1.1 C
New York
فروری 10, 2026
Delhi دہلیNational قومی خبریں

امپار کے اعلیٰ سطحی وفد کی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سے اہم ملاقات 

IMPAR
نئی دہلی، 09 فروری ( ہ س)۔
امپار کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے آج یہاں مرکزی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سے نئی دہلی میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی ،جس میں موجودہ حالات پر بے حد اہم اور معنیٰ خیز بات چیت ہوئی۔ وفد میں ممتاز پیشہ ور افراد، سابق جج، دفاعی ماہرین، سول سوسائٹی کے رہنما ، صنعت کار اور صحافی شامل تھے ۔ ملاقات میں سماجی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے، ہندوستان کے متنوع ثقافتی ورثے کو مستحکم کرنے، اور ایک ابھرتے ہوئے عالمی طاقت کے طور پر ہندوستان کی ترقی میں سب کی حصہ داری کو یقینی بنائے پر تبادلہ خیال کیا گیا ، ساتھ ہی وفد نے وزارت دفاع کے بجٹ میں اضافہ کیلئے وزیر موصوف کو مبارکباد بھی دی ۔
یہ میٹنگ کئی معنوں میں بے حد اہم رہی اور وزیر دفاع نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی بات چیت کا عمل جاری رہنا چاہئے ۔ میٹنگ میں قومی تعمیرو ترقی ،فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آئینی اقدار آگے بڑھنے پر  توجہ دی گئی۔ اس موقع پر امپار کے قومی جنرل سکریٹری اور انسٹی ٹیوٹ آف کمپنی سیکریٹریز آف انڈیا کے سابق صدر نثار احمد نے کہا کہ سماجی ہم آہنگی اورکثرت میں وحدت ہی ہندوستان کی داخلی سلامتی، جمہوری اقدار اور عالمی وقار میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
وفد نے وزیر موصوف سے کہاکہ ہندوستان کی طاقت ہمیشہ کثرت میں وحدت کی ہے ۔ جیسے جیسے ملک ایک عالمی طاقت کے طور پر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ہمیں اس کو اور مضبوط کرنے کی ضرورت ہے ، ایسے میں داخلی سلامتی کیلئے فرقہ وارانہ یکجہتی بے حد اہم ہو جاتی ہے ۔نثار احمد نے کہاکہ وزیر دفاع کے ساتھ ہماری بات چیت باہمی اعتماد کو بحال کرنے اور اس کیلئے پل کی تعمیر کرنے کی غرض سے تھی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ملک کی تعمیر و ترقی میں پورا ملک متحد ہے، ساتھ ہی ہر شہری اپنے آپ کو محفوظ اور پر وقار محسوس کرے اور ملک کی ترقی میں یکساں کردار ادا کرسکے، کیونکہ دوسری سب سے بڑی معیشت بننے کا خواب تبھی پورا ہو سکتا ہے جب ملک کا ہر فرد تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرے ‘‘۔
امپار کے نائب صدر جاوید یونس نے وزیردفاع سے کہاکہ بڑھتے ہوئے سماجی اضطراب اور ملک کے مختلف حصوں سے رپورٹ ہونے والے نفرت انگیز واقعات کے پھیلاؤ کے بارے میں بھی خدشات کا اظہار کیا۔ انہوںنے اس بات پر زور دیا کہ قانون کی حکمرانی اور آئینی نظم و ضبط کو ہر قسم کے نفرت پر غالب آنا چاہئے ، کیونکہ یہ رجحان کسی بھی صورت میں قومی مفاد میں نہیں ہے۔ انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن خواجہ ایم شاہد نے کہا، ’’امن کو یقینی بنانا، نفرت پھیلانے سے روکنا، اور شہریوں اور اداروں کے درمیان اعتماد کو مضبوط کرنا قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ یہ قدم کسی کی خوشامد کیلئے نہیں بلکہ ملک کے آئینی ڈھانچے اور تہذیبی اقدار کے تحفظ کے لئے ضروری ہے ‘‘۔ 
طویل بات چیت کے دوران وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’ہندوستان کا اتحاد اور سماجی ہم آہنگی ہماری قومی سلامتی اور جمہوری طاقت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ آئین کے تحت مذہب سے قطع نظر ہر شہری کو مساوی حقوق اور ذمہ داریاں حاصل ہیں۔ ہم کمیونٹی لیڈروں اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر بات چیت اور ادارہ جاتی مشغولیت کے ذریعہ خدشات کو دور کرنے کے لیے کام کریں گے۔ میرا ماننا ہے کہ کمیونٹی کے ساتھ باقاعدگی سے بات چیت جاری رہنی چاہیے  تاکہ مسائل کا مناسب حل نکالا جا سکے اور ہر شہری خود کو باوقار محسوس کرسکے۔ 
وفد نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہندوستانی مسلمان مشترکہ وراثت اور مشترکہ مستقبل کےلئے اول روز سے پابندعہد ہیں اور ہندوستان کی خوشحالی، سلامتی اور ترقی کے لیے یکساں طور پر پرعزم ہیں۔ اراکین نے کہاکہ  ہر کمیونٹی کے وقار اور حقوق کا تحفظ ریاست کو مزید مستحکم کرتا ہے ۔ وفد نے ذمہ دار شہریت کی اہمیت ، قانون کی حکمرانی کی پابندی اور انتہا پسندی کو اس کی تمام شکلوں میں مسترد کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا، اور اس بات کی اہمیت کا اعادہ کیا کہ کسی فرد یا نجی گروہ کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے ۔بات چیت کے دوران حکومت اور سول سوسائٹی کے درمیان منظم روابط کی اہمیت، کمیونٹی سطح پر اعتماد سازی کے اقدامات، ذمہ دار عوامی رابطے، اور نفرت انگیز واقعات کو کنٹرول کرنے اور روکنے کے لیے مربوط کوششوں پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ وزیر دفاع نے ملک کے کچھ حصوں میں بنیاد پرستی کے بڑھنے کے بارے میں وفد کے خدشات پر کہا کہ ا س کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔
وفد نے حکومت کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطہ قائم کرنے کے لئے میسر مواقع کو سراہتے ہوئے امن، اتحاد اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے اداروں کے ساتھ تعمیری انداز میں کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔وفد میں زیڈ یو خان ، سابق ہائی کورٹ جج؛ قمر آغا،سینئر صحافی اور دفاعی امور کے ماہر ، ڈاکٹر ایم جے خان، روشن بیگ، پروفیسر خواجہ محمد شاہد، جاوید یونس؛ نثار احمد، کرنل اے ایچ خان،سراج قریشی،ڈاکٹر ندا فاطمہ ،محترمہ تحسین زیدی، نثار احمد، جاوید یونس،ڈاکٹر تاجور محمد خان، محمد احمد، ایڈیٹر وطن سماچار ، ڈاکٹر نکہت اے نقوی، اختر علی خان،اطہر علی، ابراہیم احمدو دیگر شامل تھے ۔

Related posts

اقتدار کے ایوانوں سے انصاف کی آواز خاموش، اجیت پوار کی ناگہانی رخصت ایک قومی خسارہ:سید جلال الدین

Hamari Duniya News

آئینِ ہند کی وفاداری ہی قومی ترقی اور ہم آہنگی کی ضمانت ہے:مولانا محمد اظہر مدنی

Hamari Duniya News

سینٹرل پارک میں ’’اردو اساتذہ کا جشن‘‘ ادب اور ثقافت کا شاندار مظاہرہ

Hamari Duniya News