مسلم خواتین کی عصمت دری، مردوں کی جبری نس بندی اوردس لاکھ اویغور مسلمانوں کو زبردستی قید کیا گیا ہے
بیجنگ۔ چین میں رہنے والے مسلمان محفوظ نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین میں رہنے والے اویغور مسلمانوں پر ہونے والے جبر کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق چین میں مسلم خواتین کی عصمت دری اور مردوں کی جبری نس بندی جیسے مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کمشنر مشیل بیچلیٹ نے اپنی مدت کے آخری دن 31 اگست کو چین میں انسانی حقوق کے حوالے سے انتہائی منتظر رپورٹ جاری کی۔ 48 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں چین کی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بات کی گئی ہے۔ چین کی سرگرمیوں کو سنگین قرار دیتے ہوئے انہیں انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔ چین کے دور افتادہ صوبے سنکیانگ میں مسلم اقلیتوں کے بارے میں اس رپورٹ میں اویغور مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے لاپتہ ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اویغور اور دیگر بڑی مسلم ذاتوں کو من مانی اور امتیازی طریقے سے حراست میں لیا جا رہا ہے۔ چین اپنے حفاظتی قوانین کو من مانے طریقے سے نافذ کر کے اقلیتوں پر ظلم کر رہا ہے۔ چین کے جیل کیمپوں میں دس لاکھ اویغور مسلمان قید ہیں۔ رپورٹ میں چین کے اس اقدام کو انسانیت کے خلاف بین الاقوامی جرم قرار دیتے ہوئے انفرادی اور اجتماعی طور پر حاصل کردہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں چین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ غیر قانونی اور من مانی طور پر قید تمام اویغور مسلمانوں کو فوری رہا کرے۔ چین نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ چین مخالف قوتوں کی جانب سے من گھڑت غلط معلومات اور جھوٹ پر مبنی ہے۔