44.1 C
Delhi
June 18, 2024
Hamari Duniya
مضامین

ڈاکٹر خالدر شید صبا -حیات وخدمات کے چند گوشے

Dr Khalid Rashid Saba
Maulana Abul Kalam Qasmi
Maulana Abul Kalam Qasmi

مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

ڈاکٹر خالد رشید صبا بڑے سیاسی لیڈر اور سماجی رہنما تھے۔ وہ عوام وخاص کے درمیان مقبول تھے، وہ خوش اخلاق، ملنسار اور مکمل انسان تھے۔ اردو زبان وادب کے بڑے شیدائی ، مخلص ادیب وصحافی تھے۔ وہ ارباب سیاست اور صحافت دونوں کے درمیان قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے ، وہ مومن کانفرنس کے بڑے قائد تھے۔ تنظیم سے ان کو بڑی محبت تھی ، ہمیشہ اس کی ترقی کے خواہاں رہے۔ آل انڈیا مومن کانفرنس کے گزشتہ انتخابی اجلاس میں شریک ہوئے ، میں بھی ان کی معیت میں اجلاس میں شریک ہوا، واپسی کے بعد بہار اسٹیٹ مومن کانفرنس کو سرگرم کرنے میں اہم کردار پیش کیا۔ وہ تاحیات مومن کانفرنس کی سرپرستی کرتے رہے، وہ اپنے والد مرحوم ابوالاحد محمد نور سابق وزیر حکومت بہار کے سچے جانشیں تھے۔ سیاسی طور پر ان کی وابستگی کانگریس سے رہی، دو مرتبہ ایم ایل سی منتخب ہوئے اور وزیر بھی بنائے گئے۔
خالد رشید صبا کا چہرہ مسکراہٹ ،ہنسی اور قہقہہ کا مجموعہ تھا۔ ان کا چہرہ ہروقت مسکراتا ،ہنستا اور قہقہہ لگاتا نظر آتا۔ آج بھی ان کا مسکراتا ،ہنستا اور قہقہہ لگاتا چہرہ نظروں کے سامنے ہے۔
ڈاکٹر خالد رشید صبا کے آباءواجداد پورنیہ کے رہنے والے تھے، جو پٹنہ سے 350 کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے اوربہار کا پرانا ضلع ہے۔ مو¿رخین نے اس ضلع کو کنول کا دیش کہا ہے، کیونکہ یہاں ندیوں اور تالابوں کی کثرت تھی، جس میں کنول کے پھول کھلے رہتے تھے، اسی ضلع کے دھرم پور پرگنہ میں بیرنگر کے نزدیک ایک چھوٹا سا گاﺅں جس کا نام مکھناہا ہے، یہی گاﺅں صبا صاحب کے دادا مرادعلی کا مسکن تھا، اس گاﺅں میںمومن برادری کی بڑی آبادی تھی، جہاں لوگ کرگھے چلایا کرتے تھے، یہیں مراد علی کی چھوٹی سی کاشتکاری تھی، جس سے ا ن کے خاندان کا گزر اوقات ہوتا تھا، گاﺅں کے لوگوںکی اکثر رشتہ داریاں دربھنگہ ضلع میں تھیں،اس طرح لوگوں کا دربھنگہ آنا جانا لگارہتا تھا۔ مرادعلی کی شادی ان کے والدین نے دربھنگہ ضلع کے ایک چھوٹے سے گاﺅں مدھے پور میں کردی ، جو اب مدھوبنی ضلع میں واقع ہے۔
مدھے پور گاﺅں مدھوبنی ضلع سے تقریباً 40 کلو میٹر دور جھنجھار پور سب ڈویزن میں پھیلا ہوا ہے۔ مدھوبنی ضلع میں مسلمانوں کی بڑی آبادی ہے، جس میں مومنوں کی آبادی کی سب سے زیادہ ہے، جن کا خاص پیشہ کپڑا بننا ہے۔ مدھے پور گاﺅں کے بھی بڑی تعداد میں مومن برادری کے لوگ اس پیشے سے جڑے ہوئے تھے۔ یہیں مدھے پور میں صبا صاحب کے والد ابوالاحد محمد نور کی پیدائش ہوئی،مراد علی کے والدین کاانتقال ہوگیا تو مراد علی کی اہلیہ یعنی صباصاحب کی دادی زیادہ تر اپنے میکے مدھے پور میں ہی رہا کرتی تھیں، کیونکہ پورنیہ کے مکھناہا میں ان کی دیکھ ریکھ کرنے والا کوئی نہیں تھا،اس طرح یہ خاندان پورنیہ سے مدھوبنی ضلع کے مدھے پور میں آباد ہوگیا، لیکن پورنیہ سے بھی رشتہ برقرار رہا،پھر بعد میں ابوالاحد محمد نور صاحب نے سیاسی زندگی کے لئے پورنیہ ہی کواپنا مسکن بنایا، پورنیہ شہر میں اپنا مکان بنایا اور وہیں قیام پذیر ہوگئے، یہ مکان پورنیہ شہر کے مومن ٹولہ میں آج بھی” نورمنزل“ کے نام سے موجود اور مشہور ہے، بڑے قطعہ اراضی میں یہ مکان واقع ہے، جس میں آگے سے باﺅنڈری اور اندرکشادہ میدان اور پیچھے کے حصہ میں آم کا مختصر سا باغ ہے، جس کے سایہ میں گرمی کے زمانہ میں ٹھنڈک اور صاف ہوا کے لئے لوگ بیٹھ کر لطف اندوز ہوا کرتے ہیں۔ پورنیہ ہی میں خالدرشید صبا صاحب کی پیدائش1934 کے زلزلہ کے بعد ہوئی، اسکول کے سرٹیفکیٹ کے لحاظ سے ان کی تاریخ پیدائش 1938 ہے اور وہیں ابتدائی تعلیم محلہ کے مکتب میں حاصل کی۔
1946میں جداگانہ انتخاب کا اعلان ہوا، تو ان کے والد ابوالاحدمحمد نور کانگریس، جمعیة علمائے ہند اور مومن کانفرنس کی حمایت سے مدھوبنی حلقہ انتخاب سے ایم ایل اے کے لئے کھڑے ہوئے۔ مسلم لیگ نے ان کے خلاف ایک بااثر شخصیت خان بہادر عبدالجلیل کو کھڑا کیا، وہاں کے لوگوں نے انتخاب میں نورصاحب کا ساتھ دیا اور خان بہادرناکام ہوگئے، پھر جب ان کےوالد ابوالاحد محمد نورپٹنہ منتقل ہوگئے تو صبا صاحب بھی پٹنہ آگئے۔ان کو سرپن ٹائن روڈ میںکوارٹر ملا، یہاں صباصاحب کا داخلہ ملرہائی اسکول میں کرادیا گیا، وہ اس میں تعلیم حاصل کرنے لگے، اسی زمانہ میں شعروشاعری کی طرف توجہ دینے لگے، وجہ یہ ہوئی کہ ان کے ساتھی حیدر رضا کے ماموں ناظم کلدینوی شاعر تھےاور سیماب اکبرآبادی کے شاگردوں میں سے تھے، ان کی شخصیت سے صبا صاحب بہت متاثر ہوگئے،ان کی صحبت نے ان کوشاعری کی طرف متوجہ کیا اور انہوں نے شاعری شروع کی اور صبا تخلص کرلیا، اب وہ خالد رشیدسے خالد رشید صباہوگئے۔ ان کے والد ابوالاحد محمد نور نے ہفتہ وار اخبار ”طوفان“ نکالا، جس کے ایڈیٹر بیتاب صدیقی تھے، وہ اچھے شاعر، اور لکھنے پڑھنے کا اچھا ذوق رکھتے تھے، ان کے علاوہ دوسرے ادباءوشعراءان کے یہاں آتے جاتے رہتے تھے،اس طرح ان میں ادبی ذوق پروان چڑھتا رہا، اس زمانہ میں پٹنہ میں انجمن ترقی پسند مصنفین کا بڑا زور تھا ، نوجوان شعراءخود کو ترقی پسند کہلانے کے لئے بیچین رہتے تھے، ان پر اور ان کے ساتھیوں پر بھی اس کا اثر پڑا اور ان لوگوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین کی طرح انجمن نوخیز مصنفین کی بنیاد ڈالی اور” نوبہار“ نامی اخبار جو ضیاءالرحمن غوثی اور بیتاب صدیقی کی نگرانی میں شائع ہوا کرتا تھا، اس کو اس انجمن کا ترجمان بنایا، اس میںان نوخیزوں کے مضامین شائع ہوتے رہے، اس سے ان کی ذہنی بالیدگی کا پتہ چلتا ہے ،ہائی اسکول کے بعد انہوں نے پٹنہ کالج اور پٹنہ یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے کیا اور تحقیقی مقالہ لکھ کر اسی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، اس طرح وہ خالد رشید سے ڈاکٹر خالد رشید صبا ہوگئے۔
