جامعۃ الصالحات للبنات اور مدرسہ حسینیہ دار ارقم بوچی کی سالانہ امتحان و اجلاس عام کی خصوصی رپورٹ۔
خامۂ بکف: منصوراحمدحقانی (صحافی)
ارریہ کی علمی و ادبی زمین ہمیشہ سے زرخیز رہی ہے اور یہاں کے تعلیمی اداروں نے ملت کی آبیاری میں ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے اسی تسلسل کی ایک کڑی ضلع کے معروف تعلیمی ادارے جامعۃ الصالحات للبنات اور مدرسہ حسینیہ دار ارقم بوچی، ڈمریا ٹولہ کا وہ حالیہ پروگرام ہے جس نے علاقے میں ایک نئی تعلیمی لہر پیدا کر دی ہے۔ ان اداروں میں سالانہ امتحانات کے بحسن و خوبی اختتام پر ایک دو روزہ عظیم الشان اجلاس عام اور انعامی و تقابلی پروگرام کا انعقاد کیا گیا جس میں نہ صرف طلبہ و طالبات کی علمی و عملی بیداری کا امتحان لیا گیا بلکہ جید علماء کرام نے اپنے فکر انگیز خطابات سے معاشرے کی رگوں میں نیا خون دوڑانے کی کوشش کی۔ اجلاس کی پہلی نشست جو خالصتاً طلبہ اور طالبات کے درمیان ایک علمی و پروقار تقابلی پروگرام پر مبنی تھی، اس کی نظامت مولانا منصور احمد حقانی نے نہایت خوش اسلوبی، گہرائی اور منظم انداز میں انجام دی، جس کے دوران انہوں نے وقت کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے طلبہ کو مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار رہنے کی تلقین کی۔ اس علمی مقابلے میں بچیوں نے اپنی غیر معمولی ذہانت اور مطالعے کی وسعت کا لوہا منواتے ہوئے حاضرین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا، نتائج کے مطابق ثناء پروین بنت حافظ فیروز احمد حسینی نے اول، سہانہ پروین بنت عبدالرزاق نے دوم اور اقرا ناز بنت میر عمیر نے سوم پوزیشن حاصل کر کے یہ ثابت کر دیا کہ اگر درست سمت میں محنت کی جائے تو صنفِ نازک بھی علمی میدان میں کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ کامیاب طالبات کو ٹرافیوں اور حکیم الامت حضرت تھانویؒ کی مشہور زمانہ تصنیف ‘بہشتی زیور’ کے تحائف سے نوازا گیا تاکہ وہ اپنی زندگیوں کو شریعت کے سانچے میں ڈھال سکیں۔ اس مقابلے میں دیگر شرکاء نے بھی جس خود اعتمادی کے ساتھ حمد و نعت، فصیح و بلیغ تقاریر، چہل حدیث اور پیچیدہ علمی و فقہی مسائل پر مبنی مکالمے پیش کیے اس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ اساتذہ نے ان کی تربیت پر اپنا خون پسینہ ایک کیا ہے ان بچوں نے عصری و دینی علوم کے سنگم پر کھڑے ہو کر اپنے روشن مستقبل اور اپنے والدین کے ساتھ ساتھ اپنے اساتذہ اور مدرسہ کا نام روشن کیا۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں منعقدہ سالانہ امتحانات میں بھی طلبہ و طالبات کے نتائج نہایت شاندار اور مثالی رہے۔ تعلیمی سال کے اختتام پر ہونے والے سالانہ امتحانات کی کارکردگی کسی بھی ادارے کی اصل جان ہوتی ہے، جامعہ الصالحات للبنات/ مدرسہ حسینیہ دارارقم کے ممتحنین نے بتایا کہ ہرسال کی طرح امسال بھی امتحانی نتائج نہایت حوصلہ افزا اور شاندار رہے ہیں جس پر انتظامیہ اور اساتذہ مبارکباد کے مستحق ہیں۔ امتحانی کمیٹی کی تفصیلی رپورٹ کے مطابق حفظِ قرآن کریم، ناظرہ، عربی درجات اور عصری مضامین جیسے ریاضی، سائنس اور زبان و ادب میں طلبہ کی دلچسپی مثالی رہی ہے، امتحانات کے دوران شفافیت کا خاص خیال رکھا گیا تھا تاکہ ہر طالب علم کی اصل استعداد سامنے آ سکے اور ان کی کمزوریوں کو دور کر کے اگلے تعلیمی سال میں مزید بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ اس موقع پر حضرات ممتحن نے واضح کیا کہ امتحان محض کاغذ پر چند سوالوں کے جواب دینے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک طالب علم کے صبر، ضبط اور سال بھر کی محنت کا نچوڑ ہوتا ہے، جامعہ کے اساتذہ نے جس خلوص سے ان نو نہالوں کی آبیاری کی ہے اس کا عکس ان کے چہروں پر چمکتے ہوئے اطمینان اور ان کے علمی لہجے سے عیاں تھا۔
