31.7 C
Delhi
May 24, 2024
Hamari Duniya
Breaking News بین الاقوامی خبریں

وہ قیمتی اشیاءجسے لوٹ کر اپنے ملک برطانیہ لے گئے انگریز ، کوہِ نور کی واپسی کا مطالبہ زور پکڑ گیا

Kohinoor Heera

نئی دہلی(ایچ ڈی نیوز ڈیسک)۔

ملکہ¿ برطانیہ الزبتھ دوم کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے کوہِ نور ہیرے کی بھارت واپسی کا مطالبہ کیا جانے لگا ہے۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر پر ملک میں ’کوہِ نور‘ ٹوئٹر کے ٹاپ ٹرینڈز کا حصّہ بنا ہوا ہے۔ صارفین کا خیال ہے کہ ملکہ برطانیہ کے تاج میں نصب قیمتی ’کوہِ نور‘ہمارے ملک کو واپس ملنا چاہیے۔سوشل میڈیا پر ہونے والی اس بحث کے دوران ایک چیز جو نمایاں ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ برطانیہ کے پاس بہت سی ایسی قیمتی چیزیں موجود ہیں جو نوآبادیاتی دور میں یا تو دوسرے ممالک سے چھینی گئیں یا لوٹی گئیں، ان میں سے چند قیمتی اشیاءکی فہرست یہ ہے۔

گریٹ اسٹار آف افریقہ ڈائمنڈ

ملکہ کی بہت سی قیمتی چیزوں میں ایک ’گریٹ اسٹار ا?ف افریقہ ڈائمنڈ‘ واضح طور پر نمایاں ہے، یہ دنیا کا سب سے بڑا ہیرا ہے اور اس کا وزن تقریباً 530 کیرٹ اور مالیت تقریباً 400 ملین امریکی ڈالرز ہے۔

ایک اندازے کے مطابق اس ڈائمنڈ کی کان کنی 1905ءمیں جنوبی افریقہ میں کی گئی تھی۔ افریقہ کے بہت سے مو?رخین اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس ڈائمنڈ کو کان کنی کے بعد ایڈورڈ ہفتم کو پیش کیا گیا تھا جبکہ بھارتی صارفین کا دعویٰ ہے کہ یہ ہیرا ہندوستان سے چوری کیا گیا یا پھر اسے برطانوی دورِ حکومت کے دوران ل±وٹا گیا۔

 ٹیپو سلطان کی انگوٹھی

ٹیپو سلطان 1799ءمیں جب انگریزوں سے جنگ ہار گئے تھے تو ان کی ایک قیمتی انگوٹھی مبینہ طور پر انگریزوں نے ان کی جسدِ خاکی سے لے لی تھی۔ کئی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ انگوٹھی برطانیہ میں ہونے والی نیلامی میں ایک نامعلوم فرد کو تقریباً 145000 برطانوی پاو¿نڈز میں فروخت ہوئی۔

 روزیٹا اسٹون

 صارفین کی جانب سے کوہِ نور کی بھارت واپسی کا مطالبہ کیا گیا تو مصری کارکن اور ماہرِ آثار قدیمہ نے ’روزیٹا اسٹون‘ کی مصر واپسی کا مطالبہ کر دیا۔ روزیٹا اسٹون اس وقت برٹش میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے۔مصر کے بہت سے مقامی اخبارات کے مطابق ماہرینِ آثار قدیمہ کا دعویٰ ہے کہ وہ یہ بات ثابت کر سکتے ہیں کہ ’روزیٹا اسٹون‘ برطانوی حکومت نے چوری کیا تھا۔ روزیٹا اسٹون 196 قبلِ مسیح کا ہے اور مو?رخین کے مطابق یہ مشہور پتھر برطانیہ نے 1800ءکی دہائی میں فرانس کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد حاصل کیا تھا۔

 ایلگن ماربلز

بہت سی میڈیا رپورٹس اور تاریخی دستاویزات کے مطابق 1803ءمیں لارڈ ایلگن نے مبینہ طور پر یونان میں پارتھینن کی بوسیدہ دیواروں پر لگے ماربلز کو ہٹوایا اور وہاں سے لندن پہنچایا، یہی وجہ ہے کہ ان ماربلز کو ’ایلگن ماربلز‘ کہا جاتا ہے۔1925ءسے یونان اپنی اس انمول ملکیت کی برطانیہ سے واپسی کا مطالبہ کر رہا ہے لیکن یہ ماربلز یعنی سنگِ مرمر آج بھی برٹش میوزیم میں موجود ہیں

Related posts

امریکی صدر بائیڈن غزہ میں اسرائیل کی نسلی کشی میں ملوث، بڑھیں گی مشکلیں، مقدمہ درج

Hamari Duniya

مکتب انوار العلوم، اونرہوا کے زیر اہتمام اجلاس عام کا انعقاد

Hamari Duniya

بگ باس فاتح ایم سی اسٹین نے اس معاملے میں تو شاہ رخ اور وراٹ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا

Hamari Duniya