31.7 C
Delhi
May 24, 2024
Hamari Duniya
Breaking News بزنس

ٹیلی کام سیکٹر میں ریلائنس جیو کے 6 سال مکمل، 5 جی لانچنگ کے بعد کمپنی کو ہے یہ امید

Jio 6 years

نئی دہلی(ایچ ڈی نیوز)
ٹیلی کام سیکٹر کی ممتاز کمپنی ریلائنس جیو، 5 ستمبر 2022 کو اپنے آغاز کی 6ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ ان 6 سالوں میں، ٹیلی کام انڈسٹری نے ہر ماہ اوسطاًفی کس ڈیٹا کی کھپت میں 100 گنا سے زیادہ اضافہ درج کیا ہے۔ ٹرائی کے مطابق، جیو کے لانچ سے پہلے، ہر ہندوستانی صارف ایک مہینے میں صرف 154 ایم بی ڈیٹا استعمال کرتا تھا۔ اب ڈیٹا کی کھپت کا اعداد و شمار 100 گنا بڑھ کر 15.8 جی بی فی ماہ فی سبسکرائبر کی حیران کن سطح پر پہنچ گیا ہے۔ دوسری طرف، جیو صارفین ہر ماہ تقریباً 20 جی بی ڈیٹا استعمال کرتے ہیں، جو کہ انڈسٹری کے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔
مکیش امبانی نے دیوالی تک 5 جی لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔5 جی کے آغاز کے بعد، ڈیٹا کی کھپت میں بڑا اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ حال ہی میں جاری کی گئی ایرکسن موبلٹی رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 5 جی متعارف کرانے کے بعد اگلے تین سالوں 2 گنا سے زیادہ بڑھ جائے گی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ 5 جی ٹیکنالوجی کی ہائی پرفارمینس اور ہائی اسپیڈ کی بدولت نئی صنعتیں پروان چڑھیں گی جو صارفین کی ایک بڑی تعداد کو راغب کریں گی۔ اس کے علاوہ ویڈیوز کی مانگ میں تیزی سے اضافہ بھی ممکن ہے، جس کی وجہ سے ڈیٹا کی مانگ میں مزید اضافہ ہوگا۔4 جیٹیکنالوجی اور سپیڈ میں ریلائنس جیو کا ریکارڈ شاندار رہا ہے۔ اب 5 جی کے حوالے سے کمپنی کے بڑے منصوبے بھی سامنے ا?رہے ہیں۔ کمپنی کنیکٹڈ ڈرونز، کنیکٹڈ ایمبولینس۔ہسپتال، کنیکٹڈ کھیت۔ کھلیان، کنیکٹڈ اسکول۔کالج، ای کامرس ایز، ناقابل یقین رفتار پر تفریح، روبوٹکس، کلاو¿ڈ پی سی، امرسیو ٹیکنالوجی کے ساتھ ورچوئل تھنگس جیسی ٹیکنالوجیز میں مہارت حاصل کر رہی ہے۔
جب ریلائنس انڈسٹریز کے چیئرمین مکیش امبانی نے 6 سال قبل جیو کو لانچ کیا تھا، تو کوئی بھی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ اس کے آغاز کے چند ہی سالوں میں جیو نہ صرف ملک بلکہ دنیا کی سب سے بڑی ٹیلی کام کمپنیوں میں سے ایک بن جائے گی۔ آج جیو ہندوستان میں 41.30 ملین موبائل اور تقریباً 7 ملین جیو فائبر صارفین کے ساتھ 36 فیصدیمارکیٹ شیئر پر قابض ہے۔ آمدنی کے لحاظ سے اس کا حصہ 40.3 فیصد ہے۔ جیو کی دیسی 5 جی ٹیکنالوجی کی بدولت آنے والے وقت میں کیا تبدیلیاں آئیں گی یا آسکتی ہیں اس کی تصویر گزشتہ 6 سالوں میں کمپنی کی کامیابیوں میں نظر آتی ہے۔
وائس کالنگ کے بڑے بل بھرنے والے اس ملک میں جیو نے آوٹ گوئنگ وائس کال کو فری کردی اور وہ بھی سبھی نیٹ ورکس پر، گراہکوں کیلئے یہ پہلا تجربہ تھا۔ موبائل رکھنا اب پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہوگیا ہے۔ موبائل بلوں میں بھی کافی کمی آئی ہے۔ جیو کی مفت آو¿ٹ گوئنگ کال فری کرنے سے باقی آپریٹروں پر بھاری دباو¿ بنا اور انہیں بھی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کر دام کم کرنے پڑے۔بھارت میں صرف ڈیٹا کی کھپت سب سے زیادہ ہے، پچھلے 6 سالوں میں ڈیٹا کی قیمتیں بھی آسمان سے زمین پر آ گری ہیں۔ جیو کے لانچ کے وقت اپنے ملک میں صارفین کو 1 جی بی ڈیٹا کے لیے تقریباً 250 روپے ادا کرنے پڑتے تھے۔ ڈیٹا کی قیمتوں پر جیو کے حملہ کا ہی نتیجہ ہے کہ آج یعنی 2022 میں یہ تقریباً 13 روپے میں مل رہا ہے۔ یعنی 6 سالوں میں ڈیٹا کی قیمتوں میں تقریباً 95 فیصد کمی آئی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس لیے بھی خاص ہیں کیونکہ دنیا کی بڑی معیشتوں میں ڈیٹا کی قیمتیں ہندوستان میں سب سے کم ہیں۔
