36.1 C
Delhi
May 21, 2024
Hamari Duniya
Breaking News دہلی

کچھ لوگوں کے ذریعہ علامہ اقبال پر پاکستانی ہونے کا جھوٹا الزام گڑھا جارہا ہے: سومناتھ بھارتی

DMC -Allama Iqbal

نئی دہلی(ایچ ڈی نیوز)۔
دہلی اقلیتی کمیشن میں علامہ اقبال کے یوم پیدائش کے موقع پر ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا، پروگرام کی صدارت پروفیسر عبدالحق نے کی اور مہمان خصوصی کے طور پر دہلی حکومت کے سابق وزیر اور ایم ایل اے سومناتھ بھارتی، کمیشن کے چیئرمین ذاکر خان، پروفیسر عبدالحق نے شرکت کی۔ یہ پروگرام مرکز اقبال انڈیا دہلی اور دہلی اقلیتی کمیشن کے مشترکہ زیر اہتمام منعقد کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ڈاکٹر سید احمد خان، ڈاکٹر حبیب اللہ، ڈاکٹر ارشد غیاث وغیرہ نے بطور مہمان شرکت کی۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سومناتھ بھارتی نے کہا کہ ڈاکٹر سر محمد اقبال کی عظمت اس بات سے جھلکتی ہے کہ جب ہندوستان کا ایک خلائی مشن چاند پر گیا تو ان سے پوچھا گیا کہ وہاں سے ہندوستان کیسا لگتا ہے؟سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا۔ انہوں نے کہا کہ ان سطروں نے ہندوستان کی تمام عظمتوں کو سمیٹ دیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ کوئی مذہب یا مذہبی کتابیں کبھی تقسیم کی بات نہیں کرتی ہیں۔تمام مذہبی کتابیں میں آپس میں محبت ہے، ہم آہنگی اور بھائی چارے کا پیغام دیا گیا ہے۔ ہمیں اپنے مذاہب کے بارے میں معلومات حاصل کرنی چاہئے اور اپنی مذہبی کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہیے، جب ہم ایسا کریں گے تو ہمارے ملک میں بھائی چارہ، اتحاد، ہم آہنگی بڑھے گی، آپس میں محبت بڑھے گی۔
اقبال نے بھی اپنے نغموں اور نظموں کے ذریعے یہی پیغام دینے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں کچھ لوگوں کے ذریعے کہا جا رہا ہے کہ اقبال پاکستان گئے تھے، یہ سراسر گمراہ کن اور جھوٹا الزام ہے کیونکہ اقبال 1938 میں ہی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس وقت پاکستان بھی ہندوستان میں تھا اور ہمارا ملک تقسیم نہیں ہوا تھا۔
اس موقع پر پروفیسر عبدالحق نے کہا کہ جہاں اقبال کی عظمت کی بات ہو رہی ہے وہیں میں بتانا چاہتا ہوں کہ اب تک بھارت میں 2000 سے زائد لوگ ان پر پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔روس میں 300 لوگ ان پر پی ایچ ڈی کر چکے ہیں۔ اس موقع پر دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین ذاکر خان نے کہا کہ علامہ اقبال کو جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر سید احمد خان نے کہا کہ ہمیں اقبال کی زندگی کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اقبال نے اپنی ساری زندگی قوم کی محبت میں گزار دی۔ ان کے ذریعے کہے جانے والے نغموںاور نظموں میں حب الوطنی کے جذبات سے بھرے ہوئے تھے۔ سیمینار میں ظفر احمد، شمیم احمد خان، شفیع دہلوی، عارف اقبال، فہیم احمد علیگ، حکیم مرتضیٰ دہلوی وغیرہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر سید احمد خان کے ذریعے مولوی اسماعیل میرٹھی پر لکھی گئی کتاب کا اجراءبھی کیا گیا۔ اسٹیج کی نظامت حکیم عطاءالرحمن اجمل نے کی۔

Related posts

لاکھوں فرزندان توحید کی موجودگی میں خطبہ حج میں امام کعبہ نے دیا اتحاد کا پیغام 

Hamari Duniya

دارالعلوم دیوبند کے طلبائ کیلئے انگریزی کی کوچنگ پر پابندی، سوشل میڈیا پر نئی بحث شروع

Hamari Duniya

عالمی یومِ اردوکی تیاریوں کا لیا گیا جائزہ

Hamari Duniya