کیرانہ، 13 جنوری (عظمت اللہ خان): دارالعلوم جامعۃ الصدیق، لونی (غازی آباد) کے بانی و مہتمم مولانا مفتی اسرارالحق بوڈھانوی کے والدِ محترم، ولی صفت صوفی بزرگ شیخ محمد مشتاق احمد صدیقی 11 شعبان المعظم 1447ھ، مطابق 13 جنوری 2026ء بروز ہفتہ بوقت تقریباً گیارہ بجے شب، ذکرِ الٰہی میں مشغول حالت میں 91 برس کی عمر میں داعیٔ اجل کو لبیک کہتے ہوئے مالکِ حقیقی سے جا ملے۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔
مرحوم اپنی پوری زندگی صوم و صلوٰۃ، اتباعِ سنت اور احکامِ شریعت کی سختی سے پابندی میں گزارتے رہے۔ امانت داری، صداقت، حق گوئی، خداترسی، بیباکی، ہمدردی اور ملنساری ان کی نمایاں صفات تھیں۔ بیماری کی حالت میں بھی آنے والوں کو دعا، دوا دیتے رہے۔ انہوں نے اپنی اولاد کو دینی تعلیم سے وابستہ رکھا، کسی کو حافظ، کسی کو قاری اور کسی کو عالم و مفتی بنایا۔ شریعت کے خلاف کسی معاملے کو ہرگز برداشت نہیں کرتے تھے اور حق بات کہنے میں کسی ملامت گر کی پروا نہ کی۔
قابلِ ذکر ہے کہ چند ماہ قبل مرحوم کی عالمہ صاحبزادی اسرانہ اور ان کی دو کمسن بچیاں صفیہ و سمیہ 11 اکتوبر 2025ء کو ایک اندوہناک واقعہ میں قتل کر دی گئیں، جس کا شدید صدمہ مرحوم کی صحت پر اثر انداز ہوا۔ مرحوم کی خواہش تھی کہ ان کی تدفین آبائی قصبہ بڈھانہ، ضلع مظفر نگر میں کی جائے، تاہم علما کے مشورے اور شرعی تحقیق کے بعد مرحوم کی تدفین ان کی موجودہ رہائش، قصبہ لونی ضلع غازی آباد میں شام تقریباً چار بجے عمل میں آئی۔
نمازِ جنازہ کھننا نگر، عیدگاہ روڈ لونی میں ادا کی گئی، جس کی امامت مرحوم کے فرزند مولانا مفتی اسرارالحق بوڈھانوی نے فرمائی۔ جنازہ میں جمعیت علماء کے ذمہ داران، علما کرام اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جن میں مولانا محمد مسلم قاسمی صدر جمعیت علماء دہلی، مفتی عبدالرزاق ناظم اعلیٰ جمعیت علماء دہلی، مولانا برکت اللہ خان امینی، قاری فیض الدین عارف، مفتی عباس ایلم، قاری اللہ مہر، مفتی وقاص احمد، مفتی راغب، مفتی شاداب، مفتی آصف، مولانا محمد عالم، مفتی حفیظ اللہ، قاری سید ضیاء الدین اور دیگر علما و معززین شامل تھے۔
مرحوم کے پسماندگان میں چار صاحبزادے شامل ہیں، جو سبھی عالم، فاضل، قاری اور حافظ ہیں۔ تجہیز و تکفین میں سیکڑوں فرزندانِ توحید نے شرکت کی۔ علمی و روحانی حلقوں میں مرحوم کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
