اقلیتوں کو اعتماد میں لیے بغیر ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا
نئی دہلی: کانگریس پارٹی اقلیتی محکمہ کے نائب صدرانوار احمد انصاری نے موجودہ نفرت آمیز ماحول پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جس طرح مسلمانوں کے خلاف بعض حکمران پارٹی کے لیڈران کی جانب سے اشتعال انگیز اور نفرت پر مبنی بیانات دیے جا رہے ہیں، وہ ملک کی سالمیت، یکجہتی اور بھائی چارے کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بیان بازی ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کے بجائے انارکی اور انتشار کی طرف دھکیل رہی ہے۔
انوار احمد انصاری نے کہا کہ جو عناصر کسی خاص طبقے کو نشانہ بنا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، دراصل وہ ملک کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ’’وکست بھارت‘‘ یا ’’خوشحال بھارت‘‘ کا خواب اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک ملک کی تقریباً چودہ فیصد اقلیتوں کو اعتماد میں لے کر ان کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے جائیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسی جماعت جو مرکز اور ریاست دونوں سطح پر برسرِ اقتدار ہو اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو، اگر وہی اپنے شہریوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دے تو یہ نہایت تشویشناک بات ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے والی سوچ جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ اگر پارلیمنٹ میں اقلیتوں کی ترقی کے لیے فنڈ مختص کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف ان فنڈز میں کٹوتی کر کے ان تک رسائی مشکل بنا دی جاتی ہے تو یہ طرزِ عمل سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی پالیسیوں سے ملک کی ترقی اور یکجہتی متاثر ہوتی ہے۔
آخر میں انوار احمد انصاری نے واضح کیا کہ کانگریس پارٹی کا اقلیتی محکمہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے قانونی کارروائی کے لیے لائحۂ عمل تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس چاہتی ہے کہ ہندوستان اپنی جمہوری روایات کو مضبوط کرتے ہوئے ایک عظیم، متحد اور بے مثال اکھنڈ بھارت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش ہو، جہاں سبھی طبقات کو مساوی حقوق اور مواقع حاصل ہوں۔
نئی دہلی: کانگریس پارٹی اقلیتی محکمہ کے نائب صدرانوار احمد انصاری نے موجودہ نفرت آمیز ماحول پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جس طرح مسلمانوں کے خلاف بعض حکمران پارٹی کے لیڈران کی جانب سے اشتعال انگیز اور نفرت پر مبنی بیانات دیے جا رہے ہیں، وہ ملک کی سالمیت، یکجہتی اور بھائی چارے کے لیے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بیان بازی ملک کو ترقی کی راہ پر لے جانے کے بجائے انارکی اور انتشار کی طرف دھکیل رہی ہے۔
انوار احمد انصاری نے کہا کہ جو عناصر کسی خاص طبقے کو نشانہ بنا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں، دراصل وہ ملک کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ’’وکست بھارت‘‘ یا ’’خوشحال بھارت‘‘ کا خواب اس وقت تک پورا نہیں ہو سکتا جب تک ملک کی تقریباً چودہ فیصد اقلیتوں کو اعتماد میں لے کر ان کی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے جائیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایسی جماعت جو مرکز اور ریاست دونوں سطح پر برسرِ اقتدار ہو اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو، اگر وہی اپنے شہریوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دے تو یہ نہایت تشویشناک بات ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے والی سوچ جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ اگر پارلیمنٹ میں اقلیتوں کی ترقی کے لیے فنڈ مختص کیے جاتے ہیں اور دوسری طرف ان فنڈز میں کٹوتی کر کے ان تک رسائی مشکل بنا دی جاتی ہے تو یہ طرزِ عمل سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی پالیسیوں سے ملک کی ترقی اور یکجہتی متاثر ہوتی ہے۔
آخر میں انوار احمد انصاری نے واضح کیا کہ کانگریس پارٹی کا اقلیتی محکمہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے قانونی کارروائی کے لیے لائحۂ عمل تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس چاہتی ہے کہ ہندوستان اپنی جمہوری روایات کو مضبوط کرتے ہوئے ایک عظیم، متحد اور بے مثال اکھنڈ بھارت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش ہو، جہاں سبھی طبقات کو مساوی حقوق اور مواقع حاصل ہوں۔
