33.1 C
Delhi
June 22, 2024
Hamari Duniya
Breaking News دہلی

دہلی فسادات، برے پھنسے طاہر حسین، الزامات طے

Tahir Hussain

نئی دہلی (ایچ ڈی بیورو)۔
دہلی کی ککڑڈوما عدالت نے 2020 کے شمال مشرقی دہلی تشدد کیس میں عام آدمی پارٹی کے سابق کونسلر طاہر حسین اور پانچ دیگر ملزمان کے خلاف قتل ، اقدام قتل اور تعزیرات ہند کی دیگر دفعات کے الزامات طے کیے ہیں۔ ایڈیشنل سیشن جج پلستیہ پرماچل نے کہا کہ ملزمان ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان ہم آہنگی کی فضا کو خراب کرنا چاہتے تھے، طاہر حسین کے علاوہ جن ملزمان کے خلاف عدالت نے فرد جرم عائد کی ان میں تنویر ملک ، گلفام ، ناظم ، قاسم اور شاہ عالم شامل ہیں۔
واقعہ 25 فروری 2020 کو چاند باغ کا ہے۔ شکایت کنندہ اجے جھا نے شکایت کی تھی کہ ان پر فسادیوں کے ہجوم نے حملہ کیا۔ اجے جھا کو گولی لگی۔ اجے جھا کو سشروت ٹاما سینٹر میں داخل کرایا گیا تھا۔ جہاں سے پولیس کو اطلاع کرنے پر شکایت درج کرائی گئی۔ شکایت کنندہ کی شکایت پر دیال پور پولیس اسٹیشن میں 2 مارچ 2020 کو ایف آئی آر درج کی گئی۔ اجے جھا کی شکایت کے مطابق 25 فروری کی شام 4 بجے جب وہ چاند باغ جاتے ہوئے طاہر حسین کے گھر کے قریب پہنچا تو اس نے دیکھا کہ طاہر حسین کی چھت سے کافی لوگ جمع ہو گئے ہیں اور وہ گولیاں برسا رہے ہیں اور ارد گرد کے گھروں پر پٹرول پھینک رہے ہیں۔ اس نے طاہر حسین ، اس کے بھائی شاہ عالم اور دیگر کو دیکھا۔ ہجوم مذہبی نعرے لگا رہے تھے۔ اس دوران گلفام نامی نوجوان نے اجے جھا پر فائرنگ کی جس سے اس کے سینے اور کندھے پر چوٹیں آئیں۔
سماعت کے دوران شکایت کنندہ نے گلفام ، طاہر حسین ، شاہ عالم ، تنویر ، ناظم اور قاسم کی شناخت کی۔ اس معاملے میں دہلی پولیس نے 28 جولائی 2020 کو چارج شیٹ داخل کی تھی۔ چارج شیٹ میں طاہر حسین ، تنویر ملک ، گلفام ، ناظم ، قاسم اور شاہ عالم پر فرد جرم عائد کی گئی۔ چارج شیٹ میں دہلی پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 147, 148, 149, 153A , 436, 307,120B اور آرمس ایکٹ کی دفعہ 27 اور 30 ??کے تحت الزامات عائد کیے تھے۔ 6 اکتوبر 2021 کو دہلی پولیس نے اس معاملے میں پہلی سپلیمنٹری چارج شیٹ داخل کی تھی۔

Related posts

یوگا سے متعلق سعودی عرب کا یہ اعلان جیت لے گا بھارت کا دل 

Hamari Duniya

پرینکا گاندھی کے استقبال میں رائے پور کی سڑکیں گلاب کے پھولوں سے بھر دی گئیں

Hamari Duniya

  ہم جنس کی شادی پر جمعیۃ علمائ ہند کی عرضی پرکیا ہے سپریم کورٹ کا موقف

Hamari Duniya