صباصاحب کے والد ابوالاحد محمد نور آل انڈیا مومن کانفرنس اور کانگریس پارٹی کے مشہور لیڈر تھے ،وہ ایم ایل اے بھی منتخب ہوئے اور ایم ایل سی بھی رہے، ساتھ ہی وہ صحافی بھی تھے، اس طرح سیاست اور صحافت کے درمیان ان کی پرورش ہوئی، یہی وجہ رہی کہ وہ سیاست اور صحافت میں بہت آگے نکل گئے۔ والد کی رحلت کے بعد 80کی دہائی میں ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا نے ان کو ایم ایل سی بنایا۔آنجہانی بندیشوری دوبے کے زمانہ میںبھی ایم ایل سی رہے۔ آنجہانی ستیندر نارائن سنہا کے زمانہ میں 88-89ء میں انڈسٹری منسٹر بنائے گئے۔ جناب چندر شیکھر سنگھ کے زمانہ میں بھی وہ ایم ایل سی رہے ،اس طرح سیاست میں کافی عرصہ تک رہے،اس لئے سیاسی طور پر ان کو خدمت کے زیادہ مواقع حاصل ہوئے اور لوگوں کے درمیان مقبول رہے۔ وہ مشہور صحافی بھی تھے، عرصہ تک روزنامہ ”ساتھی“ کے مدیر رہے۔1972 میں پٹنہ کے مدیران نے آل انڈیا اردو ایڈیٹرس کانفرنس کی بنیاد ڈالی، اس میں ڈاکٹر خالد رشید صبا صاحب کا نمایاں رول رہا۔ اس انجمن کی جانب سے سابق صدرجمہوریہ فخرالدین علی احمد کے ساتھ صحافیوں کی ٹیم میں ”تیونس“ گئے۔ موصوف خوش اخلاق اور ملنسار تھے، وہ اردو زبان وادب کے بڑے دلدادہ اور بہی خواہ تھے، یہی وجہ ہے کہ وہ سیاست کے علاوہ ارباب صحافت اور ادب کے درمیان بھی مقبول رہے، جب تک وہ صحت مند رہے، گورنمنٹ اردو لائبریری پابندی سے جاتے رہے،وہ کتابوں کے مطالعہ سے خاص دلچسپی رکھتے تھےساتھ ہی اردو تحریک سے بھی وابستہ رہے، بہار اردو ادکادمی کے ممبربھی رہے۔ انہوں نے مولانا آزاد اسٹڈی سینٹر بھی قائم کیا، ہر سال اس کا اجلاس بھی منعقد کراتے، وہ مرنجامرنج شخصیت کے حامل تھے، سبھوں کے نزدیک مقبول تھے، وہ اپنے والد ابوالاحد محمد نور سابق وزیر حکومت بہار کے سچے جانشیں تھے، وہ تاحیات مومن تحریک کو آگے بڑھاتے رہے۔ وہ2010 سے بہار اسٹیٹ مومن کانفرنس کی سرپرستی کررہے تھے۔
ڈاکٹر صبا صاحب پہلے دل کے عارضہ میں مبتلا ہوئے،وفات سے دوتین برس پہلے گردہ کے مرض کے شکار ہوگئے، دواﺅں سے عارضی آرام ملتارہا ،لیکن مرض بڑھتا گیا، وہ بیماری کی وجہ سے پریشان رہے۔ آخری وقت میں ان کی آواز بھی کمزور ہونے لگی اور مایوسی کے شکار نظرآ گے، بیماری کی وجہ سے وہ بہت کمزور ہوگئے، آخر میں پٹنہ کے میڈاز ہاسپٹل میں داخل کیا گیا، جہاں دس دنوں تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد 27ستمبر2021کو تقریباً ایک بجے رات میں ان کا انتقال ہوگیا، عصر کی نماز کے بعد خانقاہ شاہ ارزانی کے میدان میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور شاہ گنج قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔صباصاحب ہمارے درمیان نہیں رہے، مگر ان کا قہقہہ لگاتا چہرہ اور ان کے کارنامے ہمیشہ یاد رہیں گے۔
آسمان ان کی لحد پہ شبنم افشانی کرے

Related posts

بھارت منفرد صلاحیتوں کا خزینہ: ایک نئے عالمی نظام کا نقیب

Hamari Duniya

جونپور: سیکولرزم بنام کمیونلزم کی جنگ کس کی جیت کس کی ہار

Hamari Duniya

دینی مسائل کا استفسار مستند علماء سے

Hamari Duniya