اجلاس کی دوسری نشست، جو کہ ایک عوامی اجتماع کی صورت اختیار کر گئی تھی، اس کی نظامت مولانا محمد داؤد نعمانی نے نہایت وقار کے ساتھ کی، جبکہ قاری مطیع الرحمن قاسمی بدھیسری کی مسحور کن تلاوت اور قاری قمر الزماں کی مدینہ منورہ کی یاد دلاتی نعت پاک سے محفل کا روحانی آغاز ہوا۔ اس نشست کے مہمان اعزازی مفتی اعزاز الحق قاسمی میرٹھی (خلیفہ مجاز حضرت شیخ الحدیث و مہتمم دارالعلوم دیوبند) نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں عقیدے کی مرکزیت پر گفتگو کرتے ہوئے ایک ایسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا جو موجودہ دور کا سب سے بڑا المیہ ہے، انہوں نے فرمایا کہ انسانی زندگی کا ہر عمل اس کے عقیدے کے تابع ہوتا ہے اور اگر بنیاد ہی ٹیڑھی ہو تو اس پر تعمیر ہونے والی دیوار کبھی سیدھی نہیں رہ سکتی۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ درست عقیدے کے بغیر دنیا بھر کی عبادتیں، ریاضتیں اور خیراتی کام اللہ کی بارگاہ میں ذرہ برابر بھی حیثیت نہیں رکھتے، اس لیے ایمان کی حفاظت ہر چیز پر مقدم ہونی چاہیے۔ مفتی صاحب نے آج کے ڈیجیٹل دور کے فتنوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نوجوان نسل کو مشورہ دیا کہ وہ موبائل فون اور انٹرنیٹ پر موجود ہر ایرے غیرے کی تقریر سن کر اپنے ایمان کو خطرے میں نہ ڈالیں، بلکہ کسی بھی عالم کو سننے یا کسی نظریے کو اپنانے سے پہلے اپنے قریبی مستند اور جید علماء سے اس کی تصدیق ضرور کر لیں تاکہ ان کا فکری انتشار ختم ہو سکے اور وہ صراطِ مستقیم پر گامزن رہ سکیں۔
مفتی محمد امجد قاسمی (امام و خطیب منی مسجد اسلام آباد میرٹھ) نے مدارس کی معنویت اور ان کی بقا کی اہمیت کو بڑے ہی جذباتی انداز میں واضح کیا انہوں نے کہا کہ یہ مدارس دراصل وہ قلعے ہیں جو مسلمانوں کی دینی شناخت کے محافظ ہیں اگر خدانخواستہ یہ مراکز کمزور ہوئے تو ہماری تہذیب اور ہمارا دین ہم سے چھن جائے گا، یہاں تک کہ ہماری نسلیں اتنی ناخواندہ ہو جائیں گی کہ انہیں میت کا جنازہ پڑھانے والا بھی میسر نہیں ہوگا۔ اسی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے مفتی محمد اطہرالقاسمی (نائب صدر جمعیت علمائے بہار) نے معاشرتی خرابیوں کا تذکرہ کیا اور والدین کو ان کی بھاری ذمہ داری کا احساس دلایا انہوں نے سخت لہجے میں ان اداروں کی مذمت کی جو جدید تعلیم کی آڑ میں ہماری بچیوں کو ناچ گانے اور مخلوط محفلوں جیسے غیر اسلامی و غیر اخلاقی کاموں کی طرف راغب کر رہے ہیں انہوں نے دوٹوک پیغام دیا کہ جمعیت علماء ایسے کسی بھی ادارے کو معاف نہیں کرے گی جو دین و اخلاق کی دھجیاں اڑائے اور ان کے خلاف باقاعدہ قانونی محاذ آرائی کی جائے گی۔ اس فکری نشست میں مفتی دانش اقبال قاسمی نے خواتین کے حقوق اور اسلام میں ان کی عظیم المرتبت قربانیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کس طرح صحابیات اور صالحات نے دین کی بقا کے لیے اپنے لختِ جگر قربان کیے، جبکہ مولانا حنظلہ ندوی، قاری نور الزماں اور قاری سہراب عالم نے بھی وقت کی نزاکت کے مطابق فکر انگیز پیغامات دیے۔ قاری عبدالباری زخمی اور قاری منہاج راہی کی پرسوز نعتوں نے مجمع پر وجد طاری کر دیا اور ہر آنکھ اشکبار نظر آئی۔ پروگرام کے آخری مراحل میں مدرسہ کے مہتمم حافظ و قاری فیروز احمد حسینی نے ایک جامع شکریہ پیش کیا جس میں انہوں نے تمام معزز مہمانوں، شب و روز محنت کرنے والے اساتذہ، مخلص ملازمین اور اہل محلہ کے بھرپور تعاون کو سراہا، انہوں نے کہا کہ عوامی تعاون اور علماء کی سرپرستی ہی وہ قوت ہے جس کے دم پر یہ تعلیمی کارواں اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہے۔ اس طویل اور یادگار تعلیمی نشست کا باقاعدہ اختتام مولانا محمد آزاد قاسمی (امام و خطیب موتی مسجد میرٹھ) کی رقت آمیز اور پرسوز دعا پر ہوا، جس میں ملک و ملت کی سلامتی، امت مسلمہ کے اتحاد اور بچوں کے روشن مستقبل کے لیے خصوصی التجائیں کی گئیں، اور یوں یہ پروگرام اپنے پیچھے علم و عمل کی ایک نئی روشنی چھوڑتا ہوا کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
