36.1 C
Delhi
May 21, 2024
Hamari Duniya
Breaking News دہلی

’بزم جامعہ‘ طلبہ و طالبات کی نہایت فعال ادبی و ثقافتی تنظیم ہے: پروفیسر احمد محفوظ

جامعہ بزم ادب

نئی دہلی03 فروری(ایچ ڈی نیوز)۔

سمینار ہال، شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کی فضا اس وقت سحر انگیز ہوگئی جب ماہر میریات پروفیسر احمد محفوظ نے حزنیہ لے میں میر کی مشہور غزل ”دیکھ تو دل کے جاں سے اٹھتا ہے“ ترنم کے ساتھ چھیڑ دی۔شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سبجیکٹ ایسوسی ایشن ”بزم جامعہ“ کے زیر اہتمام غزل سرائی، مضمون نگاری اور طرحی غزل گوئی پر مشتمل انٹرفیکلٹی مقابلوں کا انعقاد کیا گیا، جن میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مختلف شعبوں سے انڈر گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن کے 28 طلبا و طالبات نے حصہ لیا۔ افتتاحی کلمات میں صدر شعبہ پروفیسر احمد محفوظ نے کہا کہ ’بزم جامعہ‘ طلبہ و طالبات کی نہایت فعال ادبی و ثقافتی تنظیم ہے، جس کا مقصد طلبا کا شخصی ارتقا اور پوشیدہ جوہر کی نمو پذیری ہے۔ غزل سرائی مقابلے میں جج کے فرائض انجام دیتے ہوئے معروف ترجمہ نگار اور شاعر ڈاکٹر سہیل احمد فاروقی نے کہا کہ غزل سرائی بنیادی طور پر آواز کی تہذیب کاری، حسن انتخاب، طرز ادا، آہنگ، تلفظ اور شعری ذوق کا امتحان ہے۔

دوسرے جج مشہور شاعر پروفیسر رحمن مصور نے کہا کہ غزل سرائی کو ثقافتی زندگی کی روح قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوت و صدا، موسیقی، لفظ و معنی کی ہم رشتگی اور کیفیات کے ظہور و نمود کے لیے یہ ایک خوبصورت وسیلہ ہے۔ ایڈوائزر بزم جامعہ ڈاکٹر خالد مبشر نے کہا کہ یہ شعبۂ اردو کے طلبا و طالبات کی ایک پرانی تنظیم ہے۔ اس کے ذریعے زرخام کو کندن بنانے کا جاں گسل عمل انجام دیا جاتا ہے۔مضمون نگاری مقابلے میں 41 طلبا نے حصہ لیا۔ اس مقابلے کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کا عنوان ”سوشل میڈیا اور سماج کا رشتہ“ شرکائے مقابلہ کو عین اسی وقت بتایا گیا تھا۔ اس مقابلے میں نگراں کے فرائض ڈاکٹر مشیر احمد، ڈاکٹر سید تنویر حسین، ڈاکٹر راہین شمع اور ڈاکٹر خوشتر زریں ملک نے انجام دیے۔ طرحی غزل گوئی کا مقابلہ منعقد کیا گیا۔ اس مقابلے میں عین موقعے پر شرکائے مقابلہ کو دو مصرعِ طرح ”دیر و حرم سے گزرے اب دل ہے گھر ہمارا“ (میر) اور ”کوئی امید بر نہیں آتی“ (غالب) دیے گئے، جس میں مختلف شعبوں سے 19 طلبہ و طالبات نے طبع آزمائی کی۔ اس مقابلے میں ڈاکٹر محمد مقیم اور ڈاکٹر غزالہ فاطمہ نے نگراں کے فرائض انجام دیے۔ مقابلہئ غزل سرائی میں 21 طلبہ و طالبات نے حصہ لیا جس میں محمد آصف اقبال انصاری (شعبۂ تعلیمات) کو اول انعام کا مستحق قرار دیا گیا۔ تابینہ شبیر (شعبۂ اردو) اور زینب مہدی (شعبۂ اردو)کو بالترتیب دوم اور سوم انعام دیے جانے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے علاوہ شاہ گلاب اور محمد مہتاب عالم کو تشجیعی انعامات سے نوازنے کا فیصلہ لیا گیا۔ پروفیسر سرورالہدیٰ، ڈاکٹر راہین شمع اور ڈاکٹر غزالہ فاطمہ اس مقابلے کے نگراں تھے۔

بزم جامعہ کے جنرل سکریٹری عبدالرحمن نے نظامت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دیے۔ جوائنٹ سکریٹری داؤد احمد، خازن زاہد اقبال اور اراکین مہتاب عالم علیمی، عبدالواحد رحمانی، اقرا خاتون، مسکان، نبیلہ کوثر اور رضاالرحمن نے ان مقابلوں کے انعقاد میں فعال کردار ادا کیا۔ اس موقعے پر پروفیسر خالد جاوید، پروفیسر ندیم احمد، پروفیسر عمران احمد عندلیب، ڈاکٹر شاہ عالم، ڈاکٹر محمد آدم، ڈاکٹر جاوید حسن، ڈاکٹر ساجد ذکی فہمی، ڈاکٹر شاہ نواز فیاض، ڈاکٹر ثاقب عمران، ڈاکٹر نوشاد منظر، ڈاکٹر روبینہ شاہین زبیری کے علاوہ بڑی تعداد میں ریسرچ اسکالر اور طلبا و طالبات موجود تھے۔

Related posts

بھارت جوڑو یاترا خیر و خوبی کے ساتھ اختتام پذیر

Hamari Duniya

مدارس سے اسلامی محافظین کا دستہ تیار ہوکر اشاعتِ اسلام میں سرگرم عمل رہتا ہے:بلیاوی

Hamari Duniya

بی جے پی نے دہلی حج کمیٹی کے عہدہ پر قبضہ کرلیا، کوثر جہاں چیئرپرسن منتخب، میئر کے انتخاب سےقبل ٹیلر تو نہیں

Hamari Duniya