4.4 C
New York
فروری 18, 2026
Regional News علاقائی خبریں

چراغِ علم کے امین: مولانا کمال احمد بستوی اور تعلیمِ نسواں کی روشن تحریک

تعلیم نسواں

کمہریا بزرگ، مہراج گنج (عبید الرحمن الحسینی): زمانہ گواہ ہے کہ جب بھی کسی قوم نے ترقی کی منازل طے کی ہیں، اس کی بنیاد علم پر رکھی گئی ہے۔ اور جب یہی علم بیٹیوں کے دل و دماغ میں اترتا ہے تو وہ صرف ایک فرد کی اصلاح نہیں کرتا بلکہ پورے معاشرہ کی تقدیر بدل دیتا ہے۔ اسی عظیم حقیقت کو اپنے قلب و نظر میں بسائے مدرسہ فاطمۃ الزہرا للبنات کے ناظمِ اعلیٰ حضرت مولانا کمال احمد صاحب بستوی ایک خاموش مگر مؤثر علمی انقلاب کے معمار بنے ہوئے ہیں۔
مولانا کمال احمد صاحب بستوی کا شمار ان مخلص اور درد مند شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کو تعلیمِ نسواں کے فروغ کے لیے وقف کر دیا ہے۔ ان کے دل میں یہ احساس شدت سے موجود ہے کہ اگر بیٹیوں کو علم کی روشنی سے محروم رکھا گیا تو معاشرہ کبھی حقیقی ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ یہی احساس انہیں مسلسل جدوجہد، محنت اور قربانی پر آمادہ رکھتا ہے۔
مدرسہ فاطمۃ الزہرا للبنات ان کی قیادت میں ایک ایسے علمی گلستان کی صورت اختیار کر چکا ہے جہاں ہر طرف علم کی خوشبو اور تربیت کی روشنی محسوس ہوتی ہے۔ یہاں آنے والی طالبات محض کتابوں کے اوراق نہیں پڑھتیں بلکہ وہ زندگی جینے کا سلیقہ، اخلاق کی بلندی اور کردار کی عظمت بھی سیکھتی ہیں۔ مولانا موصوف اس بات پر خصوصی توجہ دیتے ہیں کہ طالبات کے دلوں میں علم کی محبت، دین کی سمجھ اور انسانیت کا درد پیدا ہو، تاکہ وہ مستقبل میں معاشرہ کے لیے ایک مثبت اور تعمیری کردار ادا کر سکیں۔
ان کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کا اخلاص اور ان کا بلند عزم ہے۔ وہ اس یقین کے ساتھ کام کر رہے ہیں کہ آج جو بیٹیاں اس ادارہ میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں، وہ کل قوم کی رہنما، ایک مثالی ماں اور ایک باکردار خاتون بنیں گی۔ ان کی کوشش ہے کہ طالبات کو ایسا ماحول فراہم کیا جائے جہاں وہ خود اعتمادی کے ساتھ علم حاصل کریں، اپنی صلاحیتوں کو پہچانیں اور اپنی زندگی کو ایک عظیم مقصد کے لیے وقف کر سکیں۔
مولانا کمال احمد صاحب بستوی کی شب و روز کی محنت نے اس ادارہ کو علاقہ میں ایک نمایاں مقام عطا کیا ہے۔ ان کی نگرانی میں مدرسہ نہ صرف ایک تعلیمی مرکز بلکہ ایک تربیتی درسگاہ بھی بن چکا ہے، جہاں علم کے ساتھ ساتھ اخلاق، نظم و ضبط اور ذمہ داری کا شعور بھی پیدا کیا جاتا ہے۔ ان کا یقین ہے کہ ایک تعلیم یافتہ بیٹی پورے خاندان کے لیے روشنی کا مینار ثابت ہوتی ہے، اور یہی روشنی آگے چل کر ایک روشن معاشرہ کی بنیاد بنتی ہے۔
اہلِ علاقہ، سرپرست حضرات اور علمی حلقے مولانا کمال احمد صاحب بستوی کی ان بے مثال خدمات کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کی یہ جدوجہد محض ایک ادارہ کی ترقی تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ایسی خاموش تحریک ہے جو جہالت کے اندھیروں کو ختم کر کے علم کی روشنی کو عام کر رہی ہے۔
بلاشبہ، مولانا کمال احمد صاحب بستوی ایک ایسے معمار ہیں جو صرف عمارتیں نہیں بلکہ روشن ذہن، پاکیزہ کردار اور باوقار مستقبل تعمیر کر رہے ہیں۔ ان کی یہ علمی و تربیتی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے ایک عظیم سرمایہ اور صدقۂ جاریہ ہے، اور وہ دن دور نہیں جب ان کی محنت کے ثمرات ایک روشن، مہذب اور باعلم معاشرہ کی صورت میں نمایاں ہوں گے۔

Related posts

ضلع شاملی کے عازمینِ حج کے لیے 17 فروری کو خصوصی ٹیکہ کاری کیمپ، 192 عازمین مستفید ہوں گے

Hamari Duniya News

۔44 عازمین حج کو دیا گیا دماغی بخارکا ٹیکہ، دفتر انجمن اسلامیہ میں ہوا کیمپ کا انعقاد

Hamari Duniya News

قانون کی حکمرانی اور تخلیقی وفورکا سنگم، شیریں ظفر کی کتاب ’’عین رشید خان(مونوگراف )‘‘ کا اجرا

Hamari Duniya News