40.6 C
Delhi
May 20, 2024
Hamari Duniya
Breaking News قومی خبریں

کانگریس کے اقلیتی شعبے کے چیئر مین کی تقریروں سے بدلی گجرات کی فضا

Imran Pratapgarhi
 عمران پرتاپ گڑھی کے انتخابی جلسوں میں آئے عوامی سیلاب نے سیاسی پنڈتوں کوچونکا دیا ہے۔
 نئی دہلی(ایچ ڈی نیوز)۔
۔چند دن قبل سیاست میں قدم رکھنے والے عمران پرتاپ گڑھی نے اپنی تقریر کے جادو سے عوامی ہجوم کو جلسہ گاہوں میں کھینچ کر بڑے بڑے سیاسی پنڈتوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے ۔پہلے اقلیتی محکمہ کے قومی صدر اور پھر راجیہ سبھا کی رکنیت ،دونوں ہی تقرریوں کے بعد کانگریس کی پرانی لابی نے عمران کی اہلیت پر سوال کھڑے کئے لیکن عمران پرتاپ گڑھی نے جس طرح ’ بھارت جوڑو ےاترا ‘ میں اپنے شعبے کی مضبوط موجودگی درج کرائی اس نے نکتہ چینی کرنے والوں کے منہ پر تالا لگادیا۔
Imran- Pratapgarhi
گجرات الیکشن میں ریلی کے دوران عوام سے ملتے ہوئے عمران پرتاپ گڑھی
اب جبکہ پوری کانگریس پارٹی ’ بھارت جوڑو یاترا ‘ کے سفر میں مصروف ہے۔، بڑے بڑے قد آور اور تجربہ کار لیڈر یا تو گجرات آنا ہی نہیں چاہتے یا امیدوار ان سے پروگرام کا مطالبہ ہی نہیں کر رہے ہیں۔ دونوں ہی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو آج کی تاریخ میں اگر کوئی اسٹار پرچارک کی مانگ ہے تو بلاشبہ عمران پرتاپ گڑھی ہی ہیں۔
ذرائع کے حوالے سے یہ حقیقت اجاگر ہوئی ہے کہ سامنے کہ راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے بعدگجرات کے کانگریسی امیدوار عمران کی سب سے زیادہ مانگ کر رہے ہیں، گجرات جیسی حساس ریاست میں عمران پرتاپ گڑھی نے ایک جس قدر سدھی ہوئی سیاسی تقریر کی ہے اس سے بی جے پی بھی پریشان، عمران کے کسی بھی جلسے میں پرجوش نوجوانوں کا ہجوم دیکھا جا سکتا ہے، وڈگام میں جگنیش میوانی کے جلسے میں کی گئی عمران کی تقریر سوشل میڈیا پر وائرل ہے ۔ موربی کے جلسے میں عمران نے جو جذباتی اپیل کی ہے وہ عمران کو روایتی قائدین سے منفرد کررہی ہے۔
گجرات الیکشن میں ریلی کے دوران عوام سے خطاب کرتے ہوئے عمران پرتاپ گڑھی
گجرات الیکشن میں ریلی کے دوران عوام سے خطاب کرتے ہوئے عمران پرتاپ گڑھی
سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس طرح سے عمران پرتاپ گڑھی گجرات کی حکومت پر شدید،سخت اور زور دار حملہ کرتے ہوئے سنسکرت کے اشلوک،محاورات اور عام ہندی زبان کا استعمال کر رہے ہیں، اس سے بھاجپا کی لابی ان کی تقریر پر فرقہ واریت کا ٹھپہ تک بھی نہیں لگا پا رہی ہے۔
گجرات الیکشن بہت دلچسپ مراحل میں داخل ہوچکا ہے ۔اویسی کے ساتھ کیجریوال کی اینٹری نے اس میں ایک الگ ہی رنگ کا تڑکا لگا دیاہے ۔ابتدا میں ایسا لگتا تھا کہ عمران کو اویسی کی کاٹ کے لیے لایا گیا ہے۔لیکن اب لگتا ہے کہ عمران کی چند چناوی میٹنگوں کے بعد ہی گجرات کی اقلیتی اکثریت والی نشستوں کے ساتھ ساتھ دیگر نشستوں پر بھی عمران کی مانگ بڑھ گئی ہے۔آج جب کانگریس کے باقی اسٹار پرچارک دور دور تک نظر نہیں آرہے ہیں، عمران کے مسلسل مطالبے نے راہل گاندھی کے فیصلے کو درست ثابت کردیا ہے۔ایسا لگتا ہے کہ عمران مستقبل میں کانگریس کا مضبوط ستون بننے کے راستے پر ہیں۔

Related posts

 یونیفارم سول کوڈ آئین میں دئیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم ، ناقابل قبول اور ملک کی یکجہتی اور سالمیت کے لئے نقصاندہ ہے: مولانا ارشد مدنی

Hamari Duniya

دارالعلوم دیوبند آزاد قانونی تعلیمی ادارہ ہے:مفتی ابوالقاسم نعمانی 

Hamari Duniya

میئر کے انتخاب میں بی جے پی کی گندی سیاست کے خلاف ’عام آدمی پارٹی پہنچی سپریم کورٹ

Hamari Duniya