’’بزمِ جامعہ‘‘ شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیرِ اہتمام دو روزہ انٹریونیورسٹی مقابلوں اور ثقافتی تقاریب کا انعقاد
نئی دہلی ، 15فروری: ’’بزمِ جامعہ‘‘ (سبجیکٹ ایسوسی ایشن) شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے زیرِ اہتمام دو روزہ انٹریونیورسٹی مقابلوں اور ثقافتی تقاریب پر مبنی جشنِ ’’آبشار‘‘ کا نہایت یادگار اورشاندار انعقاد عمل میں آیا۔ یہ دو روزہ تقاریب جامعہ کے ایم اے انصاری آڈیٹوریم اور فیکلٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی آڈیٹوریم جیسے باوقار اور وسیع و عریض ہالوں میں منعقد ہوئیں۔ اس ادبی و ثقافتی جشن کے سرپرستِ اعلیٰ وائس چانسلر جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر مظہر آصف، سرپرست رجسٹرار جامعہ ملیہ اسلامیہ پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، سربراہ ڈین فیکلٹی برائے انسانی علوم و السنہ پروفیسر اقتدار محمد خاں اور نگرانِ اعلیٰ صدر بزمِ جامعہ و صدر شعبۂ اردو پروفیسر کوثرمظہری تھے۔
تقریب کے افتتاحی اجلاس میں پروفیسر اقتدار محمد خاں نے بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت کرتے ہوئےکہا کہ اس طرح کی سرگرمیوں سے طلبا کی ذہنی، فکری، تقریری اور تحریری صلاحیتوں کی نشوونما ہوتی ہے۔ پروفیسر کوثر مظہری نے اس موقع پر طلبا کو ہدایت کی کہ وہ اپنی شخصیت کے ارتقا کے لیے سبجیکٹ ایسوسی ایشن میں فعال کردار ادا کریں۔ جشن کے جلسۂ تقسیمِ انعامات میں عہدِحاضر کے ممتاز شاعر اور مہمان خصوصی پروفیسر شہپر رسول نے بزمِ جامعہ کو شعبۂ اردو کے طلبا و طالبات کی ہمہ جہت تربیت کے لیے ایک نہایت مؤثر اور سرگرم تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بزم نے طلبا کی شخصیت سازی میں غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’آبشار‘‘ نژادِ نو کا ایک تخلیقی، ادبی اور ثقافتی مظہر ہے۔ بزمِ جامعہ کے ایڈوائزر ڈاکٹر خالد مبشر نے بتایا کہ آبشار میں جواہرلال نہرو یونیورسٹی، دہلی یونیورسٹی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ہمدرد اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے درجنوں شعبوں اوردہلی کے متعدد کالجوں کے دو سو سے زائد طلبا و طالبات نے مختلف انعامی مقابلوں میں حصہ لیا۔ اس موقع پر ڈبیٹ بہ عنوان ’’مصنوعی ذہانت ادب کے لیے مضر ہے‘‘، بیت بازی، ادبی کوئز، غزل سرائی، آن اسپاٹ شاعری، آن اسپاٹ کہانی نویسی، خطاطی اور پینٹنگ کے مقابلوں کا انعقاد کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک منفرد نوعیت کا مقابلہ غالب کے عہد، زندگی ، شخصیت اور کارناموں پر مشتمل تصویری نمائش پر مبنی تھا۔ مختلف مقابلوں میں پروفیسر انور پاشا، نعمان شوق، علینا عترت، پروفیسر جسیم احمد، پروفیسر شاہ ابوالفیض، ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی، ڈاکٹر واحد نظیر جیسی معتبر اور باوقار شخصیات نے جج کے فرائض انجام دیے ۔ اس کے علاوہ پروفیسر شہزاد انجم، پروفیسر احمد محفوظ، ڈاکٹر سیدتنویر حسین، ڈاکٹر مشیر احمد اور ڈاکٹر جاوید حسن نے بھی مختلف مقابلوں میں حکم کا فریضہ انجام دیا۔
اس جشنِ ’’آبشار‘‘ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں صرف انعامی مقابلوں کا ہی انعقاد نہیں کیا گیا، بلکہ داستان گوئی، شامِ غزل اور طلبا و طالبات پر مشتمل ’’مشاعرۂ نوبہار‘‘ جیسی رنگارنگ ثقافتی تقاریب کا بھی اہتمام کیا گیا۔ ان تقاریب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دونوں دن ہال سامعین سے کھچاکھچ بھرے رہے۔ کفیل جعفری نے اپنے منفرد طرزِ پیش کش سے داستان کی ایک طلسمی فضا قائم کی، تو مہران شاہ نے اپنے خوبصورت آواز و انداز و ادا سے غزل کی ایک رنگین شام سجا دی۔ اسی طرح مشاعرۂ نوبہار میں اے ایم یو ، جے این یو، ڈی یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا و طالبات اور ریسرچ اسکالرز نے شعروسخن کی ایک یادگار محفل بپا کر دی۔
