کیرانہ، 9 فروری (عظمت اللہ خان)
کیرانہ میں سابق چیئرمین، ان کے ڈرائیور اور 10 تا 15 نامعلوم افراد کے خلاف ایک وارڈ کے ممبر سمیت دو خواتین اور ایک شخص کے ساتھ جان لیوا حملہ اور مارپیٹ کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ پولیس نے ایک خاتون سمیت زخمیوں کا طبی معائنہ کرا دیا ہے جبکہ تحریری شکایت کی بنیاد پر معاملے کی جانچ پڑتال میں مصروف ہے۔
وارڈ نمبر 12 کے ممبر، محلہ نگر اکرام پورہ ساکن فرقان ولد باداللہ (عباداللہ)نے کوتو الی میں دی گئی تحریر میں بتایا کہ ان کی خالہ کے لڑکے نور حسن ولد عالم دین کی رہائشی جائیداد محلہ آریہ پوری میں واقع ہے۔ مذکورہ جائیداد نور حسن کی اہلیہ انوری کے نام رجسٹرڈ ہے اور وہی اس کی قابض ہیں، جبکہ نور حسن نے آمد و رفت کے لیے اس میں راستہ بنا رکھا ہے۔ الزام ہے کہ سابق چیئرمین حاجی انور حسن، ان کے ڈرائیور فرمان ولد بابو، توصیف اور محسن پسران فیلا، ساکنان محلہ آریہ پوری، مذکورہ جائیداد پر قبضہ کرنے کی نیت سے نور حسن اور انوری سے رنجش رکھتے ہیں۔
تحریر کے مطابق پیر کی صبح تقریباً 9 بجے نور حسن اور انوری اپنی رہائشی جائیداد پر موجود تھے کہ اسی دوران سابق چیئرمین حاجی انور حسن ولد حاجی اختر حسن ساکن محلہ آل درمیاں، ان کے ڈرائیور فرمان، توصیف، محسن اور 10 تا 15 نامعلوم افراد اسلحہ سے لیس ہو کر ایک رائے کے تحت گالی گلوچ کرتے ہوئے جائیداد میں داخل ہو گئے اور نور حسن، انوری اور ریحانہ زوجہ دلشاد کے ساتھ جان سے مارنے کی نیت سے مارپیٹ کی۔ اس دوران ریحانہ کے دائیں ہاتھ میں شدید چوٹیں آئیں۔
شور و غل سن کر جب فرقان موقع پر پہنچے اور نور حسن، انوری اور ریحانہ کو بچانے کی کوشش کی تو الزام ہے کہ سابق چیئرمین، ان کے ڈرائیور اور دیگر افراد نے ان پر بھی جان لیوا حملہ کر کے سر میں چوٹ ماری۔ جاتے جاتے ملزمان نے نور حسن، انوری اور ریحانہ کو جان سے مارنے کی دھمکی دی اور موقع سے فرار ہو گئے۔ کوتوالی انچارج سیم پال آتری نے بتایا کہ زخمیوں کا میڈیکل کرایا گیا ہے۔ موصولہ تحریر کی جانچ کی جا رہی ہے اور حقائق کی بنیاد پر آئندہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