ریلائنس جیو ہندوستانی ڈیجیٹل معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بنا ہوا ہے۔ حکومتی کوششوں اور جیو کے سستے ڈیٹا سے حاصل ہونے والی بیداری نے ڈیجیٹل معیشت میں جان پھونک دی ہے۔ جیو کے آغاز کے وقت یعنی ستمبر 2016 میں یو پی آئی کے ذریعے صرف 32.64 کروڑ لین دین ہوتا تھا۔ اگست 2022 تک، اس میں بہت زیادہ اضافہ ہوا، آج یو پی آئی ٹرانزیکشن10.72 لاکھ کروڑ روپے کا ہوتا ہے۔ وجہ صاف ہے کہ گزشتہ 6 سالوں میں نہ صرف براڈ بینڈ صارفین کی تعداد 19.23 ملین (ستمبر 2016 )سے بڑھ کر تقریباً 800 ملین (جون 2022 )تک پہنچ گئی بلکہ انٹرنیٹ کی اوسط رفتار بھی 5 گنا بڑھ کر 5.6 ایم بی پی ایس (مارچ 2016 ) سے23.16 ایم بی پی ایس (اپریل 2022 ) جا پہنچی۔
آج ہندوستان 105 یونیکورن کمپنیوں کا گھر ہے۔ جن کی مالیت 338 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔ جبکہ جیو کے لانچ سے پہلے ہندوستان میں صرف 4 یونیکورن کمپنیاں ہوا کرتی تھی۔ یونیکورن دراصل ان اسٹارٹ اپ کمپنیوں کو کہا جاتا ہے جن کی مجموعی مالیت 1 بلین ڈالر سے تجاوز کر جاتی ہے۔ سال 2021 میں یونیکورن کمپنیوں کی فہرست میں 44 اسٹارٹ اپس نے اپنی جگہ بنائی ہے۔ نیا بنا ہوا یونیکورن اپنی کامیابی کا سہرا جیو کو دیتا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں یونی کارن کمپنی زوماٹو کی بمپر لسٹنگ کے بعد، زوماٹو کے بانی اور سی ای او دیپندر گوئل نے باضابطہ طور پر جیو کا شکریہ ادا کیا تھا۔
ملک میں تقریباً 50 کروڑ لوگ پرانی اور مہنگی (کالنگ کیلئے) 2 جی ٹیکنالوجی کا استعمال صرف اس لیے کر رہے تھے کہ ان کے پاس 4 جی ٹیکنالوجی پر چلنے والے مہنگے فون خریدنے کے لیے پیسے نہیں تھے یا تو وہ بٹن والا فون ہی استعمال کرنا چاہتے تھے۔ جیو نے سستی قیمتوں پر 4 جی جیو فون لانچ کرکے ان دونوں ہی دقتو ں کو دور کردیا۔ جیو فون ہندوستانی مارکیٹ میں اب تک کا سب سے کامیاب موبائل فون ثابت ہوا۔ اس کی 11 کروڑ سے زیادہ یونٹ فروخت ہوئی ہیں۔ حاشیئے پر رہ رہے کروڑوں لوگوں کو جیو نے جیو فون کی معرفت ڈیجیٹل دنیا سے جوڑا ہے۔
لاک ڈاون کی مشکلات جھیل رہے ملک میں جیو کی فائبر سروس ایک بڑا سہارا بن کر ابھری تھی۔ سوچیئے لاک ڈاون میں انٹر نیٹ نہ ہوتا تو ہماری کیا حالت ہوتی۔ ورک فروم ہوم، کلاس فروم ہوم یا ای۔ شاپنگ جیوفائبر نے اپنی معتبر سروس اورا سپیڈ سے کوئی کام ر±کنے نہیں دیا۔ تین سالوں میں ہی 70لاکھ احاطے جیو فائبر سے جڑ چکے ہیں۔ ورک فروم کا کلچر کمپنیوں کو ایسا راس آیا کہ لاک ڈاون کے بعد بھی بہت سی کمپنیاں ورک فروم پر ہی زور دے رہی ہیں۔ زندگی آسان بنانے کے علاوہ جیو فائبر بالواسطہ طور پر روزگار بھی پیدا کر رہا ہے۔ گذشتہ کچھ برسوں میں ابھری متعدد انٹرنیٹ، ای۔ کامرس ، ہوم ڈلیوری اور انٹرنیٹ کمپنیوں نے ہزاروں۔ لاکھوں کو کام دیا ہے۔

Related posts

سعودی عرب میں عازمین حج کے ساتھ بھول کر بھی نہ کریں یہ کام، ورنہ دینا پڑے گا بھاری جرمانہ

Hamari Duniya

بھٹنڈا ملٹری اسٹیشن میں فائرنگ کے واقعہ پرآرمی چیف نے وزیردفاع کو دی بریفنگ،بتایا کیسے ہوا حملہ

Hamari Duniya

بورس جانسن پھر بنیں گے برطانیہ کا وزیراعظم، لیکن راہ آسان نہیں

Hamari Duniya