہنمائی سے ہندوستانی مسلمانوں کی دنیا بھر میں نہایت صاف ستھری شبیہ قائم ہوئی، جس کا اعتراف اپنے اپنے وقت میں ذمہ داران حکومت اور وزراءنے بھی کیا۔ان مدارس کے کردار کا ایک حسین پہلو یہ بھی ہے کہ ان کی کوئی سرگرمی خفیہ نہیں ہے، مدرسوں کے اندر کسی کے آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہے، جس کی وجہ سے خفیہ محکمے اور تفتیشی ادارے بھی پوری طرح مطمئن رہتے ہیں اور ان میں کسی ملک دشمن سرگرمی کا کوئی ثبوت نہیں ملتاہے۔اپنے ملک اور اس کے نظام کے ساتھ مدارس کی وفاداری اور آئین وقانون کی پاسداری کی بھی اپنی ایک تاریخ ہے، چنانچہ آج تک کوئی مدرسہ، کسی ملک دشمن سرگرمی میں ملوث نہیں پایا گیا، اگر اتفاق سے کہیں بعض افراد پر الزام آیا تو اکثر وبیشتر وہ ثابت نہیں ہوا، اور اگر ہو بھی جائے تو اس کے لےے پورے مدرسہ کو یا مدارس کے نظام کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا،اس لیے تمام لوگوں کو چاہیے کہ مدارس کے امن پسند اور وطن دوست کردار کو سامنے رکھیں اور منفی باتوںسے متاثر نہ ہوں۔

