نئی دہلی، 20اگست (ایچ ڈی نیوز)۔
صدرجمعیةعلماءہند مولانا ارشدمدنی نے اپنے رنج وغم کااظہارکرتے ہوئے کہایہ خبر انتہائی رنج والم کے ساتھ سنی جائے گی کہ جمعیةعلماءہند کا قدیم ترین خادم گلزاراحمد اعظمی آج صبح تقریبا ساڑھے دس بجے ہزاروں سوگواروں کوداغ مفارقت دیکر اپنے خالق حقیقی کی بارگاہ میں چلا گیا، اناللہ واناالیہ راجعون۔ جناب گلزاراعظمی انتہائی کم عمری میں شیخ الاسلام مولانا سیدحسین احمد مدنی اورجمعیةعلماءہند سے وابستہ ہوئے اوراپنی پوری زندگی ملک وملت کی خدمت میں صرف کردی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب مہاراشٹر جمعیةعلماءکے روح رواں حکیم اعظمی صاحب مرحوم تھے اسی زمانہ میں 1955میں دینی تعلیمی کنونشن کا انعقاد ممبئی میں ہواتھا جس میں مرکزی دینی بورڈکا قیام عمل میں آیا، اس طرح اعظمی صاحب کی خدمات تقریبا65سال پر محیط ہے، ان کا عقیدہ تھا کہ آخرت کی کامیابی جمعیةعلماءہند کے ساتھ منسلک رہنے میں ہے، اس درمیان میں بہت سے نشیب وفرازرونماہوئے مگر ان کے پائے استقامت میں ذرہ بھرلغزش نہیں آئی، صداقت، حق گوئی، حق شناسی اوربے باکی ان کا طرہ امتیازتھا وہ عالم نہیں تھے لیکن عالموں کی صحبت نے ان کا مزاج عالمانہ بنادیاتھا، اسی وجہ سے بہت سارے لوگ مولانا سے خطاب کرتے تھے۔
ملک میں دہشت گردی کے الزام میں جب نوجوانوں کی اندھادھند گرفتاریاں ہونے لگیں اوران مظلوموں کے سایہ سے بھی لوگ دوربھاگنے لگے، مقدمات کی پیروی تودورکی بات، لوگ خبرگیری سے بھی کترانے لگے ان حالات میں میری درخواست پر جناب گلزاراحمد اعظمی نے کمرہمت باندھی اوردہشت گردی کے الزام میں جیل کی سلاخوں میں مقیدنوجوانوں کے مقدمات کی پیروی کابیڑااٹھایا، انہوں نے وکلاءکی ٹیم تیارکی اورپورے ملک میں مظلومین ومحروسین کی امداد ودادرسی میں کوئی کمی نہیں کی جس کے نتیجہ میں سیکڑوں باعزت بری ہوئے اورہزاروں ضمانت پر رہاہوکر اپنے اہل وعیال کی خبرگیری کافریضہ اداکررہے ہیں،جو لوگ دہشت گردی کے الزام سے باعزت بری ہوئے ہیں ان میں تیس لوگ تووہ ہیں جنہیں نچلی عدالتوں سے پھانسی کی سز اہوچکی تھی، یہی نہیں 89پھانسی اور125عمرقیدکی سزاپائے لوگوں کی اب بھی ہائی کورٹ اورسپریم کوٹ میں جمعیةعلماءہند کی قانونی امدادکمیٹی پیروی کررہی ہے، مولانامدنی نے کہا کہ ان کی رحلت سے ایساخلاپید ہواہے جس کا پرہونا مشکل ہے، اب ان صفات کا حامل دوسراکوئی نظرنہیں آتا، اعظمی صاحب کا شب وروز کا مشغلہ مظلومین، دہشت گردی کے الزام میں محروسین کی امدادودادرسی کاتھا چنانچہ 24گھنٹہ وہ دفتر میں گزارتے تھے، کسی وقت کوئی ان سے رابطہ کرتاوہ حاضررہتے، ان کے یہ کارنامے ان شاءاللہ تعالیٰ ان کی مغفرت اوترقی درجات کا ذریعہ بنیں گے، میں ورثاءاوراعزاءواقرباءسے تعزیت کرتاہوں اورملت کے بہی خواہوں اورہمدردان نیزجماعتی احبا ب سے مرحوم کے لئے مغفرت اورترقی درجات کی دعاکی درخواست کرتاہوں نیز مرحوم کے نعم البدل کے لئے بارگاہ رب العزت میں دعاءکی درخواست کرتاہوں۔ مرحوم 89سال کے تھے۔
