18.1 C
Delhi
February 29, 2024
Hamari Duniya
دہلی

دہلی اور گجرات میں آستین کے سانپوں کی وجہ سے ہاری ہے کانگریس۔مولانا سیدطارق انور

Maulana Sayed Tariq Anwar

نئی دہلی(ایچ ڈی نیوز)۔
ہماچل پردیش میں کانگریس کی فتح واقعی ایک تاریخ ساز کارنامہ ہے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی سے اس کا مضبوط قلعہ چھین کر کانگریس نے اپنی سیاسی سوجھ بوجھ کا ثبوت دیا ہے لیکن گجرات اور دہلی ایم سی ڈی کے انتخابات میں شکست فاش نے ایک بار پھر کانگریس کی اعلیٰ قیادت،ٹکٹوں کی تقسیم میں غےر دانشمندی اور پرچارکوں کی تعیش پسندی،تساہلی اور کاہلی کو واضح کیا ہے۔ان خیالات کا اظہار اسلامک پیس فاونڈیشن آف انڈیا کے چیئرمین، معروف سیاسی تجزیہ کاراورسماجی مفکر مولانا سید طارق انور نے کیا وہ آج گجرات،ہماچل اور دہلی کے مقامی انتخابات پر پریس سے اپنے رد عمل کا اظہار کررہے تھے۔
مولانا طارق انور نے کہا کہ ہماچل میں ویر بھدر کے ترقیاتی ماڈل اور ان کی اعلیٰ فکر کو عوام تک پہنچانے میں کانگریس کی ریاستی لیڈر شپ پوری طرح کامیاب رہی جس کے نتیجے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا۔انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت نے ہماچل کی ترقی کے جو دعوے کئے تھے ان میں سے ایک بھی پورا نہیں کیا ۔وہاں کی سرکار مطلق العنانی کا شکار تھی ،اسے لگتا تھا کہ عوام اس کے غلام ہیں اس لئے وہ اپنی جیت کو یقینی مان رہی تھی۔حالانکہ بھاجپاکے قومی صدر سمیت اسٹار کمپینرس کی پوری ٹیم نے ہماچل کے عوام کو رجھانے کی کوشش کی لیکن عوام ان کے جھانسے میں نہیں آئی اور ویر بھدر کے ترقیاتی ماڈل کے اعادے کے لئے اس نے کانگریس کو حکومت سازی کا موقع دیا۔
دہلی کے ایم سی ڈی انتخابات میں کانگریس کے ورکروں میں ریاستی و مرکزی قیادت کوئی جوش اس لئے پیدا نہیں کرسکی کہ یہاں زیادہ تر ان لوگوں کو ایم سی ڈی کا امیدوار بنایا گےا جن سے ےا تو عوام ناراض تھے یا جو کاﺅنسلر بننے کی اہلیت سے ہی محروم تھے۔دہلی میں جتنی سیٹیں کانگریس نے جیتی ہیں وہ امیدواروں کی اپنی شخصیت اور محنت کا نتیجہ ہیں۔اس بار بھی دہلی کے ایم سی ڈی انتخابات کے نتائج نے ثابت کردیا کہ کانگریس نے جس طبقے کو حاشیے پر دھکیل دیا ہے وہی اس کی ڈوبتی کشتی کا کھیون ہار ہے۔گجرات میں پارٹی کے اندرونی اختلافات،بکاﺅ لوگوں کو ٹکٹ دیا جانا،مرکزی قیادت اوراسٹار پرچارکوں کی تساہلی،مقامی رہبروں کی کاہلی اور انتظام میں مجرمانہ غفلت کی وجہ سے ذلت آمیز شکست ملی۔

کانگریس اگر ٹکٹوں کی تقسیم میں دانش مندی کا مظاہرہ کرتی،ریاستی یونٹ میں ان لوگوں سے پرہیز کرتی جو کانگریس میں رہ کر بھارتیہ جنتا پارٹی کی پالیسی کو کامیاب کرتے ہیں،چند پیسوں کے لئے اپنے ضمیر کا سودا کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تو شاید پارٹی کو اس قدر ذلت آمیز شکست فاش سے دوچار نہ ہونا پڑتا۔گجرات سرکار سے سماج کا ہر طبقہ پوری طرح ناراض تھا۔کانگریس اگر اس سے فائدہ اٹھالیتی تو آج ریاست کے اقتدار پر اس کا قبضہ ہوتا۔کانگریس کودہلی اور گجرات کی ہار سے سبق لینے کی ضرورت ہے ۔پارٹی کو بہت سنجیدگی سے مرکزی اور ریاستی سطح پر مناسب تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔جب تک اس کی آستین میں سانپ رہیں گے کانگریس کو شکست ملتی رہے گی۔:

Related posts

 نظام الدین مرکز کی مسجد پر دہلی پولس کی ٹیڑھی نظر

Hamari Duniya

جمال صدیقی اور کوثر جہاں نے خواجہ بختیار کاکی کے مزار پر چادر اور پھول پیش کیے

Hamari Duniya

معاشی طور پر کمزور طلباءکیلئے خوشخبری، ہند گرو اکیڈمی فراہم کررہی شاندار موقع

Hamari Duniya