33.1 C
Delhi
June 15, 2024
Hamari Duniya
Breaking News قومی خبریں

دارالعلوم فیض محمدی ہتھیا گڈھ میں تکمیل حفظ قرآن کی تقریب کا انعقاد

Takmeel Hifze Quran
آنند نگر ؍ مہراجگنج (عبید الرحمٰن الحسینی ؍ ایچ ڈی نیوز)۔
دارالعلوم فیض محمدی ہتھیاگڈھ میں جشن تکمیل حفظ قرآن کی ایک پروقار تقریب ادارہ کے سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوئی، جس میں بطور مہمان خصوصی محمود عالم ڈائریکٹر المائٹی ڈگری کالج، برجمن گنج و سنت کبیر سمادھی استھل کے شری آنندداس پرچنڈ جی کے علاوہ مدارس کے ذمہ داران، علماءکرام ، حفاظ کرام کے والدین و علاقے کے معززین کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
 تقریب کی شروعات تلاوت کلام اللہ ونعت پاک سے ہوئی، بعد ازاں حافظ ہونے والے تیرہ طلباء نے اپنے اساتذہ کے سامنے معوذتین وسورة بقرہ کی ابتدائی آیات تلاوت کرکے تکمیل حفظ قرآن کی سعادت حاصل کی۔ اس کے بعد نہ صرف یہ کہ ان تمام حفاظ کرام کی گلپوشی کی گئی اور سند سے نوازا گیا بلکہ ان کے والدین کو بھی گلوں کاہار پہناکر انہیں مبارکباد پیش کی گئی۔ حفاظ کرام کے نام وسکونت اس طرح ہے، امین الحق ابن محمد صابر نعمانی( دھریچی) محمد عفان ابن قاری ذبیح اللہ (گبڑوا) ذبیح اللہ ابن محمد اسماعیل( کلہوئی بازار ) قمرالحسن ابن محمد خلیل(چوترواں بازار) محمد اسرار ابن ماسٹر محمد احمد ( بگہا ) محمد عادل ابن نثار احمد ( گبڑوا) محمد راحل ابن محمد مسلم( پورنیہ) محمد عرفان ابن محمد مختار( پورنیہ) فیروز احمد ابن یار محمد ( برجمن گنج) محمد ابو طالب ابن اصغر علی ( بنجرہا) معراج ابن محمد طاہر ( دھریچی) اشرف علی ابن عبد القیوم ( مہراج گنج) اسلم حسین ابن محمد تفویض (دھریچی) 
 اس موقع پر دارالعلوم فیض محمدی کے سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی نے قرآن کی عظمت اور اس کی فضیلت پر پر مغز خطاب کیا، انہو ں نے کہا کہ: اللہ کی ذات سب سے بڑی ہے، اس لئے اس کا کلا م بھی سب سے اعلیٰ وارفع ہے، دنیا میں اس کلام سے بڑھ کر جادو اثر ، پر سوز ، شیریں اور سہل کلام یقینا ناپید ونایاب ہے ،خداوند قدوس کلام اس قدر فائق وممتاز ہے کہ روئے زمین پر کوئی کلام اس کا ہم پلہ نہیں ہوسکتا، لہذا اس کتاب سے رشتہ مضبوط کرنا چاہئے، کیوں کہ دنیا جانتی ہے کہ مسلمان جب تک قرآن وسنت کے ساتھ وابستہ رہے اس وقت تک بڑے بن کر عزت وقوت اور شان وشوکت کے ساتھ رہے، لیکن جب مسلمانوں کا رشتہ قرآن سے ختم ہوگیا یا کمزور پڑگیا، تو وہ ذلیل ورسوا ہوگئے۔ یاد رکھئے قرآن کی تلاوت اور اسکے معانی پر عمل کرنے سے ہی دین ودنیا میں کامیابی اور قبر سے لیکر قیامت تک تمام منزلیں آسان ہوسکتی ہیں۔ سربراہ اعلیٰ نے اس موقع پر ان حفاظ کرام کے اساتذہ حافظ ذبیح اللہ اور حافظ محمد وسیم کی قربانیوں اور محنتوں کے سبب انہیں پچاس پچاس ہزار روپئے نقدی دیکر اعزاز بخشا۔
