نئی دہلی، 02 مارچ : ایسو سی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے۔ پی۔ سی۔ آر) نے دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں "افطار و ڈنر برائے یکجہتی: امید، استقامت اور انصاف” کے عنوان سے ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا۔ اس شاندار تقریب میں سیاسی قیدیوں کے اہلِ خانہ، سینئر وکلاء، نامور سماجی کارکنان، معروف صحافیوں، اہم سول سوسائٹی کے نمائندوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی معزز شخصیات نے شرکت کی اور اجتماعی یادداشت اور عزمِ نو کا مظاہرہ کیا۔
رمضان المبارک کی روحانی فضا میں منعقدہ اس افطار تقریب کا محور جیلوں میں قید و بند کی صعوبتوں سے گزر رہے اُن اسیرانِ ضمیر اور ان کے خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی تھا جو طویل عرصے سے آزمائشوں، معاشی دباؤ اور سماجی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ محض افطار کی ایک رسمی نشست بھر ہی نہیں تھی بلکہ انصاف، انسانی وقار اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ اخلاقی ذمہ داری کی تجدید تھی۔
معروف سماجی کارکن گوتم نولکھا نے اپنے خطاب میں اجتماعی جدوجہد کی ناگزیر اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "سول سوسائٹی مردہ نہیں تصور کی جائیگی۔ جب تک ایسے لوگ اور اس طرح کی تقریب منعقد ہوتی رہیں گی، یقینا ابھی ہم زندہ ہیں۔” ان کے یہ الفاظ حاضرین کے لیے حوصلے اور استقامت کا پیغام ثابت ہوئے۔
جیل میں قید ڈاکٹر عمر خالد کے والد اور معروف صحافی ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے متاثرہ خاندانوں کے صبر و استقامت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مواقع نہ صرف اخلاقی اور جذباتی سہارا فراہم کرتے ہیں بلکہ یہ واضح اعلان بھی ہوتے ہیں کہ ان کی جدوجہد نہ تو نظرانداز کی جا سکتی ہے اور نہ ہی فراموش کی جائے گی۔
سری نگر سے رکنِ پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے اپنے پُراثر خطاب میں تقریب کے ظاہری پہلوؤں کے بجائے اس کے اخلاقی جوہر پر توجہ مرکوز کی۔ انہوں نے کہا کہ اس تقریب کی اصل قدر کھانے یا سماجی میل جول میں نہیں ہے بلکہ اس مشترکہ مقصد میں ہے جس نے سب کو یکجا کیا ہے۔ انہوں نے اُن افراد کی قربانیوں کا ذکر کیا جو حق و صداقت کی آواز بلند کرنے کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ موجودہ خوف اور غیر یقینی کی فضا کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ قدم بعض اوقات لڑکھڑاتے ہیں، مگر انصاف کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہونا اور جدوجہد جاری رکھنا ایک اخلاقی فریضہ ہے۔
تقریب نے اس حقیقت کو بھی اجاگر کیا کہ ہر اسیر کے پیچھے ایک خاندان ہوتا ہے جو جذباتی اذیت، معاشی دشواریوں اور سماجی چیلنجز سے نبردآزما ہے۔ ان خاندانوں کے لیے علامتی طور پر دسترخوان پر نشستیں محفوظ رکھ کر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ قید خانوں کی دیواریں یادداشت اور یکجہتی کو محدود نہیں کر سکتیں ہیں۔
اے۔ پی۔ سی۔ آر کے نیشنل سکریٹری ندیم خان نے کہا کہ ہمارا کوشش اس عزم کا اعادہ ہے کہ وہ آئینی اقدار، انسانی حقوق اور انصاف کے لیے اپنی پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے، اور ہر اس خاندان کے ساتھ کھڑی رہے جو ناانصافی کا سامنا کر رہا ہے۔
تقریب میں دہلی کے سابق لیفٹیننٹ جنرل نجیب جنگ۔ پٹنہ ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اقبال احمد انصاری۔ رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد جاوید، رکن پارلیمنٹ مولانا محب اللہ ندوی۔ انڈین ملمس فار سول رائٹس کے چئرمین اور سابق رکن محمد ادیب، سابق رکن پارلیمنٹ کنور دانش علی۔ سابق سفیر اور رکن پارلیمنٹ میم افضل۔ سابق سفارتکار ڈاکٹر اشوک شرما، پلاننگ کمیشن کی سابق رکن سیده سیدین حمید، سابق میجر جنرل جاوید اقبال خان اور جماعت اسلامی ہند کے نائب صدر ملک معتصم خان سمیت درجنوں اہم شخصیات کی موجودگی نے تقریب میں اسیران کے اہل خانہ کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ اے۔ پی۔ سی۔ آر کی کوششوں کی جم کر ٹیرف بھی کی۔
