نئی دہلی،19فروری۔ انٹیگریٹڈ میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے-آیوش) کے زیر اہتمام ممتاز طبی شخصیت حکیم اجمل خاں کے 158ویں یومِ پیدائش کے موقع پر ایک باوقار اعزازی تقریب کا انعقاد غالب انسٹی ٹیوٹ، ماتا سندری لین، نئی دہلی میں کیا گیا۔ اس موقع پر دہلی بھر کے نامور اطباءاور معالجین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور طبِ یونانی میں حکیم اجمل خاں کی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونانی شعبہ، صفدرجنگ ہسپتال کے سابق ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سید احمد خان نے کہا کہ حکیم اجمل خاں نے طبِ یونانی کو نئی بلندیوں تک پہنچایا اور جدید طبی تقاضوں کے مطابق علاج کے نئے طریقے متعارف کرائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکیم اجمل خاں کی علمی بصیرت اور تحقیقی خدمات آج بھی معالجین کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور ان کی طبی فکر آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنی رہے گی۔
تقریب کے دوران دہلی کے مختلف طبی اداروں سے وابستہ ڈاکٹروں کو ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں اعزازات و اسناد سے نوازا گیا۔ اس موقع پر مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ طبِ یونانی کے فروغ اور عوام تک موثر و محفوظ علاج کی فراہمی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔آخر میں منتظمینِ پروگرام یعنی انٹیگریٹڈ میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ حکیم اجمل خاں کے نظریات اور طبی ورثے کو عام کرنے کے لیے آئندہ بھی سائنسی و ادبی پروگراموں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، تاکہ نئی نسل کو اس عظیم طبی رہنما کی خدمات سے روشناس کرایا جا سکے۔اس موقع پر ڈاکٹر آر ایس چوہان نے اپنے خطاب میں کہا کہ طبِ یونانی دراصل ایک مکمل طرزِ حیات اور متوازن علاجی نظام ہے جسے اسیف± الملک حکیم اجمل خاں نے نئی روح بخشی۔ انہوں نے کہا کہ حکیم اجمل خاں کی طبی بصیرت، تحقیق اور انسانیت نواز فکر آج بھی دنیا بھر کے معالجین کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ آیوش نظامِ طب کے فروغ، قدرتی علاج کے رجحان اور عوامی صحت کے استحکام میں حکیم اجمل خاں کے نظریات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر چوہان نے مزید کہا کہ نئی نسل کو حکیم اجمل خاں کے علمی ورثے اور خدمتِ خلق کے جذبے سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ طبِ مشرقی کا یہ عظیم سرمایہ آئندہ نسلوں تک منتقل ہوتا رہے۔
اس موقع پر پروفیسر (ڈاکٹر) کاشیناتھ۔ سماگاندی۔ڈاکٹر عارف زیدی۔ڈاکٹر رگھو رام ایّاگری۔پروفیسر (ڈاکٹر) محمد ادریس۔حکیم امام الدین ذکائی۔پروفیسر (ڈاکٹر) نسیم اختر خان۔ڈاکٹر سید احمد خان۔ڈاکٹر آر ایس چوہان۔ڈاکٹر او پی وششٹ،ڈاکٹر نریش کمار چھوانیا،ڈاکٹر رمن کھنہ، ڈاکٹر محمد عثمان،ڈاکٹر محمد اسد، ڈاکٹر ارون کٹاریا،ڈاکٹر کرشن کمار سنگھل شامل ہوئے۔
