0.5 C
New York
فروری 3, 2026
Regional News علاقائی خبریں

مدرسہ اصلاحُ المسلمین میں آٹھواں سالانہ جلسۂ دستاربندیِ حفاظِ کرام کا شاندار انعقاد

مدرسہ اصلاحُ المسلمین

نئی دہلی، 02 جنوری: مدرسہ اصلاحُ المسلمین،بٹلہ ہاؤس ،نئی دہلی میں آٹھواں سالانہ جلسۂ دستاربندیِ حفاظِ قرآن نہایت عقیدت، روحانیت اور وقار کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس بابرکت موقع پر علماء کرام، حفاظِ قرآن، معزز شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کر کے محفل کو یادگار بنا دیا۔

جلسے کا آغاز قاری آباد، مظفر نگر کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ اس کے بعد حافظ ارشد صاحب اور قاری زاہد صاحب (استاد مدرسہ ہذا) نے نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کی، جس سے پورا ماحول نورِ ایمانی اور روحانی کیف میں ڈوب گیا۔

جلسے کے اہم مرحلے میں حفاظِ کرام کی دستاربندی کی گئی، جس پر حاضرینِ محفل نے مسرت اور خوشی کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مفتی شاہد سرور قاسمی (امام و خطیب، مسجد ابو بکر) اور مولانا عبدالستار قاسمی (امام و خطیب، مسجد بلال، سنگم وہار) نے خصوصی خطابات فرمائے۔ مقررین نے قرآنِ کریم کی عظمت، حفظِ قرآن کی اہمیت، دینی تعلیم کی ضرورت اور اخلاقی تربیت پر نہایت مؤثر اور فکرانگیز گفتگو کی۔

جلسے کی صدارت حضرت مولانا مفتی مستقیم قاسمی صاحب (امام و خطیب، مسجد النور) نے فرمائی، جبکہ نظامت کے فرائض مولانا شہزاد نعمانی نے خوش اسلوبی اور سلیقے کے ساتھ انجام دیے۔ مختلف ممتاز علماء کرام نے اپنے خطابات میں مدرسہ اصلاحُ المسلمین کی دینی و تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے ملتِ اسلامیہ کے لیے ایک قیمتی اثاثہ قرار دیا۔

مہمانانِ خصوصی میں عالم فرید، رضوان خان، ڈاکٹر عبدالقادر، ظفر پالوی اور ارشد تسلیم شامل تھے، جنہوں نے مدرسے کے ذمہ داران کی محنت، اخلاص اور دینی خدمات کی دل کھول کر تعریف کی اور حفاظِ کرام کے روشن مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اسٹیج کی رونق میں قاری اشفاق، حافظ احتشام، مولانا ابصار، حافظ غفران، حافظ عبید اللہ،مولانا اسامہ ،مولانا شمس الزماں اور قاری عتیق شامل رہے، جن کی موجودگی نے جلسے کی وقار میں مزید اضافہ کیا۔

آخر میں مدرسہ اصلاحُ المسلمین کے مہتمم قاری رستم صاحب نے تمام مہمانانِ کرام، علماء، حفاظ اور شرکائے جلسہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور دعا کے ساتھ جلسے کا اختتام ہوا۔
واضح ہو کہ مدرسہ اصلاحُ المسلمین دینی تعلیم کے فروغ میں ایک معتبر اور فعال ادارہ ہے، جہاں حفظِ قرآن کے ساتھ ساتھ طلبہ کی اخلاقی اور تربیتی نشوونما پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ یہ مدرسہ اخلاص، نظم و ضبط اور معیاری تعلیمی نظام کے ذریعے ملت کی نئی نسل کو روشن مستقبل کی جانب رہنمائی فراہم کر رہا ہے۔

Related posts

دارالعلوم جامعۃ الصدیق کے بانی و مہتمم کے والدِ محترم کا انتقال، علمی و روحانی حلقوں میں رنج و غم

Hamari Duniya News

شعبہ اردو‘ دیال سنگھ کالج دہلی یو نیورسٹی میں مقالہ خوانی کا اہتمام

Hamari Duniya News

بار کونسل اتر پردیش کے رکن کے انتخاب میں 640 وکلاء نے حقِ رائے دہی کا استعمال کیا

Hamari Duniya News