2.4 C
New York
مارچ 4, 2026
Articles مضامینTop News

سعودی عرب پر حملہ: خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی

سعودی عرب

ڈاکٹر طارق صفی الرحمن مبارکپوری
صدر آل انڈیا ایجوکیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن
بین الاقوامی نظام کی بنیاد ریاستوں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر قائم ہے۔ کسی بھی ملک پر حملہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی روح کے منافی ہے۔ اقوام متحدہ کا منشور واضح طور پر اس بات پر زور دیتا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے نکالا جائے۔ لہٰذا سعودی عرب پر حالیہ حملہ نہ صرف ایک خودمختار ریاست کی سلامتی پر ضرب ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن و استحکام کے لیے تشویش ناک اشارہ بھی ہے۔ ایسے اقدامات خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور عالمی سطح پر سیاسی و معاشی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
سعودی عرب اسلامی دنیا میں خصوصی مذہبی و سیاسی اہمیت رکھتا ہے۔ اس لیے اس پر حملہ محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ جذباتی اور مذہبی حساسیت بھی رکھتا ہے۔ نیز مشرق وسطی میں سعودی عرب کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کے مانند ہے ، اس کی تنصیبات اور اراضی پر حملہ نہ صرف پورے خطے کو بلکہ تمام عالم کو ضرب لگانے جیسا ہے ،اقتصادی اعتبار سے سعودی عرب عالمی توانائی منڈی میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی سرزمین یا تنصیبات پر حملے سے تیل کی رسد، عالمی منڈیوں اور اقتصادی استحکام پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں عدم استحکام دیگر ممالک کو بھی متاثر کر سکتا ہے، جس سے سفارتی تعلقات اور سلامتی کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔
صرف پروپیگنڈہ اور غلط الزامات کو بنیاد بنا کر کسی ملک پر حملہ کرنا نہ صرف بے وقوفی اور طاقت کا بے موقع اظہار ہے، اس لئے ضرورت ہے کہ اپنی غلطیوں پر کھلے دل سے معافی طلب کر یں، قابل تعریف ہیں سعودی عرب اور خلیج کے وہ ممالک جو موجودہ کشیدہ حالات میں بھی تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کررہے ہیں اور عسکری ردعمل کی بجائے سنجیدہ اقدامات سے خطےکے امن وامان کو برقرار رکھنے کی سعی مسعود کر رہے ہیں یقینا یہ خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچا نے کی بہترین کوشش ہے ۔
اس موقع پر عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں کو دوہرے معیار سے گریز کرتے ہوئے اصولی موقف اپنانا ہوگا۔انہیں چاہیے کہ کشیدگی کم کرنے میں فعال کردار ادا کریں۔ انصاف اور مساوات پر مبنی ردعمل ہی عالمی اعتماد کو برقرار رکھ سکتا ہے۔غیر جانبدارانہ تحقیقات، سفارتی دباؤ اور مذاکرات کی سرپرستی ایسے اقدامات ہیں جو صورتحال کو بگڑنے سے روک سکتے ہیں۔ عالمی امن ایک مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اس کی حفاظت کے لیے اجتماعی کاوشیں ناگزیر ہیں۔ ہم اس سلسلے میں حکومت ہند کی جانب سے جاری کئے گئے مذمتی بیان اور سعودی عرب کے ساتھ موجودہ حالات میں کھڑے کی تائید کرتے ہیں ، یہ ایک بہترین قدم ہے دیگر ممالک کو بھی اس سلسلے میں مثبت قدم اٹھاتے ہوئےظالم کے ہاتھ روکنے مدد فراہم کرنی چاہئے۔
یہ بات بھی یاد رہے کہ موجودہ دور میں میڈیا اور سوشل میڈیا رائے عامہ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ غیر مصدقہ خبروں اور اشتعال انگیز بیانات سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ ذمہ دار صحافت اور درست معلومات کی فراہمی بحران کو کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔

 

Related posts

قطر نے خط لکھ کر اقوام متحدہ سے ایران کی شکایت کی

Hamari Duniya News

سی آر پی ایف کیمپ رامپور حملہ: پھانسی اور عمر قید کی سزائیں ختم کرنے والے الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج 

Hamari Duniya News

آسام کے وزیراعلیٰ ہیمنتا کی نفرت انگیز بیانات کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی جمعیۃ علماء ہند 

Hamari Duniya News