36.1 C
Delhi
May 21, 2024
Hamari Duniya
Breaking News قومی خبریں

دریا گنج میں اپنی جائے پیدائش دیکھ کر رو پڑے تھے پرویز مشرف

Parvez Musharraf

نئی دہلی، 05 فروری (ہماری دنیا نیوز ڈیسک)۔
پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف اتوار کو دبئی میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 79 برس تھی۔ بہت کم لوگ جانتے ہوں گے کہ وہ انگریزوں کے دور میں 11 اگست 1943 کو دہلی کے دریا گنج میں پیدا ہوئے تھے۔ تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان کراچی میں آباد ہو گیا۔ وہ بعد میں آرمی چیف اور پھر پاکستان کے صدر بنے۔ 1999 میں نواز شریف کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کر لیا گیا اور 20 جون 2001 سے 18 اگست 2008 تک پاکستان کے صدر رہے۔ تاہم، اب راج جین دریا گنج میں واقع اپنے گھر میں رہتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ جب ان کا خاندان تقسیم کے بعد پاکستان منتقل ہوا تو ان کی عمر صرف چار سال تھی۔ 2001 میں دہلی کے دورے کے دوران وہ دریا گنج کے اسی گھر میں آئے جس میں وہ پیدا ہوئے تھے۔ وہ اپنی جائے پیدائش دیکھ کر جذباتی ہو گئے۔ یہ گھر اب بہت پرانا اور خستہ حال ہے۔ ان کا یہ گھر نہر والی حویلی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ تاہم ان کے پرتعیش گھر کو دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان دنوں مشرف کا تعلق پرانی دہلی کے ایک معروف گھرانے سے تھا۔ اب اس حویلی والے گھر میں آٹھ خاندان رہتے ہیں۔
2001 میں اس گھر میں رہنے والے زیادہ تر لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اس کے اصل مالک کون ہیں۔ گھر کے اصل کاغذات پر تمام معلومات اردو میں لکھی گئی ہیں جن پر مشرف کے والد کے دستخط انگریزی میں ہیں۔ ان کے والد سید مشرف الدین نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور برطانوی دور حکومت میں سرکاری ملازم تھے۔ ان کے پردادا ٹیکس جمع کرنے والے تھے اور نانا برطانوی حکومت میں جج تھے۔
پرویز مشرف 1999 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کارگل جنگ کے دوران سرخیوں میں آئے تھے۔ اس دوران مشرف پاکستانی فوج کے سربراہ تھے۔ آرمی چیف رہتے ہوئے انہوں نے بھارت کو ایسے کئی زخم دیے جنہیں کبھی بھلایا نہیں جا سکتا۔
کہا جاتا ہے کہ مشرف نے 1961 میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کی تھی۔ 1965 میں انہوں نے بھارت کے خلاف پہلی جنگ لڑی اور اس کے لیے انہیں حکومت پاکستان کی جانب سے بہادری کا اعزاز بھی دیا گیا۔ ان کی قیادت میں پاکستان کو 1971 میں دوسری پاک بھارت جنگ میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ اس کے علاوہ 1999 میں کارگل جنگ میں پاکستان کو شکست ہوئی تھی۔

Related posts

مدرسہ پلس کا بنیادی مقصد مدارس کے طلباءکو جدید تعلیم کے ذریعہ عصری علوم سے ہم آہنگ کرناہے، مدرسہ کے طلباءکےلئے شاہین گروپ کی منفرد کاوش

Hamari Duniya

بی سی سی آئی کا عہدہ چھوڑنے کے بعد دادا کو ملی آئی پی ایل میں بڑی ذمہ داری، اس ٹیم کے ساتھ جڑیں گے

Hamari Duniya

دارالعلوم دیوبند کے طلبائ کیلئے انگریزی کی کوچنگ پر پابندی، سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع

Hamari Duniya