31.7 C
Delhi
April 15, 2024
Hamari Duniya
Uncategorized

تم کیا گئے کہ رونق سیاست چلی گئی :قاری محمد طیب قاسمی 

Shafiqur rahman barq
 شفیق الرحمن برق کے انتقال پر دارالعلوم فیض محمدی میں دعائیہ نشست کا اہتمام
مہراج گنج، 28 فروری(ایچ ڈی نیوز؍ عبید الرحمٰن الحسینی )۔
سماجی وسیاسی دنیا کا بے تاج بادشاہ، مقبول وقدآور لیڈر شفیق الرحمان برق ممبر آف پارلیمنٹ کے سانحہ ارتحال پر دارالعلو م فیض محمدی ہتھیاگڑھ میں ایک دعائیہ نشست ادارہ کے سربراہ اعلیٰ مولانا قاری محمد طیب قاسمی کی صدارت میں منعقد ہوئی، اس موقع پر آپ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بعض ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کے جانے سے سیاسی افق پر بادل چھا جاتا ہے، ملی وسماجی محفلیں سونی ہوجاتی ہیں ، لوگ انہیں مدتوں یاد کرتے ہیں ۔ انہیں میں سے مقبول ترین ممبر آف پارلیمنٹ شفیق الرحمان برق بھی تھے، جن کے وجود وملی خدمات سے ملک کا کونا کونا، معطر و مشکبار تھا۔ بلاشبہ مرحوم کی سیاست ہردور میں بے داغ رہی۔ وہ ہمیشہ بے باکی سے محض انصاف کے تقاضوں کی تکمیل اور امن وقانون کی بالا دستی کے لئے آواز حق بلند کرتے رہے، جو صداقت شعاری و حق گوئی کی روشن مثالیں ہیں۔
دارالعلوم فیض محمدی کے ناظم اعلیٰ مولانا سعد رشید ندوی نے شفیق الرحمان برق کی وفات پر اپنے گہرے رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ: وہ صاف ستھری سیاست وقیادت کے امام تھے ، یقینا آپ کا انتقال بے داغ سیاسی دنیا کے لئے ایک عظیم خسارہ ہے۔ آپ کی رحلت کے بعد سیاسی صف میں ایسا عظیم خلا پیدا ہوگیا ہے جس کا پر ہونا بظاہر ممکن معلوم نہیں ہوتا، یقینا آپ کی شخصیت مختلف خصوصیات و کمالات کی حامل تھی، ملک بھر میں آپ مسلمانوں کی مضبوط آواز اور ایماندارانہ شبیہ رکھنے والے مانے جاتے تھے، ادھر کچھ عرصے سے فرقہ پرستوں کے تعصب بھرے رویوں اور نفرت آمیز باتوں سے سخت ناراض بھی تھے۔ حق وصداقت اور این آر سی و ملی مسائل پر بے باکانہ اظہار خیال پر فرقہ پرستوں کی طرف سے انہیں متعدد بار تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا، پھر بھی ان کے پایہ ثبات میں لغزش نہیں آئی، اور ببانگ دہل اپنی جرات اور دوٹوک بیانات کے ذریعہ نفرت کی سیاست کرنے والوں کو آئینہ دکھاتے رہے۔
دارالعلوم کے مہتمم مولانا محی الدین قاسمی ندوی نے اپنے بیان میں کہا کہ: بزرگ قائد شفیق الرحمان برق کی مقبولیت اور پانچ مرتبہ ممبر پارلیمنٹ منتخب ہونے پر دلیل تھی کہ آپ لوگوں کے دلوں پر حکومت کرتے تھے، ان کے ہر طرح کے سیاسی وسماجی مسائل کے لئے سینہ سپر رہا کرتے تھے، مرحوم کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع تھا، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی دینی ، سماجی قومی جدوجہد کے روشن نقوش مختلف میدانوں میں ابھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔انہوں نے پارلیمنٹ میں اپنی پارٹی میں رہتے ہوئے جس جرات وبے باکی سے ملک وقوم کے مسائل وحالات پر اظہار خیا ل کیا ہے وہ حق گوئی اور جرات بیانی کا بین ثبوت ہے۔ 
اس دعائیہ نشست میں مفتی احسان الحق قاسمی، مولانا محمد سعید قاسمی، ڈاکٹر مولانا محمد اشفاق قاسمی، مولانا وجہ القمر قاسمی، بھائی احمد رشید، مولانا ظل الرحمان ندوی، مولانا شکراللہ قاسمی، مولانا محمد صابر نعمانی، مولانا محمد یحیٰ ندوی، حافظ ذبیح اللہ، قاری وسیم احمد ، مولانا منصور عالم ندوی، ماسٹر محمد عمر خان، ماسٹر جاوید احمد، ماسٹر جمیل احمد ، ماسٹر شمیم احمد ، ماسٹر فیض احمد ، محمد قاسم کے علاوہ تمام طلباءموجود تھے۔

Related posts

دیوبند کے ممتاز و مخلص اردو صحافی رضوان سلمانی کا انتقال

Hamari Duniya

زہریلی شراب معاملہ کو لیکر کل اسمبلی احاطے میں بی جے پی کا احتجاج

Hamari Duniya

ضمنی انتخاب: کڑھنی میں 57.9 فیصد لوگوں نے اپنے حق رائے دہی کا کیااستعمال

Hamari Duniya