33.1 C
Delhi
June 15, 2024
Hamari Duniya
Breaking News قومی خبریں

کپل سبل (عدالت عظمی) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب

کپل سبل کو ایک 1066, پردیپ راے کو 689,آدیش سی اگر وال کو 296ووٹ ملے ہیں ۔:
Kapil Sibbal

نئی دہلی.ہماری دنیا ڈیسک(عظمت اللّٰہ خان)۔

بھارت کی آزاد عدلیہ “عدالت عظمیٰ “سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے عہدے کے لیے سینئر وکیل کپل سبل نے انتخاب جیت کر تاریخی فتح حاصل کی ہے۔ کپل سبل کو 1066 ووٹ ملے،کپل سبل سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے چوتھی بار صدر منتخب ہوئے ہیں۔جبکہ دوسرے دعویدار سینئر وکیل پردیپ رائے کو 689 ووٹ ملے۔ سبکدوش ہونے والے صدر سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر آدیش سی اگروال کو 296 ووٹ ملے ہیں۔واضح رہے کہ بھارت کی آزاد عدلیہ کا انحصار عدالت عظمی ہر ہے، جس کا سربراہ چیف جسٹس ہوتا ہے۔

عدالت عظمی کو اپنے نئے معاملات اور عدالت عالیہ کے تنازعات دونوں کو دیکھنے کا حق ہے۔ بھارت میں 24 عدالت عالیہ ہیں جن کے حقوق اور ذمہ داریاں عدالت عظمی کے مقابلے میں محدود ہیں۔ عدلیہ اور مقننہ کے باہمی اختلافات یا تنازع کو صدر جمہوریہ حل کرتا ہے۔جب کہ بھارتی عدلیہ عام قانون (کامن لا/ عوامی قانون) پر مبنی ہے۔ یہ نظام انگریزوں نے نوآبادیاتی حکومت کے وقت بنایا تھا۔ اس نظام کو “عام قانون” کے نام سے جانا جاتا ہے جس میں جج اپنے فیصلوں، احکام اور فیصلوں سے قانون کی ترقی کرتے ہیں۔ بھارت میں مختلف سطحوں اور مختلف قسم کی عدالتیں ہیں۔ نئی دہلی میں بھارت کی عدالت عظمٰی(سپریم کورٹ) موجود ہے اور اس کے تحت مختلف ریاستوں میں عدالت عالیہ ہیں۔ عدالت عالیہ کے تحت ضلعی عدالتیں اور اس کے تحت جو عدالتیں ہیں انھیں “نچلی عدالت” کہا جاتا ہے.سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے عہدے کے دیگر دعویداروں میں پریا ہنگورانی، تریپوراری رے، نیرج سریواستو شامل تھے۔ یہ چوتھی بار ہوگا ،جب کپل سبل ایس سی بی اے کے صدر کے طور پر کام کریں گے۔ سبل پہلے تین بار ایس سی بی اے کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ وہ آخری بار تئیس سال قبل 2001 میں صدر بنے تھے۔ اس سے قبل وہ 1995-96 اور 1997-98 کے دوران صدر رہ چکے ہیں۔کپل سبل نے 8 مئی کو سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کے صدر کے عہدے کے لیے اپنی امیدواری کا اعلان کیا تھا۔ کپل سبل، ہارورڈ لاء اسکول کے گریجویٹ، 1989-90 کے دوران ہندوستان کے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل تھے۔ انہیں 1983 میں سینئر وکیل کے طور پر نامزد کیا گیا تھا۔ سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے 1995 سے 2002 کے درمیان تین بار ایس سی بی اے کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔قبل ازیں سپریم کورٹ نے ہدایت دی تھی کہ ایس سی بی اے کی ایگزیکٹو کمیٹی میں کچھ عہدے خواتین ارکان کے لیے مختص کیے جائیں۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس کے وی وشواناتھن کی بنچ نے کہا تھا کہ اس کا ماننا ہے کہ ایس سی بی اے ایک اہم ادارہ ہے۔ یہ ملک کے اعلیٰ ترین عدالتی فورم کا اٹوٹ انگ ہے۔ اس نے ہدایت کی تھی کہ بار کی خواتین ممبران کے لیے ریزرویشن ہو گا۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں کپل سبل کی فتح سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ائندہ ملک میں حکومت کی تبدیلی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

Related posts

موجودہ حکومت مسلم دشمنی کی بدترین مثال: مولانا ارشد مدنی

Hamari Duniya

یوئیفا ویمنز چیمپئنس لیگ میں کھیلنے والی پہلی بھارتی خاتون کھلاڑی بنیں منیشا کلیان

Hamari Duniya

انڈیااتحاد کو ووٹ دیں پانی کے بل 15 دنوں کے اندر معاف کر دیے جائیں گے:وزیراعلیٰ

Hamari Duniya