فروری 15, 2026
National قومی خبریںTop News

مصری نژاد اُردو شاعرہ ڈاکٹر ولاء جمال کو ڈاکٹرنورامروہوی ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا

ڈاکٹر ولاء جمال

ممبئی میں ویکلی عوامی رائے کی سلور جوبلی تقریب اور بین الاقوامی مشاعرہ میں عالمی ادبی شخصیات کی شرکت

ممبئی، 15 فروری: ممبئی کے معروف اور کثیر الاشاعت ہفت روزہ اخبار ویکلی عوامی رائے کے زیرِ اہتمام سلور جوبلی تقریبات اور ایک عظیم الشان بین الاقوامی مشاعرہ 8 فروری 2026 کو اسلام جمخانہ، ممبئی میں نہایت وقار اور شان و شوکت کے ساتھ منعقد ہوا۔ اس باوقار ادبی محفل کی صدارت نامور شاعر، ادیب اور سماجی رہنما ڈاکٹر نور امروہوی نے فرمائی، جن کی ادبی خدمات کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر نور امروہوی خصوصی طور پر صرف دو روز کے لیے ممبئی تشریف لائے۔ ادبی حلقوں میں یہ بات معروف ہے کہ وہ بہت کم مشاعروں میں شرکت کرتے ہیں، تاہم اُردو زبان، ادب اور تہذیب کے فروغ کے لیے ان کی گراں قدر خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ امریکہ میں جدید طرز کے مشاعروں کے فروغ اور ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے انعقاد میں ان کا کردار نمایاں رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ عالمی ادبی برادری میں غیرمعمولی احترام کے حامل ہیں۔ انہی خدمات کے اعتراف میں ویکلی عوامی رائے نے “ڈاکٹر نور امروہوی ادبی ایوارڈ” کا اجرا کیا، جو ہر سال بیرونِ ملک اُردو زبان اور ادب کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیت کو عطا کیا جاتا ہے۔ سال 2026 کے لیے یہ باوقار اعزاز عالمِ اُردو کی معروف اور ممتاز شاعرہ ڈاکٹر ولاء جمال کو عطا کیا گیا۔
ڈاکٹر ولاء جمال کا تعلق مصر سے ہے اور وہ جامعہ شمس میں بطور پروفیسر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ متعدد اہم ادبی تصانیف کی مصنفہ ہیں اور معاصر اُردو شاعری میں ایک معتبر اور نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ ان کی شاعری شستہ زبان، نفیس اسلوب اور فکری گہرائی کی آئینہ دار ہے، اور دنیا بھر کے مشاعروں میں ان کی شرکت کو قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
اعزاز حاصل کرنے پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر ولاء جمال نے کہا:
“مجھے دنیا کے مختلف ممالک سے کئی اعزازات ملے ہیں، مگر ڈاکٹر نور امروہوی ادبی ایوارڈ میرے لیے سب سے زیادہ باعثِ مسرت ہے۔ ڈاکٹر نور امروہوی کا نام ادبی دنیا میں نہایت احترام سے لیا جاتا ہے۔ وہ نہ صرف ایک عظیم شاعر بلکہ ایک اعلیٰ کردار کے حامل انسان اور سماجی رہنما بھی ہیں۔ میری دیرینہ خواہش تھی کہ ان کے ساتھ ایک ہی اسٹیج پر موجود ہوں، اور آج وہ خواہش پوری ہو گئی۔”
اپنے صدارتی خطاب میں ڈاکٹر نور امروہوی نے مشاعروں کو کسی اعلیٰ مقصد سے وابستہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ بیس برسوں سے امریکہ میں “امن اور اتحاد کے نام ایک شام” کے عنوان سے مشاعرے منعقد کر رہے ہیں، جن کا مقصد مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان محبت، ہم آہنگی اور بھائی چارے کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے ممبئی کے عوام کی محبت اور منتظمین کی ادبی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اُردو زبان کا فروغ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پیشگی مصروفیات کے باعث انہیں مشاعرے کے دوران ہی رخصت ہونا پڑا۔
تقریب کے اختتام پر منتظمین کی جانب سے تمام مہمانانِ گرامی اور شرکاء کے اعزاز میں پرتکلف عشائیے کا اہتمام بھی کیا گیا، جس نے اس یادگار ادبی تقریب کو مزید شاندار بنا دیا۔

Related posts

ہند۔ پاک کرکٹ شائقین کیلئے خوشخبری، پاکستان کا 15فروری کو ہندوستان کے خلاف میچ کھیلنے کا اعلان

Hamari Duniya News

جامعہ میڈیکل کالج کا خواب تعبیرہونے جا رہا ہے، عنقریب ہی ایم بی بی ایس کورس شروع کیا جائے گا

Hamari Duniya News

ناگرک وکاس کیندر کے کوآرڈینیٹرس کی تین روزہ تربیتی ورکشاپ اختتام پذیر

Hamari Duniya News