  دارالعلوم فیض محمدی کے مہتمم مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے تمام مہمانوں کا ان کی تشریف آوری پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ : جس ادارہ میں آپ تشریف فرماں ہیں ، اس نے قیام تاسیس سے لیکر آج تک سیکڑوں حفاظ وعلماء تیارکئے ہیں، جو ملک کے طول وعرض میں اشاعت دین وتبلیغ اسلام میں مصروف ہیں، آپ نے اس موقع پر حافظ ہونے ایک درجن سے زائد طلباءکے ساتھ ساتھ ان کے اساتدہ حافظ ذبیح اللہ اور حافظ محمد وسیم صاحب کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ قرآن پاک کا اعجاز ہے کہ معصوم بچوں کے سینوں میں اتنی ضخیم کتاب نہایت آسانی سے اور قلیل مدت میں محفوظ ہوجاتی ہے:اسی حفظ قرآن کی برکت سے قیامت کے دن حافظ قرآن اپنے والدین کے لئے تاج پوشی کا ذریعہ بنے گا، نیز اسے اپنے خاندان کے دس لوگوں کی سفارش کا حق بھی ملے گا اور اسی برکت سے ان کی سفارش بھی قبول کی جائے گی۔ مولانا ندوی نے محمود عالم کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے تمام حفاظ و ان کے اساتذہ کرام کو گراں قدر نقدی انعام سے نوازا اور انہیں دعاؤں کی سوغات پیش کی۔دارالعلوم فیض محمدی کے استاذ مولانا محمد سعید قاسمی نے اپنے بیان میں کہا کہ:میرے عزیزو! آپ لوگوں نے قرآن جیسی عظیم کتاب الٰہی کو یاد کرکے اپنے سینے کو انوار وتجلیات سے معمور کیا، یہ قابل تعریف عمل ہے۔ قرآن کے نزول کے حوالہ سے آپ نے کہا کہ: یہ قرآن جب اللہ کو اتارنا ہوا، تو سب سے پہلے اللہ نے اپنے نبی کے دل کو چاک کرکے اسے مصفیٰ ومزکیٰ فرمایا، اس کے بعد اللہ نے اس دل پاکیزہ میں اپنا کلام اتارا۔ معلوم رہے کہ یہ وہی کتاب ہے جس کو اگر پہاڑ پر اتارا گیا ہوتا تو وہ ریزہ ریزہ ہوجاتا اتنی بڑی امانت کو اٹھانے سے پہاڑ جیسی بھاری بھرکم شی کے انکار کے بعد، اللہ نے اس بارعظیم کو انسان کے دوش ناتوںپر نازل فرمایا، جسے زبانی طور پر یاد کرنے کی سعادت آپ سبھی نے حاصل کی ہے۔ 
 اس موقع پر اساتذہ وطلبا سمیت احمد رشید ڈائیریکٹر مدرسہ اقرا گرلس اسکول نسواں، موہن پور ، ایڈوکیٹ مہتاب خان، ایڈوکیٹ حمیداللہ خان، ڈاکٹر ولی اللہ ندوی، مفتی محمد آصف انظار ندوی، ، حاجی مسیح اللہ خان ، منجیر مدنی اسکول،کلہوئی بازار، محمد آصف ، حافظ محمد حارث، ایس پی نیتا محمد عامر خان، مولوی ہدایت اللہ ،حافظ ضیاءالحق، مولانا اسد اللہ ، صحافی حافظ عبید الرحمان ، مولانا ذبیح اللہ ندوی، گروپرساد چوبے ، حافظ محمد اقبال، حافظ محمد ندیم، مولانا سراج الدین قاسمی، حافظ جماعت اللہ ،کے علاوہ قرب وجوار کی ایک بڑی تعداد میں مستورات موجود تھیں۔

Related posts

یوپی میں بلڈوزروں کے نشانے پر مسلمانوں کے تعلیمی اداروں، اس بڑے مسلم لیڈر کا انٹر کالج زمیں بوس

Hamari Duniya

انڈین سوچھتا لیگ : نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ

Hamari Duniya

کیا عنوان دوں میں تیری شناسائی کو نسیم اختر شاہ قیصر مرحوم

Hamari Duniya