ممبئی :25/جنوری( نعیم شیخ )26 جنوری (یومِ جمہوریہ) کے موقع پر ،جمہوریت کے مفہوم اور اس کے چیلنجز اور موجودہ دور میں اس کی اہمیت اس عنوان پر جماعتِ اسلامی ہند لیڈیز وِنگ کی جانب سے پریس کلب میں وطنی اور ملی بہنوں کے ساتھ ایک سمپوزیم منعقد کیا گیا، جس میں جمہوریت کے مفہوم، اس کے چیلنجز اور موجودہ دور میں اس کی اہمیت پر تفصیلی تبصرہ کیا گیا۔ پروگرام کا آغاز ڈاکٹر فریدہ اختر، سیکریٹری، جماعتِ اسلامی ہند ممبئی میٹرو لیڈیز وِنگ (سنٹرل زون) نے مختصر تعارف کے ساتھ کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے سیاسی اور ڈیجیٹل دباؤ کے ماحول میں اپنی شناخت اور اپنی ذمہ داری کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔
ایڈووکیٹ غزالہ نے تمام مقررین اور شرکاء کا تعارف کرایا اور مختلف سوالات کے ذریعے شرکاء کو اپنے خیالات واضح کرنے کا موقع دیا۔سنگیتا جوشی نے کہا کہ آج مذہب کے نام پر جو حکومت قائم ہے، اس کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں ہے۔ آئین کے موجود ہونے کے باوجود خواتین پر مظالم میں اضافہ ہو رہا ہے اور مذہب کے نام پر ناانصافی کی جا رہی ہے۔ ہم جیسے لوگوں کو ہی مل کر اس کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔
ورجینیا سالدھانا، جو خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے سرگرمِ عمل ہیں، انہوں نے کہا کہ آج کا نوجوان طبقہ آزادی کی اہمیت کو نہیں سمجھ رہا۔ ٹیکنالوجی اور زیادہ پیسہ کمانے کی دوڑ نے انہیں ملک کے حالات سے بے خبر کر دیا ہے۔اشونی کامبلے، جو گھریلو تشدد کے خلاف سرگرم ایک ایکٹیوسٹ ہیں، انہوں نے کہا کہ آج سیاست دان سب کچھ اپنے فائدے کے لیے کر رہے ہیں اور جمہوریت کے ساتھ کھلواڑ ہو رہا ہے۔ عدلیہ اور حکومت ان کے زیرِ اثر آ چکی ہیں، اس لیے ہمیں ان کے جال کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔رکنِ جماعت رقیہ نے کہا کہ جو بھی حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے، اسے ڈرایا جاتا ہے۔ ہمیں لوگوں کو بیدار کرنا ہوگا اور مل کر کام کرنا ہوگا۔شبنم، جو ایک ایڈووکیٹ ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں انتخابی شعور (الیکشن ایئورنیس) کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔نرنجنا شیٹی نے ایک اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی کہ آج جاپان اور چین ترقی یافتہ ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں ہنر (اسکلس) کو اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ بھارت میں ہنر کی کوئی قدر نہیں رہی۔ اسی وجہ سے چھوٹے چھوٹے کاروبار ختم ہوتے جا رہے ہیں۔پونم کانوجیا، جو “گھر بچاؤ آندولن” چلاتی ہیں، انہوں نے کہا کہ جب پورا نظام ہی بند ہو جائے تو ہمیں اپنے گھروں کو مضبوط بنانا ہوگا۔ اتحاد کی شروعات گھر سے ہونی چاہیے۔ اگر ہم آپس میں ہی لڑتے رہیں گے تو باہر کے مسائل کبھی حل نہیں ہو سکیں گے۔ڈاکٹر احمدی نے کہا کہ اگر گھر مضبوط ہوں گے تو ملک بھی مضبوط ہوگا۔ایڈووکیٹ غزالہ نے پروگرام کی نظامت کی ذمہ داری نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی، جبکہ محترمہ ریحانہ دیشمکھ صاحبہ، ناظمہ، جماعتِ اسلامی ہند ممبئی میٹرو، نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کے مباحثے سے ہمارے سامنے کئی اہم باتیں آئیں، اس لیے ہمیں الگ الگ کام کرنے کے بجائے مل کر مشترکہ جدوجہد کرنی ہوگی۔ دل سے خوف نکال کر بے خوف ہو کر آواز بلند کرنی ہوگی، انصاف کا پرچم اٹھا کر کھڑا ہونا ہوگا اور ایک ایسی قوم کی تعمیر کرنی ہوگی جہاں بھلائی کو فروغ دیا جائے اور برائی سے روکا جائے۔ اسی پیغام کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔
next post
