12.1 C
Delhi
February 23, 2024
Hamari Duniya
Breaking News دہلی

جامع مسجد میں لڑکیوں کے داخلے پر تنازعہ,شاہی امام کی وضاحت

Jama Masjid- Delhi

نئی دہلی(ایچ ڈی نیوز)۔
پرانی دہلی کی شاہی جامع مسجد میں تنہا لڑکیوں کو داخلے کی اجازت نہ دینے کے فیصلے کے حوالے سے شاہی امام سید احمد بخاری کا بیان سامنے آیا ہے۔ جامع مسجد کے شاہی امام نے واضح کیا ہے کہ نماز پڑھنے آنے والی خواتین کو نہیں روکا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی شکایات تھیں کہ لڑکیاں اپنے بوائے فرینڈز کے ساتھ مسجد میں آتی ہیں، اس لیے اسے روکنے کے لیے داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔شاہی اما م نے کہا کہ اگر کوئی عورت جامع مسجد آنا چاہتی ہے تو اسے خاندان یا شوہر کے ساتھ آنا ہوگا۔ اگر وہ نماز پڑھنے آئے تو اسے نہیں روکا جائے گا۔ دریں اثناء جامع مسجد کے تعلقات عامہ کے افسر صبی اللہ خان نے کہا کہ اکیلی لڑکیوں کے داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے، یہ فیصلہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے کہ یہ ایک مذہبی مقام ہے، نمازیوں کے لیے کوئی پابندی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جامع مسجد انتظامیہ نے اکیلے یا گروپس میں آنے والی لڑکیوں/خواتین کے داخلے پر پابندی کا حکم جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ”لڑکیوں/خواتین کے اپنے اہل خانہ کے ساتھ آنے پر کوئی پابندی نہیں، شادی شدہ جوڑوں پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے۔“
دوسری جانب دہلی کمیشن برائے خواتین کی چیئرپرسن سواتی مالیوال نے جامع مسجد میں اکیلی لڑکیوں کے داخلے پر پابندی کے فیصلے کو بالکل غلط قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ عورت کو عبادت کا اتنا ہی حق ہے جتنا کہ مردکو۔ وہ جامع مسجد کے امام کو نوٹس جاری کر رہی ہے، اس طرح کسی کو بھی خواتین کے داخلے پر پابندی کا حق نہیں ہے۔سواتی مالیوال نے کہا کہ شاہی امام کا ایسا فیصلہ شرمناک اور غیر آئینی اقدام ہے۔ وہ کیا سوچتے ہیں کہ یہ ملک ہندوستان نہیں ہے؟ یہ ایران ہے جہاں خواتین کے ساتھ کھلم کھلا امتیاز برتا جائے گا۔ خواتین کو بھی مساوی حقوق حاصل ہیں۔ آئین سے بالاتر کوئی نہیں۔ ہم اس پابندی کو ہٹا دیں گے۔دوسری جانب وشو ہندو پریشد نے جامع مسجد میں خواتین کے داخلے پر پابندی کے بارے میں تنقید کی ہے اور کہا کہ ان بنیاد پرست لوگوں کو ایران میں ہونے والے واقعات سے سبق لینا چاہیے۔ قابل ذکر ہے کہ دہلی کی جامع مسجد مینجمنٹ کمیٹی کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا تھا جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر تنازعہ شروع ہو گیا تھا۔ درحقیقت مسجد انتظامیہ کی جانب سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا ہے، جس میں کہا گیا تھا کہ اکیلی لڑکی کو داخلہ نہ دیا جائے۔ اس حوالے سے دیواروں پر نوٹس چسپاں کر دیا گیا۔ اس میں لکھا تھا کہ جامع مسجد میں اکیلے لڑکیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔

Related posts

کنگنارناوت نے کی تعریف تو کیا بولے جاوید اختر ؟

Hamari Duniya

کشمیر یونیورسٹی میں دو روزہ بین الاقوامی سیمینار اردو تحقیق و تنقید کا آغاز

آل انڈیا دینی مدارس بورڈ کے تعلیمی کارواں کی دہلی میں مسلسل محنتیں جاری

Hamari Duniya