کیم (ضلع سورت)، گجرات: ضلع سورت (گجرات) کے قصبہ کیم میں یتیم بچوں کی کفالت، تعلیم اور دینی تربیت کے عظیم مقصد کے تحت یتیم خانہ کے قیام کے لیے ایک باوقار اور بابرکت تقریبِ سنگِ بنیاد منعقد ہوئی۔ اس موقع پر دینی، سماجی اور رفاہی حلقوں کی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اس تقریب نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ پورے صوبۂ گجرات میں خوشی اور امید کی فضا قائم کر دی۔ تقریب میں ناظمِ اعلیٰ جمعیت اہلِ حدیث گجرات، فضیلۃ الشیخ عبدالوہاب مدنی حفظہ اللہ نے خصوصی شرکت فرمائی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اسلام میں یتیموں کی کفالت اور سرپرستی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یتیموں کی دیکھ بھال ایمان کا تقاضا اور باعثِ اجرِ عظیم عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یتیم خانہ جیسے ادارے ایک صالح، بااخلاق اور مستحکم معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔
اس موقع پر فضیلة الشیخ ذاکر عباس المدنی نے بھی شرکت فرمائی اور یتیموں کی خدمت کو دینِ اسلام کا نہایت اہم فریضہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ امت کی اصلاح اور مضبوط مستقبل کے لیے ایسے رفاہی منصوبوں کا قیام ناگزیر ہے۔

تقریب کے ممتاز مقررین میں ملک کے مشہور موٹی ویشنل اسپیکر ادریس موسیٰ (نڈیاد) نے اپنے پراثر خطاب میں خدمتِ خلق اور سماجی ذمہ داریوں کی ادائیگی پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یتیم خانوں کا قیام قوم کے مستقبل کی تعمیر ہے اور ایسے ادارے معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اس موقع پر شیخ عبدالمتین السراجی حفظہ اللہ و تولاہ (امام و خطیب مسجد عثمان بن عفانؓ) نے اپنے خطاب میں کہا کہ یتیم بچوں کی دینی، اخلاقی اور تعلیمی تربیت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اور ایسے منصوبے معاشرے کو بگاڑ اور بے راہ روی سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
تقریب سے شیخ زاہد عباس سلفی نوری حفظہ اللہ نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ اخلاصِ نیت، اتحاد اور مسلسل محنت ہی کسی بھی رفاہی منصوبے کی کامیابی کی اصل کنجی ہے۔
مقامی سطح پر منصوبے کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے شیخ عبدالمبین محمدی حفظہ اللہ (امام و خطیب مسجد کیم) نے کہا کہ یہ یتیم خانہ علاقے کے نادار اور بے سہارا بچوں کے لیے ایک محفوظ، دینی اور تعلیمی ماحول فراہم کرے گا۔
اس تقریب میں صوبۂ گجرات کے نہایت فعال رفاہی ادارے روشنی ٹرسٹ کے ممبران کی بھرپور شرکت قابلِ ذکر رہی۔ ان میں فضیلۃ الشیخ ابو طالب سلفی حفظہ اللہ، شیخ عبدالرحیم حفظہ اللہ، شیخ عارف حفظہ اللہ، عبداللطیف سورتی اور معروف سماجی کارکن حسین بھائی شامل تھے، جبکہ دیگر معزز شخصیات نے بھی شرکت کر کے تقریب کی اہمیت میں اضافہ کیا۔
آخر میں اجتماعی دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ اس یتیم خانے کو یتیم بچوں کے لیے علم، تربیت، تحفظ اور رحمت کا مرکز بنائے، اس نیک منصوبے کو کامیابی عطا فرمائے اور اس کارِ خیر میں تعاون کرنے والے تمام افراد کی کوششوں کو قبول فرما کر اسے ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنائے۔
