نئی دہلی، 3 اگست(ایچ ڈی نیوز)۔
جمعیةعلماءہند کے صدرمولانا ارشد مدنی نے ہریانہ کے میوات علاقہ میں گزشتہ دنوں ہوئے فرقہ وارانہ تشددکو لیکر کی جانے والی بے دریغ اور یکطرفہ کارروائی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ قانون وانصاف کے ساتھ ایک سنگین مذاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کیوں برپاہوا اور کن لوگوں نے برپاکیا، پہلے اس کی ایماندارانہ جانچ ہونی چاہئے تھی اوراس کے بعد ہی کارروائی کی جانی چاہئے تھی، لیکن افسوس ہریانہ پولس قانون وانصاف دونوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایک مخصوص فرقہ کے لوگوں کی اندھادھند گرفتاریاں کرکے اس پورے علاقہ میں خوف ودہشت کا ماحول پیدا کرناچاہ رہی ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ یہ پہلاموقع ہے جب حیرت انگیزطورپر میڈیا کا ایک بڑاحلقہ کسی حدتک غیر جانبدارانہ رویہ کا مظاہر کرتے ہوئے نہ صرف وہاں کی انتظامیہ اورریاستی سرکارسے سوال پوچھ رہا ہے بلکہ بہت سی ایسی باتوں کو بھی اب وہ سامنے لا رہا ہے جوایک شرمناک سچ ہیں مگر جن پر ہریانہ کی ریاستی سرکارکی طرف سے مسلسل پردہ ڈالنے کی کوششیں ہوتی رہیں ہیں۔ خاص طورسے ایک شرپسند مونومانیسرکی گرفتاری اورمیوات کے خطہ میں نفرت کی آگ بھڑکانے کے اس کے مرکزی کردارپر اب میڈیا سوال کررہا ہے مگر اس کا کوئی تسلی بخش جواب دینے کے بجائے ریاستی سرکارکے اشارہ پر مسلمانوں کے خلاف یکطرفہ کارروائی شروع کردی گئی ہے، جگہ جگہ تلاشیاں ہورہی ہیں اورگھروں پر چھاپے مارے جارہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ میوات کے اس خطہ میں مسلمانوں کی آبادی کاتناسب 70 فیصدسے زیادہ ہے، یہاں ہمیشہ سے دونوں فرقوں کے درمیان محبت اورمذہبی رواداری کا جذبہ موجزن رہاہے۔ ہمیں بتایا گیاہے کہ تشدد کے دوران اس علاقہ میں مسلمانوں نے مقامی ہندوں اوران کے مذہبی مقامات کا تحفظ کیا ان پرکسی طرح کی کوئی آنچ نہیں آنے دیں، انہوں نے آگے کہا کہ اخبارات اورمیڈیا کے ذریعہ اب تک جوکچھ سامنے آیا ہے اس سے صاف پتہ چلتاہے کہ اشتعال انگیزی اورتشدد کو ہوا دینے والے باہرسے آئے تھے، ان میں مقامی ہندوشامل نہیں تھے چنانچہ ہم پرزورمطالبہ کرتے ہیں کہ باہر سے آئے ہوئے ان تخریب کاروں کی نہ صرف نشاندہی کی جائے بلکہ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی بھی ہو۔انہوں نے دعوی کیا کہ ایسا ہوہی نہیں سکتا کہ اس کی بھنک وہاں کی انتظامیہ اورپولس کو نہ لگی ہوجبکہ سوشل میڈیاپردھڑلے سے دھمکیوں بھرے اشتعال انگیز ویڈیواپلوڈ کئے جارہے تھے، یہ صاف اشارہ ہے کہ تشددبھڑکا نہیں ہے بلکہ بھڑکایا گیا ہے اوراب اس کا سارا الزام مسلمانوں کے سرمنڈھ کر ملک بھر میں منافرت اورمذہبی شدت پسندی کو ہوادینے کا ایک نیا کھیل شروع کردیا گیا ہے۔ معتبراطلاعات ہیں کہ یاترامیں شامل لوگ جب نوح سے نکلے توانہوں نے سوہنا اوراس کے اطراف کے علاقوں اورگروگرام کے بادشاہ پورمیں چن چن کر مسلمانوں کی دوکانوں کو نذرآتش کیا یہاں تک کہ گروگرام میں ایک مسجد میں گھس کر بلوائیوں نے نائب امام کوپیٹ پیٹ کر مارڈالااورمسجد میں آگ لگادی، مولانا مدنی نے سوال کیا کہ کیا یہ جرم نہیں ہے؟ اگرہے توپھر وہاں اندھادھند یکطرفہ کارروائیاں کیوں ہورہی ہیں؟
انہوں نے یہ بھی کہا کہ نوح میں جوکچھ ہورہاہے اس کے پیچھے سیاسی محرکات ہیں۔ فرقہ پرست ٹولی کو اپنی من مانی اورغنڈہ گردی کازمانہ جاتاہوادکھائی دے رہا ہے اس لئے منافرت کے ذریعہ مذہبی شدت پسندی کو ہوادی جارہی ہے تاکہ اس کے سہارے ایک بارپھر2024 کا پارلیمانی الیکشن جیت لیا جائے۔مولانامدنی نے آخرمیں کہا کہ بلاشبہ فرقہ پرستی اور مذہب کی بنیاد پرنفرت پیدا کرنے سے ملک کے حالات مایوس کن اورخطرناک ہیں، لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ امیدافزابات یہ ہے کہ تمام ریشہ دوانیوں کے باوجود ملک کی اکثریت فرقہ پرستی کے خلاف ہے، جس کی زندہ مثال کرناٹک کے الیکشن کے نتائج ہیں۔ ہم ایک زندہ قوم ہیں اورزندہ قومیں حالات کے رحم وکرم پے نہیں رہتی بلکہ اپنے کرداروعمل سے حالات کا رخ پھیر دیتی ہیں۔ یہ ہمارے امتحان کی سخت گھڑی ہے چنانچہ ہمیں کسی بھی موقع پر صبر یقین، امید اوراستقلال کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ نہ چاہے توہندوستان میں کہیں بھی فسادنہیں ہوسکتااس لئے ضلع انتظامیہ کو جوابدہ بنایا جانا ضروری ہے کیونکہ اگر ایس ایس پی اورڈی ایم کو اگریہ خطرہ لاحق رہے کہ فساد کی صورت میں خودان کی اپنی گردن میں پھندا پڑسکتا ہے توکسی کے چاہنے سے بھی کہیں فساد نہیں ہو سکتا ہے۔
previous post