مولانا محمود مدنی
مولانا محمود مدنی

یہ اجلاس، میڈیاکے ذمہ داروں اور نمائندوں سے بھی یہ اپیل کرتا ہے کہ مدارس کے تئیں مثبت رویّہ اپنائیں اور مدارس کے وطن دوست،پُرامن کردار کونمایاں کریں، اسی میں ملک کی بھلائی ہے، اور ملک میں بسنے والی تمام اقوام کی بھی۔یہ اجلاس،ملت اسلامیہ کے تمام طبقات سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ملت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے ان مدارس کی قدروقیمت کو محسوس کریں اور ایسے کسی بھی قول وفعل سے اجتناب کریں، جس سے مدارس کی حیثیت مجروح ہو یا اُن کے بارے میں کوئی منفی تاثر پیدا ہو، بلکہ حتی الامکان ایسے اقدامات کریں جن سے مدارس کو تقویت واستحکام حاصل ہو، اور ملک میں بھائی چارہ اور پیار ومحبت پیدا ہو۔یہ اجلاس، تمام مدارس اسلامیہ سے اپیل کرتا ہے کہ حکومت کی جانب سے ہونے والے حالیہ سروے کے عمل سے کسی خوف یا ذہنی انتشار کا شکار نہ ہوں، نہ کسی جذباتیت کا مظاہرہ کریں، بلکہ اس کو ایک ضابطہ کی کارروائی سمجھتے ہوئے تعاون کا طرز عمل اختیار کریں۔
سروے کے متعلق پیش کردہ اہم نکات
(۱) سروے ٹیم کو صحیح اور واقعی معلومات فراہم کرائیں، تاکہ کسی جانچ وغیرہ کے موقع پر دشواری نہ ہو، اگر ضابطہ کے اعتبار سے انتظامات میں کچھ کمی ہو تو جلد ہی اس کمی کو دور کرنے کی کوشش کریں۔(۲)مالیات کا نظام چست درست رکھیں، کسی آڈیٹر کے ذریعہ حسابات کی سالانہ جانچ کراکر اس کی رپورٹ محفوظ رکھیں اوراس سلسلے میں کوئی خامی باقی نہ رہنے دیں۔(۳) مدرسہ کی زمین جائداد کے ملکیتی کاغذات کو درست رکھیں، مدرسہ کو چلانے والی سوسائٹی یا ٹرسٹ اور مدرسہ کی جائداد کا رجسٹریشن قانونی تقاضوں کے مطابق کرالیں۔(۴) مدرسہ میں طلبہ کے لیے،صحت مند ماحول میں صاف ستھری رہائش اور کھانے کا بندوبست رکھیں، غسل خانوں اور استنجاخانوں کو خاص طور پر صاف رکھیں۔
مدارس میں عصری تعلیم کانظم کیا جائے
دارالعلوم دیوبند میں منعقد مدارس کے نمائندہ اجلاس میں مولانا سید ارشد مدنی نے صاف کیا ہے کہ مدارس نے کبھی بھی عصری تعلیم کی مخالفت نہیں کی ہے ،بلکہ مدارس میں ہمیشہ سے عصری تعلیم دی جاتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ دارالعلوم دیوبند کے بانی حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ کے دور میں بھی تجویز کردہ نصاب میں آٹھ سالہ عصری علوم شامل تھے لیکن بعد کے ادوار میں اس نصاب میں کمی کی گئی اورکورس کو تین سال تک کردیا گیاتھا، مگر اب ایک مرتبہ پھر دارالعلوم دیوبند نے عصری علوم کو ضرورت کے مدنظر مزید ترجیح دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے آئندہ سال سے فارسی درجہ کے بچوں کو اوپن بورڈ سے ہائی اسکول کرائے جانے کا اعلان کیا۔اور واضح کیا کہ اس کے بعد ہی انہیں عربی درجات میں داخل کیا جائیگا،وہیں حفظ و ناظرہ کے بچوں کو ابتدائی ہندی انگریزی کی تعلیم دی جائے گی۔اسی کے ساتھ مولانا سید ارشدمدنی نے ایک اور اہم فیصلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ دارالعلوم دیوبند میں اب سے سال پنجم کے بعد درجہ ششم و ہفتم عربی میں داخلہ لینے کے لئے ہائی اسکول کی ڈگری کو لازمی کردیا گیا ہے۔ انہوں نے اجلاس میں موجود دیگر مدارس کے ذمہ داران کو بھی عصری علوم کی اہمیت سے روشناس کراتے ہوئے مدارس میں زیر تعلیم طلبہ کو دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ حسب ضرورت عصری علوم دئیے جانے کا بندوبست کرنے کی اپیل کی ہے۔
سیکوریٹی اور میڈیا کی موجودگی
دارالعلوم دیوبند کی مسجد رشید میں مدارس کے سروے کے متعلق منعقد یوپی کے مدارس کے نمائندہ اجلاس کے دوران مسجد رشید کے آس پاس نیشنل میڈیا کا ہجوم موجودرہا ۔پروگرام کو نیشنل میڈیا نے کوریج کیا،میڈیا کو توقع تھی کہ دارالعلوم دیوبند کی جانب سے سروے کی مخالفت کی جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا ،جس کے سبب کچھ میڈیا ہاو¿س کو مایوسی ضرور ہوئی ہے،اس دوران ضلع انتظامیہ کی طرف سے بڑی تعداد میں سکوریٹی کا بندوبست کیاگیا تھا، مسجد رشید کے اطراف اور اعظمی منزل کے احاطہ میں پولیس اورفورس کے جوان تعینات رہے،اتنا ہی نہیں بلکہ خفیہ محکمہ کے افسران بھی پل پل کی اپڈیٹ لیتے ہوئے دکھائی دیئے۔ اجلاس کے دوران رکن شویٰ مولانا انوارالرحمن قاسمی،نائب مہتمم مفتی راشد اعظمی،مدرسہ شاہی سے مولانا اشہد رشیدی وغیرہ نے خطاب کیا ۔ اجلاس میں دارالعلوم زکریادیوبند کے مہتمم مفتی شریف خان قاسمی، کانپورسے مولانا عبداللہ امین الحق اسامہ،جامعہ رحمت گھگرولی کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عبدالمالک مغیثی،جامعة الشیخ کے مہتمم مولانا مزمل علی قاسمی،جامعہ دعوت الحق معینہ چررہو کے ناظم اعلیٰ مولانا شمشیر قاسمی سمیت صوبہ کے سرکردہ علماءکرام موجودرہے۔

Related posts

سونیا گاندھی نے ووٹروں سے جھوٹ اور نفرت کو مسترد کرنے کی اپیل کی

Hamari Duniya

غالب انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے غالب ایوارڈ 2023کیلئے ناموں کا اعلان

Hamari Duniya

آئی ٹی20 لیگ: ایم آئی ایمریٹس نے ابوظہبی نائٹ رائیڈرز کو ہرا دیا

Hamari Duniya