جمعیة علماءہند کے وفد کی ساندل گاوں کے زخمی نمازیوں سے ملاقات
حملہ آور کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرین کو معقول معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا
پانی پت،11اپریل(ایچ ڈی نیوز)۔
صدر جمعیة علماءہند مولانا محمود مدنی کی ہدایت پر جمعیة علماءہند کا ایک وفد جنرل سکریٹری جمعیةعلماءمتحدہ پنجاب مولانا یحییٰ کریمی کی قیادت میں سونی پت کے ساندل کلاں میں نمازیوں پر ہوئے حملے کی تحقیق اور متاثرین کی داد رسی کے لیے پہنچا۔ واضح ہو کہ سندال کلاں گاوں مقامی شرپسندوں نے عین تراویح کی نماز کے دوران جب کہ لوگ سجدے میں تھے لاٹھی ڈنڈے اور دھار دار اسلحوں سے حملہ کر دیا جس کی وجہ سے دس سے 12 نمازی بری طرح زخمی ہوگئے، زخمی ہونے والوں میں عورتیں، بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزموں کی گرفتاری کرلیا ہے، لیکن اس کے باوجود اکثریتی طبقہ کے اس گاوں میں جہاں محض 15 گھرمسلمانوں کے ہیں۔ وہاں کے مسلمان خوفزدہ اور ڈرے ہوئے ہیں۔جمعیة علماءکے وفد نے سب سے پہلے سونی پت کے سول ہسپتال میں زیر علاج اللہ مہر سے ملاقات کی جن کی عمر 84 سال ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بغیر کسی جھگڑے اور تناو ان شرپسندوں نے ان پر اور ان کے دیگر ساتھی نمازیوں پر حملہ کردیا، ہمیں اس کا بالکل احساس نہیں تھا، حملہ آور ہمارے پڑوسی ہیں، ہمارے سامنے بڑے ہوئے ، ہمارے بچوں کی طرح تھے ، جب ملک تقسیم ہوا، بڑی تعداد میں لوگ ہجرت کرگئے ، لیکن میں نے اس دھرتی کو چنا ،میں آج 84 سال کا ہوگیا ہوں، ان میں سے بہت سارے لوگوں کے دادا پردادا کی عمر کا ہوں، میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میرے ساتھ اپنے وطن میں ایسا ہوگا، آج میرا ہاتھ ٹوڑدیا گیا لیکن اس سے زیادہ میرا دل زخمی ہے۔ جمعیت کے وفد نے ان کا حوصلہ بڑھایا اور امید ظاہر کی کہ ظالموں کو سخت سزا ملے گی۔
اس کے بعد جمعیت کے وفد نے پی جی آئی خان پور کلاں کا دورہ کیا جس میں شدیدزخمی زیر علاج ہیں، وہاں پر وفد کی ملاقات اشتیاق علی، صابر علی، زلیخا زوجہ اشتیاق، نرگس، زرینہ زوجہ صابر علی، علی تاب سے ہوئی۔ یہ سب شر پسندوں کے حملے میں شدید طور سے زخمی ہیں۔ اشتیاق علی 63سال کے ہیں اور یومیہ مزدور ہیں، انھوں نے بتایا کہ نہ صرف یہ کہ مسجد اور نمازیوں پر حملہ کیا گیا کیا بلکہ قرآن مجید کو پھاڑ یا اس کے بعد ہمارے گھروں پر بھی ان لوگوں نے حملہ کیا عورتوں ، بچوں بوڑھوں کو مارا۔آج ہم بہت بے بس ہیں ، گرچہ ملزموں کو جیل کے اندر بند کر دیا گیا ہے لیکن اس گاوں میں ہمارا مستقبل اب کیا ہے، جہاں ہم چھوٹی سی مسجد میں پانچ وقت کی نماز ادا کرتے تھے اور ہم میں سے بہت سارے لوگ بہت غریب ہیں۔ اس موقع پر ایک زخمی خاتون نے بتایا کہ وہ اپنے بھائی کو بچانے کے لیے لئے اس کے بدن پر گر گئی، تو شر پسندوں نے میرے اوپر لاٹھی برسائی، اس سے میری ہڈی ٹوٹ گئی ، اس نے بتایا کہ ان کا حملہ اتنا وحشیانہ تھا کہ محسوس ہوا کہ وہ ہمیں مٹا دینا چاہتے ہیں۔وہاں زیر علاج علی تاب پہلے سے ہی کافی دنوں سے بیمار چلا رہا تھا، شرپسندوں نے اس کے پاو¿ں پر اس طرح حملہ کیا ہے کہ اب طویل عرصے تک اس کا اٹھنا چلنا پھرنا مشکل ہے، تاب کو پہلے سے ٹی وی جیسی مہلک بیماری ہے اور اس کا علاج بھی چل رہا تھا، قائد وفد نے اس کی مالی مدد بھی کی۔وفد نے لوگوں کو ایمان پر قائم رہنے اور صبر کی تلقین کی۔
اس موقع پر مولانا یحییٰ کریمی نے یقین دلایا کہ اس واقعے کی مکمل رپورٹ صدر جمعیت علماءہند مولانا محمود مدنی کی خدمت میں پیش کی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر وزیر اعلی کو خط لکھ کر متوجہ کیا جائے گا۔ انھوں نے انتظامیہ سے امن و امان بحال رکھنے اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دلانے کا مطالبہ کیا، نیریہ مطالبہ بھی کیا کہ حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اور مصالحت اور نرمی کی غیر ضروری تجویز نہ رکھی جائے۔جمعیة کے وفد میں قائد مولانا یحییٰ کریمی کے علاوہ مولانا عظیم اللہ صدیقی قاسمی دفتر جمعیت علماءہند، حاجی اکرام صدر جمعیت علماءپانی پت، مولانا ناظر کریمی، مولانا ساجد قاسمی، اور مقامی عالم دین مولانا قاری زاہد حسین شامل ہیں۔